jahaneimroz
Chief editor Faizullah Durrani

سپریم کورٹ کا عمران خان کو نجی سپتال منتقل کرنے اور میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم

جسٹس شاہد وحید کی بانی پی ٹی آئی کا تمام میڈیکل ریکارڈ آئندہ سماعت سے قبل جمع کرانے کی ہدایت
عمران خان کیلئے میڈیکل بورڈ تشکیل دیاجائے، ہسپتال کے باہر امن و امان کی صورتحال متاثر نہیں ہونی چاہیے، عدالت عظمیٰ
ہفتے میں ایک دن اہلخانہ سے بھی بانی پی ٹی آئی ملاقات کرائی جائے،پی ٹی آئی اور فیملی کو بیانِ حلفی دینا ہوگا ملاقات کے بعد کوئی میڈیا ٹاک نہیں ہوگی، عدالت عظمیٰ
پی ٹی آئی کو بانی کی صحت پر سیاست نہیں کرنی چاہیے، جسٹس نعیم افغان…بانی پی ٹی آئی سے 3سال کے دوران بہنوں کی ملاقاتوں کی تمام تفصیلات طلب

اسلام آباد(بیورورپورٹ)سپریم کورٹ آف پاکستان نے بانی پی ٹی آئی کو اگلی سماعت تک شفا ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کیلئے میڈیکل بورڈ تشکیل دیاجائے، ہسپتال کے باہر امن و امان کی صورتحال متاثر نہیں ہونی چاہیے۔ منگل کو جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور علاج سے متعلق درخواستوں پر سماعت کی۔

بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور علاج سے متعلق مقدمات کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے جسٹس شاہد وحید نے استفسار کیا بانی پی ٹی آئی کا میڈیکل ریکارڈ دینے میں کیا مسئلہ ہے؟ جو مواد دیا گیا ہے وہ صرف میڈیکل رپورٹ کی سمری ہے۔جسٹس شاہد وحید نے بانی پی ٹی آئی کا تمام میڈیکل ریکارڈ آئندہ سماعت سے قبل جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ریکارڈ عدالت میں آئے گا تو خفیہ نہیں رہے گا۔

جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ آپ کی رپورٹ میں لکھا ہوا ہے کہ انجیوگرافی کرانی ہے، کیا جیل میں انجیوگرافی ہو سکتی ہے؟ جس پر ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا باہر ہسپتال سے ہوسکتی ہے۔جسٹس شاہد وحید نے کہاکہ بانی پی ٹی آئی کی نہ نبض نارمل ہے، نہ ہی دل، میڈیکل رپورٹس کے مطابق بانی پی ٹی آئی کے وائیٹل آرگنز متاثر ہونا شروع ہوگئے ہیں۔فاضل جج نے استفسار کیا بہنوں کی ملاقات کے حوالے سے کیا کہتے ہیں؟ جس پر ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے بتایا کہ اگر کوئی قانون کی خلاف ورزی کرے گا تو ملاقات نہیں ہوگی، جس پر عدالت نے کہا اگر وہ قانون کی خلاف ورزی کر رہا ہے تو آپ بھی کریں گے؟ بہنوں سے ملاقات کوئی احسان نہیں، ان کا بنیادی حق ہے، ریاست کا کام نہیں کہ قانون کی خلاف ورزی کرے، اسلام آباد ہائیکورٹ کی ہدایات پر عمل کیوں نہیں ہو رہا؟ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے عدالت کو بتایا کہ تین سال میں بانی پی ٹی آئی سے بہنوں کی 48ملاقاتیں کروائی گئیں جس پر سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی سے 3 سال کے دوران بہنوں کی ملاقاتوں کی تمام تفصیلات طلب کرلیں۔

عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی بچوں سے بات کروانے کا ریکارڈ بھی مانگ لیا۔وکیل پی ٹی آئی عزیر بھنڈاری نے کہا کہ بہنوں کی تو کم سے کم ملاقات کروانی چاہیے، بہنوں اور ڈاکٹرز کو بانی سے ملاقات کی اجازت دی جانی چاہیے۔ جسٹس نعیم اختر نے ریمارکس دیے کہ پی ٹی آئی کو بانی کی صحت پر سیاست نہیں کرنی چاہیے۔عزیر بھنڈاری نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں مکمل چیک اپ کرایا جائے جس پر جسٹس شاہد وحید نے استفسار کیا اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ باہر آ کر میڈیا ٹاک نہیں ہوگی؟ وکیل نے کہا ڈاکٹر عظمی کا وکیل ہوں اور ان کی ہدایات کے مطابق ہی گارنٹی دے رہا ہوں کہ ڈاکٹر عظمیٰ اور ڈاکٹر عاصم ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو نہیں کریں گے۔

عظمیٰ خان کے وکیل نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ڈاکٹر عظمیٰ اور ذاتی معالج ڈاکٹر عاصم یوسف کو ملاقات کی اجازت دی جائے جس پر عدالت نے پوچھا کیا ڈاکٹر عظمیٰ کیا پی ایچ ڈی ڈاکٹر ہیں؟ وکیل نے کہا نہیں، عظمیٰ ٰمیڈیکل ڈاکٹر ہیں۔جسٹس شاہد وحید نے پوچھا کہ ڈاکٹر عاصم یوسف تو معدے کے ڈاکٹر ہیں، اور رپورٹ کے مطابق انہیں معدے کا کوئی مسئلہ نہیں جس پر جج نے کہا کہ کسی درخواستگزار نے بانی کا چیک اپ کرنے والے ڈاکٹرز کی اہلیت پر سوال نہیں اٹھایا۔ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے عدالت کو بتایا کہ ملاقات کے بعد میڈیا ٹاک نہ کرنے کی یقین دہانی کی خلاف ورزی کی گئی، اسلام آباد ہائیکورٹ میں کیس زیرِ سماعت ہے جس پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ میڈیا ٹاک کرکے یقین دہانی کی خلاف ورزی ہوئی تو وہ یقین دہانی میری تھی، باقیوں کا کیا قصور ہے؟۔

نجی ٹی وی کے مطابق جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیے کہ اگر ہم افسران کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کریں گے تو پھر سلمان اکرم راجہ کے خلاف بھی کارروائی ہوگی جبکہ جسٹس نعیم اختر افغان نے کہاکہ پی ٹی آئی والوں کو ایک چیز طے کرلینی چاہیے کہ بانی کی طبی حالت پر کوئی سیاست نہیں ہوگی، بانی پی ٹی آئی کے علاج پر کوئی سیاست نہیں ہونی چاہیے۔جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ پی ٹی آئی اور فیملی کو بیانِ حلفی دینا ہوگا کہ ملاقات کے بعد کوئی میڈیا ٹاک نہیں ہوگی۔ عدالت نے کیس کی سماعت کے دوران عظمی خان کو بات کرنے سے روک دیا اور کہا کہ آپ کے وکیل موجود ہیں بات نہ کریں۔وکیل عزیر بھنڈاری نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا بلڈ کلاٹ کیوں ہوا اس کی وجہ سامنے آنی چاہیے، 1979 میں جو کچھ ہوا، نہیں چاہتے دوبارہ ہو۔جسٹس نعیم اختر افغان نے بانی پی ٹی آئی کے مقدمات کی مکمل تفصیل طلب کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کتنے مقدمات میں انڈر ٹرائل قیدی ہیں، تفصیل فراہم کی جائے، بانی کتنے کیسز میں سزا یافتہ ہیں؟ کتنے کیسز میں سزا معطل ہو چکی ہے، اس کی بھی تفصیل دیں۔

سپریم کورٹ نے اڈیالہ جیل حکام سے بانی سے گزشتہ تین سال کی ملاقاتوں کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا بتایا جائے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کیوں ہوئی؟جسٹس شاہد وحید نے پوچھا کس بہن کی ملاقات ہونی چاہیے؟ جس پر عزیر بھنڈاری نے کہا کہ عظمیٰ خان کیونکہ ڈاکٹر ہیں اس لیے ان کی ملاقات کرائی جائے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ عظمیٰ خان کی درخواست پر ہمیں نوٹس جاری نہیں ہوا، جس پر جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا آپ کا نکتہ بھی دیکھ لیں گے، اس میں ایڈووکیٹ جنرل اسلام آبادپیش ہو چکے ہیں۔ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہاکہ عظمیٰ خان والے کیس میں پیش نہیں ہواجس پرجسٹس نعیم افغان نے کہا آپ نے یہ بات صبح کیوں نہیں کی؟ جسٹس شاہد وحید نے کہاکہ آپ اسلام آباد کے سینئر ترین لا افسر ہیں، ایسے نہ کریں۔ جسٹس شاہد وحید نے پوچھا کہ آپ نجی ہسپتال ہی کیوں منتقلی چاہتے ہیں؟ جس پر وکیل عزیر بھنڈاری نے کہاکہ پمز میں تو اکثر لے کر جایا جاتا ہے۔

فاضل جج نے پوچھا کہ نجی ہسپتال کے اخراجات کون ادا کرے گا؟ اس پر وکیل عظمیٰ خان نے کہاکہ نجی ہسپتال کے اخراجات ہم ادا کریں گے۔عدالت نے پوچھا کہ بانی پی ٹی آئی کے علاج کی رپورٹس پبلک نہ کرنے کی گارنٹی کون دے گا؟ میڈیکل رپورٹ کو سیاست کیلئے استعمال نہیں کیا جائے گا، اس کی یقین دہانی کون کروائے گا؟ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ سیاسی جماعت میڈیکل رپورٹ سیاست کیلئے استعمال نہیں کرے گی، میڈیکل رپورٹ ڈاکٹرز اور بانی کی فیملی کا معاملہ ہے۔سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کو علاج پر سیاست کرنے سے بھی روکتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹرعظمی خان بھی بانی پی ٹی آئی کے ہمراہ ہوں گے، ہفتے میں ایک دن اہلخانہ سے بھی بانی پی ٹی آئی ملاقات کا حکم دیدیا اور کہ کہ بانی آئندہ سماعت تک ہسپتال میں رہیں گے، نجی ہسپتال کے تمام اخراجات پی ٹی آئی برداشت کرے گی۔عدالت عظمیٰ نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے کیس کی سماعت گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد تک ملتوی کردی اور آئندہ سماعت پر اڈیالہ جیل حکام کو بھی طلب کرلیا۔سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کو اگلی سماعت تک شفا ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دیاجائے، بانی پی ٹی آئی کو سخت سکیورٹی میں ہسپتال منتقل کیاجائے، ہسپتال کے باہر امن و امان کی صورتحال متاثر نہیں ہونی چاہیے، عدالت نے کیس کی مزید سماعت 16ستمبر تک ملتوی کردی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More