دبئی (رائٹرز): اسرائیل اور لبنان نے دشمنی ختم کرنے کے لیے جنگ بندی کے نفاذ پر اتفاق کر لیا ہے، جسے امریکی انتظامیہ نے خطے میں جاری وسیع تنازع خصوصاً ایران جنگ کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق یہ جنگ بندی اس شرط سے مشروط ہے کہ ایران نواز حزب اللہ مکمل طور پر فائرنگ بند کرے اور جنوبی لبنان کے مخصوص علاقوں سے اپنے جنگجوؤں کو واپس بلائے۔ اس حوالے سے واشنگٹن میں ہونے والے مذاکرات کے بعد مشترکہ بیان جاری کیا گیا۔

تاہم صورتحال اب بھی کشیدہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق کویت میں ہونے والے حملوں میں 60 سے زائد افراد زخمی ہوئے جبکہ کویت ایئرپورٹ کو بھی نقصان پہنچا اور پروازیں عارضی طور پر معطل کر دی گئیں۔ اسی دوران امریکی افواج نے آبنائے ہرمز کے قریب اور ایران کے جزیرہ قشم میں مختلف اہداف پر کارروائی کی ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایران کے میزائل حملوں کو روکنے کے لیے میزائل انٹرسیپٹ کیے ہیں، جبکہ ایران کی جانب سے مختلف دعوے کیے گئے ہیں جن کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے مطابق اس نے جنوبی ایران میں دفاعی کارروائیاں کرتے ہوئے میزائل لانچنگ سائٹس اور مشتبہ کشتیوں کو نشانہ بنایا ہے۔

دوسری جانب خطے میں کشیدگی کے باوجود ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ فریقین کے درمیان پیش رفت ہو سکتی ہے اور ممکن ہے کہ آئندہ چند دنوں میں کسی معاہدے کی سمت پیش رفت سامنے آئے۔

ایران کا کہنا ہے کہ مذاکرات ختم نہیں ہوئے لیکن اب تک کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہوئی۔ تہران نے اپنے مؤقف میں لبنانی محاذ پر لڑائی کے خاتمے، اقتصادی پابندیوں میں نرمی اور تیل کی برآمدات پر عائد پابندیوں میں ریلیف جیسے مطالبات بھی شامل کیے ہیں۔

اسرائیلی کارروائیوں کے دوران جنوبی لبنان میں فضائی اور ڈرون حملوں میں مزید ہلاکتوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں، جس سے جنگ بندی کے باوجود صورتحال غیر مستحکم دکھائی دے رہی ہے۔

خطے میں جاری کشیدگی نے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں پر بھی اثر ڈالا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث توانائی کی ترسیل متاثر ہوئی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر یہ جنگ بندی برقرار رہتی ہے تو یہ ایران اور امریکہ کے درمیان کسی بڑے معاہدے کی طرف اہم قدم ہو سکتا ہے، تاہم زمینی حقائق اب بھی غیر یقینی صورتحال کی نشاندہی کر رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *