آج کوئٹہ کی وحدت کالونی سے ایک دلخراش واقعہ سامنے آیا، جس کی بنیادی وجہ بظاہر گھر خالی کروانے کے لیے بلیک میلنگ معلوم ہوتی ہے۔
کوئٹہ میں سرکاری کالونیوں کی صورتِ حال یہ ہے کہ بعض افراد نہ صرف خود کئی نسلوں سے ان گھروں میں آباد ہیں بلکہ اس کوشش میں بھی رہتے ہیں کہ کسی ملازم کی وفات یا ریٹائرمنٹ کے بعد خالی ہونے والا گھر اپنے کسی رشتہ دار کے نام الاٹ کروا لیں۔ نتیجتاً چند خاندان ہی ان کالونیوں پر مستقل طور پر قابض رہتے ہیں۔
مزید یہ کہ اگر کوئی شخص اپنی مرضی سے سرکاری گھر خالی کرکے اپنے ذاتی گھر میں منتقل ہونا بھی چاہے تو مبینہ طور پر اس کی الاٹمنٹ بیس لاکھ روپے یا اس سے زائد رقم کے عوض فروخت کی جاتی ہے۔
معاملہ یہیں ختم نہیں ہوتا۔ حکومتِ بلوچستان ان گھروں کی مرمت و بحالی کے لیے ہر سال خطیر فنڈز مختص کرتی ہے، مگر یہ فنڈز کن بنیادوں پر اور کن افراد میں تقسیم کیے جاتے ہیں، یہ خود ایک الگ داستان ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت سرکاری کالونیوں کے موجودہ نظام پر سنجیدگی سے نظرِ ثانی کرے۔ ان کالونیوں کو بتدریج ختم کرکے سرکاری ملازمین کو آسان اقساط اور مناسب مالی سہولیات کے ذریعے اپنے ذاتی گھر تعمیر یا خریدنے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ اس سے نہ صرف سرکاری وسائل کے ضیاع میں کمی آئے گی بلکہ اجارہ داری، اقربا پروری اور بدعنوانی کے امکانات بھی کم ہوں گے۔
