jahaneimroz
Chief editor Faizullah Durrani

بلوچستان میں ماحولیاتی مسائل سنگین صورتحال اختیار کر رہے ہیں، مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں، ظاہر خان ناصر

حکومت، میڈیا، ماہرین، سول سوسائٹی اور عوام کو مشترکہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بلوچستان کو ماحولیاتی بحران سے محفوظ بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا'صدر بی ایف ای جے

کوئٹہ (اے این این) بلوچستان فورم آف انوایرمنٹل جرنلسٹس کے صدر ظاہر خان ناصر نے کہا ہے کہ بلوچستان میں ماحولیاتی مسائل تیزی سے سنگین صورتحال اختیار کر رہے ہیں، موسمیاتی تبدیلی، پانی کی قلت، جنگلات میں کمی، فضائی آلودگی، غیر ضروری درختوں کی کٹائی اور ماحولیاتی قوانین پر مؤثر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث صوبے کو مستقبل میں بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

حکومت، متعلقہ اداروں، ماہرین ماحولیات، میڈیا اور سول سوسائٹی کو مل کر ماحولیاتی تحفظ کے لیے ٹھوس اور دیرپا اقدامات کرنا ہوں گے۔اپنے ایک بیان میں ظاہر خان ناصر نے کہا کہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے، تاہم یہاں ماحولیاتی مسائل بھی اپنی نوعیت کے اعتبار سے انتہائی اہم ہیں۔ پانی کے محدود ذخائر، خشک سالی، بڑھتا ہوا درجہ حرارت، بارشوں کے غیر معمولی رجحانات اور جنگلات و قدرتی وسائل پر بڑھتے ہوئے دباؤ نے ماحول کے تحفظ کو ایک اہم قومی اور صوبائی مسئلہ بنا دیا ہے

۔انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات صرف ماحول تک محدود نہیں رہتے بلکہ اس کے براہ راست اثرات انسانی زندگی، زراعت، مال مویشی، صحت، معیشت اور روزگار پر مرتب ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں پانی کی دستیابی پہلے ہی ایک بڑا مسئلہ ہے، ایسے میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔ظاہر خان ناصر نے کہا کہ ماحولیاتی تحفظ کے لیے محض اعلانات کافی نہیں بلکہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔

شجرکاری مہمات کے ساتھ ساتھ موجودہ جنگلات اور قدرتی ماحول کے تحفظ پر بھی خصوصی توجہ دینا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ درخت لگانے کے بعد ان کی دیکھ بھال، پانی کی فراہمی اور حفاظت کو بھی یقینی بنانا ضروری ہے، بصورت دیگر شجرکاری کی مہمات مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کرسکیں گی۔صدر بلوچستان فورم آف انوایرمنٹل جرنلسٹس نے کہا کہ بلوچستان میں پانی کے مسئلے کو ہنگامی بنیادوں پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔

زیر زمین پانی کے بے دریغ استعمال، پانی کے ضیاع اور بارش کے پانی کو محفوظ بنانے کے لیے مؤثر حکمت عملی اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے، چھوٹے ڈیمز اور دیگر آبی منصوبوں کو فروغ دے کر پانی کے بحران پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کے لیے شہری علاقوں میں صفائی ستھرائی، کچرے کو مناسب طریقے سے ٹھکانے لگانے، پلاسٹک کے استعمال میں کمی اور فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے عملی اقدامات ضروری ہیں۔ کوئٹہ سمیت بڑے شہروں میں بڑھتی ہوئی آبادی اور ٹریفک کے دباؤ کے باعث ماحولیاتی مسائل پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

ظاہر خان ناصر نے کہا کہ ماحولیاتی قوانین موجود ہونے کے باوجود اصل چیلنج ان پر مؤثر اور غیرجانبدارانہ عملدرآمد ہے۔ متعلقہ اداروں کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی اور ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ماحول کو نقصان پہنچانے والی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے نگرانی کا نظام مزید مضبوط کیا جائے۔

انہوں نے میڈیا کے کردار پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ صحافی اور میڈیا ادارے ماحولیاتی مسائل کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ ماحولیاتی صحافت کو فروغ دے کر عوام میں شعور بیدار کیا جاسکتا ہے اور حکومتی اداروں کی توجہ ان مسائل کی جانب مبذول کرائی جاسکتی ہے جو بظاہر معمولی دکھائی دیتے ہیں لیکن مستقبل میں سنگین بحران کی شکل اختیار کرسکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ماحولیاتی صحافت صرف درختوں، آلودگی یا موسم کی رپورٹنگ تک محدود نہیں بلکہ یہ انسانی زندگی، صحت، پانی، زراعت، معیشت اور آنے والی نسلوں کے مستقبل سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ صحافیوں کو ماحولیاتی مسائل پر تحقیقاتی اور ذمہ دارانہ رپورٹنگ کو فروغ دینا چاہیے تاکہ عوام اور فیصلہ سازوں کو حقیقی صورتحال سے آگاہ کیا جاسکے۔

ظاہر خان ناصر نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں بھی ماحولیاتی شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ طلبہ کو ماحول، پانی کے تحفظ، شجرکاری، صفائی اور قدرتی وسائل کے ذمہ دارانہ استعمال کے حوالے سے آگاہی فراہم کی جائے تاکہ نئی نسل کو ماحول دوست معاشرے کی تشکیل میں شریک کیا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ماحول کے تحفظ کے لیے حکومتی اداروں کے ساتھ ساتھ عوامی شمولیت بھی ناگزیر ہے۔

شہری اگر پانی کے ضیاع کو روکنے، کچرا مناسب جگہ پر پھینکنے، درختوں کی حفاظت اور شجرکاری میں اپنا کردار ادا کریں تو ماحولیاتی بہتری کے عمل کو مزید مؤثر بنایا جاسکتا ہے۔بلو

چستان فورم آف انوایرمنٹل جرنلسٹس کے صدر نے مطالبہ کیا کہ صوبے میں ماحولیاتی پالیسیوں پر مؤثر عملدرآمد، جنگلات کے تحفظ، پانی کے ذخائر کی بحالی، شجرکاری، آلودگی پر قابو پانے اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی کی جائے۔

ظاہر خان ناصر نے مزید کہا کہ بلوچستان کے قدرتی وسائل اور ماحول کا تحفظ صرف موجودہ نسل نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کی بھی ذمہ داری ہے۔ اگر آج ماحولیاتی مسائل کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو مستقبل میں ان کے اثرات کہیں زیادہ سنگین ہوسکتے ہیں۔

حکومت، میڈیا، ماہرین، سول سوسائٹی اور عوام کو مشترکہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بلوچستان کو ماحولیاتی بحران سے محفوظ بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More