jahaneimroz
Chief editor Faizullah Durrani

پنجاب میں مریم نواز کا طرزِ حکمرانی بھی آزمایا جا سکتا ہے

تجزیہ بی این پی
لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ میں خطاب کرتے ہوئے صوبائی حکومت کی کارکردگی، ڈیجیٹل گورننس، عوامی خدمات کی گھر کی دہلیز تک فراہمی، مستحق افراد تک مالی معاونت پہنچانے، کرپشن کے خاتمے، صفائی کے نظام اور صاف پانی کی فراہمی کے حوالے سے حکومت کی ترجیحات اور اقدامات پر روشنی ڈالی ہے۔ ان کے خطاب میں ایک طرف حکومت کی جانب سے کیے جانے والے مختلف اقدامات اور ان کے نتائج کا ذکر کیا گیا، جبکہ دوسری جانب وزیراعلیٰ نے خود بھی اعتراف کیا کہ صوبے میں ابھی سب کچھ ٹھیک نہیں اور کرپشن کے خلاف مزید کارروائی کی ضرورت ہے۔
**تجزیہ بی این پی کے مطابق** مریم نواز شریف کی گفتگو کا اہم پہلو یہ ہے کہ صوبائی حکومت روایتی دفتری طریقہ کار کے بجائے ڈیجیٹل نظام کو انتظامی معاملات کا حصہ بنانے پر زور دے رہی ہے۔ وزیراعلیٰ نے پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کو صوبے کی انتظامی مشینری میں بنیادی اہمیت کا حامل ادارہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی کے بغیر مؤثر حکمرانی ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کے مختلف کامیاب منصوبوں کے پیچھے پی آئی ٹی بی کی تکنیکی معاونت شامل ہے اور اس ادارے نے صوبائی حکومت کے لیے جدید نظام تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
وزیراعلیٰ نے پنجاب سوشل اکنامک رجسٹری یعنی پی ایس ای آر کے ڈیٹا کی تیاری کو بھی حکومت کی اہم پیش رفت قرار دیا۔ ان کے مطابق ایک سال کی کوشش کے بعد پنجاب کے 26 ملین گھر رجسٹرڈ کیے جاچکے ہیں اور صوبے کے اپنے شہریوں کے ساتھ ساتھ دوسرے صوبوں سے آنے والے افراد کا ڈیٹا بھی موجود ہے۔ حکومت کے لیے مستند ڈیٹا کی اہمیت اس لیے زیادہ ہے کہ فلاحی منصوبوں کے وسائل حقیقی مستحق افراد تک پہنچائے جاسکیں۔
مریم نواز شریف نے بتایا کہ جب انہوں نے وزارتِ اعلیٰ سنبھالی تو مستند ڈیٹا نہ ہونے کی وجہ سے امدادی سامان کی تقسیم میں امیر اور غریب کے درمیان مناسب فرق نہیں کیا جاسکا۔ ان کے مطابق پی ایس ای آر کا مستند ڈیٹا دستیاب ہونے کے بعد 10 لاکھ افراد کو ان کے گھروں کی دہلیز پر 10،10 ہزار روپے تک پہنچائے گئے۔ وزیراعلیٰ نے اس حوالے سے واضح کیا کہ غریب تک اس کا حق پہنچانا حکومت کا احسان نہیں بلکہ ذمہ داری ہے۔
یہ نقطہ صوبائی حکومت کی فلاحی پالیسی کے حوالے سے اہم ہے۔ اگر مستحق افراد کی درست شناخت کے لیے تیار کیا گیا ڈیٹا مؤثر اور مسلسل اپ ڈیٹ رکھا جاتا ہے تو سرکاری وسائل کے غلط استعمال کو کم کیا جاسکتا ہے۔ تاہم اس نظام کی اصل افادیت کا اندازہ اسی وقت ہوسکے گا جب یہ ثابت ہو کہ مستحق افراد کی شناخت شفاف انداز میں ہورہی ہے اور غیر مستحق افراد کو سرکاری وسائل سے فائدہ اٹھانے سے روکا جارہا ہے۔
وزیراعلیٰ نے عوام کو سرکاری دفاتر میں کرپشن سے بچانے کے لیے ای بز سمیت ڈیجیٹل نظاموں کا حوالہ بھی دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض نظاموں میں درخواست دینے والے کا فون نمبر یا شناخت ظاہر نہیں ہوتی تاکہ اسے کرپٹ عناصر سے تحفظ فراہم کیا جاسکے۔ انہوں نے سرکاری ادویات اور انجکشن کی چوری کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ایک کھرب روپے کی مفت ادویات فراہم کررہی ہے لیکن بعض جگہ ادویات اور انجکشن چوری ہوجاتے ہیں۔
مریم نواز شریف نے اعتراف کیا کہ سرکاری نظام میں کرپشن اب بھی ایک مسئلہ ہے اور کہا کہ حکومت جلد اس کے خلاف کریک ڈاؤن کرے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ منسٹر یا اس سے اوپر کی سطح پر ایک روپے کی کرپشن بھی ثابت ہوئی تو کارروائی سے گریز نہیں کیا جائے گا۔ یہ اعلان بلاشبہ سخت مؤقف کی عکاسی کرتا ہے، لیکن اس کا عملی نتیجہ ہی اس کی اہمیت کا تعین کرے گا۔
**تجزیہ بی این پی کے مطابق** کرپشن کے خلاف کارروائی صرف اعلانات تک محدود رہنے کے بجائے ایک ایسے نظام میں تبدیل ہونی چاہیے جس میں سرکاری امور کی نگرانی، مالی معاملات کی شفافیت، شکایات کے فوری ازالے اور ذمہ دار افراد کے خلاف بلاامتیاز کارروائی یقینی ہو۔ اگر حکومت واقعی اعلیٰ سطح تک احتساب کو لے جانے میں کامیاب ہوتی ہے تو اس سے عوامی اعتماد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ اس کے برعکس اگر کارروائی صرف نچلے درجے کے اہلکاروں تک محدود رہی تو کرپشن کے خاتمے کے دعوے اپنی پوری معنویت حاصل نہیں کرسکیں گے۔
وزیراعلیٰ نے آئندہ تین ماہ میں ایسا نظام لانے کا ہدف بھی بیان کیا جس کے تحت شہریوں کو اپنے کام کے لیے سرکاری دفاتر جانے کی ضرورت نہ پڑے۔ ان کے مطابق میرج اور ڈیتھ سرٹیفکیٹ، لائسنس اور دیگر کئی خدمات گھر بیٹھے حاصل کی جاسکتی ہیں۔ ”مریم کی دستک” کے تحت 40 لاکھ افراد کو سروسز فراہم کیے جانے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پنجاب میں حکومت کا نظام اب شہریوں کی دہلیز تک پہنچ رہا ہے۔
یہ حکومتی پالیسی کا ایک نمایاں پہلو ہے۔ عام شہری کے لیے سرکاری دفتر کے چکر، انتظار اور مختلف مراحل سے گزرنے کی ضرورت کم ہونا یقیناً ایک مثبت تبدیلی ہوسکتی ہے۔ خاص طور پر خواتین، بزرگوں، معذور افراد اور دور دراز علاقوں میں رہنے والے شہریوں کے لیے گھر بیٹھے خدمات کی فراہمی سہولت کا باعث بن سکتی ہے۔ تاہم اس نظام کو کامیاب بنانے کے لیے ضروری ہوگا کہ درخواستوں کی بروقت تکمیل، شکایات کے ازالے اور متعلقہ اہلکاروں کی جواب دہی کا مؤثر نظام بھی موجود ہو۔مریم نواز شریف نے ”مریم کی دستک” کے تحت روزانہ تین ہزار درخواستوں کی پراسیسنگ کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ راشن یا ضرورت کی اشیا 48 گھنٹے کے اندر گھر تک پہنچائی جائیں گی۔ اس تصور کے پیچھے بنیادی سوچ یہ ہے کہ حکومت کو ضرورت مند کے دروازے تک پہنچنا چاہیے، نہ کہ ضرورت مند کو سرکاری دفتر کے دروازے پر کھڑا ہونا پڑے۔ وزیراعلیٰ نے اس حوالے سے حضرت عمر فاروق? کی مثال دیتے ہوئے ریاست کی جانب سے ضرورت مندوں تک راشن پہنچانے کو حکومتی ذمہ داری قرار دیا۔
صفائی کے شعبے میں بھی وزیراعلیٰ نے متعدد ہدایات جاری کی ہیں۔ ستھرا پنجاب کے ورکرز کو ہر ماہ پانچ تاریخ سے پہلے ادائیگی یقینی بنانے کا حکم دیا گیا ہے اور بتایا گیا کہ 151 میں سے 149 ورکرز کو ادائیگی مکمل کی جاچکی ہے۔ روجھان اور چوبارہ میں ورکرز کو ادائیگی نہ کرنے پر متعلقہ کمپنی کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔اس کے علاوہ شہری اور رہائشی علاقوں میں صفائی برقرار رکھنے والے شہریوں کو ”انوائرمنٹ فرینڈلی سٹیزن” اسٹیکر اور سرٹیفکیٹ دینے کی تجویز، ڈویڑنل ہیڈکوارٹرز میں اینٹی لٹرنگ سکواڈز کی فعالیت، ای بائیکس کے ذریعے سڑکوں، گلیوں اور بازاروں کی نگرانی اور ستھرا پنجاب ورکرز کے لیے گاربیج بیگ لازمی قرار دینے جیسے اقدامات بھی سامنے آئے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے صفائی کے شعبے میں غیر حاضری اور مبینہ بے ضابطگیوں پر سخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ افسران کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی۔ ایم ڈی واسا کو روزانہ دو گھنٹے فیلڈ میں گزارنے جبکہ ٹی ایم او اور ایف ایم او کو روزانہ کم از کم پانچ یونین کونسلوں کا دورہ کرنے کی ہدایت بھی اسی نگرانی کے نظام کا حصہ ہے۔ خالی پلاٹس کی صفائی، ویسٹ انکلوڑرز کی باقاعدہ صفائی، ٹوٹی دیواروں اور دروازوں کی مرمت، مکینیکل سویپرز کی درستگی اور نکاسی آب کے لیے ڈی سلٹنگ جاری رکھنے کی ہدایات بھی دی گئی ہیں۔ان اقدامات سے یہ تاثر ملتا ہے کہ حکومت صفائی کے نظام میں صرف بڑے منصوبوں کے بجائے روزمرہ انتظامی کارکردگی پر بھی توجہ مرکوز کرنا چاہتی ہے۔ تاہم صفائی ایسا شعبہ ہے جہاں حکومتی کارکردگی براہ راست شہریوں کے سامنے نظر آتی ہے۔ اس لیے اس شعبے میں کامیابی کا فیصلہ اعلانات سے زیادہ گلی، محلے، بازار اور سڑک کی عملی صورت حال کرے گی۔
صاف پانی کی فراہمی بھی وزیراعلیٰ کے خطاب کا اہم حصہ تھی۔ مریم نواز شریف نے کہا کہ ماضی میں صاف پانی کی بات تو بہت کی گئی لیکن عوام کو مطلوبہ صاف پانی نہیں ملا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت پانچ سال کی مدت کے بعد صوبے کے لوگوں کو صاف پانی گھروں تک پہنچانے کا ہدف رکھتی ہے۔ بعض ایسے علاقوں کا ذکر بھی کیا گیا جہاں لوگوں کو پینے کا پانی لانے کے لیے مشکلات کا سامنا تھا اور اب گاڑیوں کے ذریعے پانی گھروں تک پہنچایا جارہا ہے۔
صاف پانی کی فراہمی بنیادی ضرورت ہے، اس لیے اس شعبے میں حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج وعدے کو پائیدار نظام میں تبدیل کرنا ہوگا۔ عارضی طور پر پانی پہنچانے کے ساتھ ساتھ مستقل انفراسٹرکچر، پانی کے معیار کی نگرانی اور شہری و دیہی علاقوں میں یکساں سہولت کی فراہمی ضروری ہوگی۔
وزیراعلیٰ نے انتظامی افسران کی مصروفیات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور متعلقہ محکموں کے افسران مسلسل کام کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کی خدمت کوئی معمولی اعزاز نہیں بلکہ بہت بڑا کام ہے اور حکومت فرسودہ روایتی طریقہ کار کو ختم کرکے عوام کے لیے آسانیاں پیدا کررہی ہے۔
اسی دوران استحکام پاکستان پارٹی کے ارکان قومی اسمبلی عون چوہدری، گل اصغر خان اور منزہ حسن نے وزیراعلیٰ سے ملاقات کی، جس میں ملکی سیاسی صورتحال، سیاسی استحکام اور پنجاب میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں صوبے میں جاری عوامی فلاحی منصوبوں کو سراہا گیا اور سیاسی امور پر مل کر آگے بڑھنے پر اتفاق کیا گیا۔ سیاسی تعاون صوبائی حکومت کے لیے انتظامی اور سیاسی استحکام میں مددگار ہوسکتا ہے، تاہم حکومت کی بنیادی ذمہ داری بہرحال عوامی خدمات کی مؤثر فراہمی ہے۔مجموعی طور پر دیکھا جائے تو مریم نواز شریف کی حکومت کی جانب سے پیش کیا جانے والا ماڈل ڈیجیٹل گورننس، ڈیٹا پر مبنی فلاحی منصوبوں اور شہریوں کو گھر کی دہلیز پر خدمات فراہم کرنے کے گرد گھومتا ہے۔ پی ایس ای آر، مریم کی دستک، آن لائن سرٹیفکیٹس اور لائسنس، صفائی کی فیلڈ مانیٹرنگ اور صاف پانی کی فراہمی جیسے اقدامات میں عوامی سہولت کا عنصر نمایاں ہے۔لیکن دوسری طرف خود وزیراعلیٰ کا یہ کہنا کہ ”سب ٹھیک نہیں” اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حکومتی نظام کو ابھی کئی بنیادی مسائل کا سامنا ہے۔ کرپشن، سرکاری ادویات کی چوری، ورکرز کو ادائیگی میں تاخیر، غیر حاضری، صفائی میں کوتاہی اور بنیادی سہولیات کے مسائل ایسے معاملات ہیں جن پر محض انتظامی ہدایات کافی نہیں ہوں گی۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق مریم نواز شریف کی کارکردگی کا منصفانہ جائزہ یہی بنتا ہے کہ صوبائی حکومت نے ٹیکنالوجی اور عوامی سہولت کے حوالے سے کئی نمایاں اہداف مقرر کیے ہیں اور بعض منصوبوں کی تکمیل کے اعداد و شمار بھی پیش کیے ہیں، لیکن ان منصوبوں کی دیرپا کامیابی کا اصل پیمانہ عام شہری کی زندگی میں آنے والی مستقل تبدیلی ہوگی۔ اگر ڈیجیٹل نظام شہری کو دفاتر کے چکروں سے نجات دیتا ہے، فلاحی امداد حقیقی مستحق تک پہنچتی ہے، کرپشن کے خلاف کارروائی بلاامتیاز ہوتی ہے، صفائی کا نظام روزانہ کی بنیاد پر بہتر ہوتا ہے اور صاف پانی کا وعدہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو حکومت کی کارکردگی کو مؤثر قرار دیا جاسکتا ہے۔فی الحال مریم نواز شریف کی حکومت کو نہ مکمل کامیاب قرار دینا متوازن ہوگا اور نہ اس کی تمام کوششوں کو محض دعوے قرار دینا مناسب ہے۔ اصل فیصلہ وقت، عملدرآمد اور عوامی تجربہ کرے گا۔ حکومت نے جو اہداف خود مقرر کیے ہیں، اب اس کی کارکردگی اسی بنیاد پر پرکھی جائے گی کہ وہ اعلانات کو کس حد تک قابلِ پیمائش اور مستقل عوامی سہولت میں تبدیل کرپاتی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More