تہران(انٹرنیشنل نیوز)ایران کی پارلیمنٹ نے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی ہدایات کی روشنی میں اسٹریٹجک آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت کی شرائط تشکیل دینے کیلئے نئی قانون سازی کافیصلہ کیاہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر علی نیکزاد نے صوبہ ہورمزگان کیلئے پارلیمان کے سول کمیشن کے دورے کے موقع پر غیررسمی گفتگو کے دوران بتایا کہ ایران آبنائے ہرمز میں اپنے جائز حق سے کبھی دستبردار نہیں ہوگا، جو بین الاقوامی تیل اور گیس کی فراہمی کی مرکزی گزرگاہ ہے۔

پارلیمان سے منظور ہونے والے نئے قانون سے متعلق انہوں نے کہا کہ یہ قانون نہ صرف ایران کی شرائط کا احاطہ کرے گا بلکہ بین الاقوامی قانون اور ہمسایہ ممالک کے حقوق کی روشنی میں بنایا جائے گا۔

انہوںنے کہاکہ ڈرافٹ کے مطابق کسی بھی صورت میں اسرائیلی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور زور دیتے ہوئے کہا کہ جارح ممالک کو بھی اس بحری راستے سے گزرنے کی اجازت نہیں ہوگی، جن میں امریکا نمایاں ہے۔

علی نیکزاد نے کہا کہ دیگر جہازوں کو بھی آبنائے ہرمز سے گزرنے کیلئے پارلیمنٹ سے منظور ہونے والے قانون پر عمل درآمد کرنا ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ نئی قانون سازی کے تحت سپریم لیڈر سے اجازت لی جائے گی اور اس سے مسلح افواج کے حوالے کیا جائے گا۔

ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ جہازوں سے ٹول آبنائے ہرمز میں تحفظ، بحری رہنمائی اور موسمیاتی تحفظ جیسی خدمات پر لیا جائے گا اور یہ سرمایہ ایران کی دفاعی قوت بڑھانے، عوامی طرز زندگی بہر کرنے اور تعمیر نو اور ملک کے ڈھانچے کو مکمل کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

انہوںنے کہاکہ پریشان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی بندرگاہوں اور جہازوں کی ناکہ بندی کی ہوئی ہے جو مکمل طور پر ناکام ہوگئی ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ آبنائے ہرمز کے معمولات امریکا اور اسرائیل کی جانب سے مسلط کی گئی جنگ سے پہلے والی صورت حال پر واپس نہیں آئے گی، جو 28 فروری کو شروع ہوئی تھی۔

علی نیکزاد نے کہا کہ صوبہ ہورمزگان میں آبنائے ہرمز اور خلیج فارس کا سمندر ایران کا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *