چاغی(نمائندہ خصوصی ) ضلع چاغی کے علاقے سیاہ جنگ سے تین نامعلوم افراد کی انتہائی مسخ شدہ لاشیں برآمد ہوئی ہیں، جنہیں ضروری ابتدائی کارروائی کے بعد پرنس فہد ہسپتال دالبندین منتقل کر دیا گیا ہے۔
ہسپتال انتظامیہ کے مطابق تمام لاشیں اس قدر مسخ شدہ حالت میں ہیں کہ فوری طور پر ان کی شناخت ممکن نہیں ہو سکی ہے۔
ایم ایس پرنس فہد ہسپتال ڈاکٹر لونگ خان عیسی زئی نے اس حوالے سے بتایا کہ متوفیان کی اصل شناخت فرانزک اور میڈیکو لیگل کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہی کی جائے گی۔
اسسٹنٹ کمشنر (اے سی) دالبندین طاہر خان سنجرانی کے مطابق لاشوں کو مزید تفصیلی فرانزک معائنے اور حتمی شناخت کے عمل کے لیے کوئٹہ منتقل کیا جائے گا۔
دوسری جانب ابتدائی اطلاعات اور ذرائع کے مطابق، یہ لاشیں ممکنہ طور پر ریکوڈک کمپنی کے ان ملازمین کی ہو سکتی ہیں جنہیں 17 مئی 2026 کو مبینہ طور پر اغوا کیا گیا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جاں بحق ہونے والے افراد میں محمد افضل ولد غلام رسول (عمر 57 سال)، وسیم ولد اللہ یار (عمر 23 سال) اور ظہیر احمد ولد ظہور احمد (عمر 21 سال) شامل ہیں، تاہم اس بات کی حتمی تصدیق ڈی این اے اور فرانزک رپورٹ آنے کے بعد ہی کی جائے گی۔
انتظامیہ کے مطابق لاشیں پہلے ڈی ایچ کیو ہسپتال دالبندین لائی گئیں جہاں شناخت کی عدم موجودگی اور حالت انتہائی خراب ہونے کے باعث انہیں مزید قانونی و طبی کارروائی کے لیے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
