jahaneimroz
Chief editor Faizullah Durrani

پاکستان میں مضرِ صحت خوراک کا دھندہ: انسانی جانوں سے کھیلنے والوں کا سدباب ناگزیر

تجزیہ بی این پی
خوراک انسانی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے، مگر جب یہی خوراک بیماریوں، زہریلے اثرات اور انسانی جانوں کے لیے خطرے کا سبب بن جائے تو یہ محض ایک کاروباری بدعنوانی نہیں رہتی بلکہ ایک سنگین سماجی، اخلاقی اور قانونی جرم کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ پاکستان میں مضرِ صحت اور غیر معیاری خوراک کی فروخت ایک ایسا مسئلہ بن چکی ہے جس کے اثرات معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچ رہے ہیں۔ مردہ مرغیوں کا گوشت، باسی گوشت، ناقص دودھ، غیر معیاری مصالحہ جات، جعلی مشروبات، مضرِ صحت گھی و تیل اور حفظانِ صحت کے اصولوں کے منافی تیار کی جانے والی اشیائے خورونوش کی خبریں آئے روز سامنے آتی ہیں۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ کارروائیاں ہونے کے باوجود اس مکروہ کاروبار کا مکمل خاتمہ نہیں ہو سکا۔
لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے مردہ مرغیوں کا گوشت فروخت کرنے کے مقدمے میں گرفتار ملزم کی درخواستِ ضمانت مسترد کرتے ہوئے یہ قرار دینا کہ گھناو?نے جرائم میں ملوث افراد کو کھلی چھوٹ نہیں دی جا سکتی، ایک اہم قانونی اور سماجی پیغام ہے۔ عدالت کا یہ مؤقف اس حقیقت کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ خوراک میں ملاوٹ یا مضرِ صحت اشیا کی فروخت کو معمولی نوعیت کا جرم سمجھنا معاشرے کے ساتھ ناانصافی ہے۔ جو شخص چند روپے یا زیادہ منافع کے لالچ میں لوگوں کی صحت اور زندگی کو خطرے میں ڈالتا ہے، وہ دراصل اجتماعی اعتماد کو بھی مجروح کرتا ہے۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق مضرِ صحت خوراک کا مسئلہ صرف چند دکانداروں، قصابوں یا خوراک تیار کرنے والوں تک محدود نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایک پورا غیر مؤثر نظام بھی کارفرما ہو سکتا ہے۔ اگر ایک شخص مردہ جانور یا مرغی کا گوشت فروخت کرتا ہے اور اسے معلوم ہو کہ گرفتاری کے بعد کمزور تفتیش، ناقص شواہد، غیر مؤثر قانونی پیروی یا کسی تکنیکی خامی کے باعث وہ دوبارہ کاروبار شروع کر سکتا ہے تو محض چھاپہ مارنا مسئلے کا حل نہیں ہوگا۔ اصل ضرورت ایسے نظام کی ہے جس میں جرم کی نشاندہی سے لے کر سزا کے آخری مرحلے تک ہر ادارہ اپنی ذمہ داری پوری کرے۔
یہ امر قابلِ غور ہے کہ فوڈ سیفٹی کے ادارے وقتاً فوقتاً مختلف علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہیں، غیر معیاری اشیا ضبط کی جاتی ہیں، دکانیں یا کارخانے سیل کیے جاتے ہیں اور بعض افراد کو گرفتار بھی کیا جاتا ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ ان کارروائیوں کے بعد کیا ہوتا ہے؟ کتنے مقدمات مضبوط شواہد کے ساتھ عدالتوں تک پہنچتے ہیں؟ کتنے ملزمان کو واقعی سزا ملتی ہے؟ کتنے کاروباری مراکز مستقل طور پر قانون کی گرفت میں رہتے ہیں؟ اور کتنے ایسے عناصر ہیں جو کچھ عرصے بعد کسی دوسرے نام یا مقام سے وہی کاروبار دوبارہ شروع کر دیتے ہیں؟ اگر ان سوالات کے اطمینان بخش جوابات موجود نہ ہوں تو کارروائیاں محض وقتی سرگرمی بن کر رہ جاتی ہیں۔مضرِ صحت خوراک کے کاروبار کی سب سے خطرناک شکل وہ ہے جس میں انسانی جان کو براہِ راست منافع کا ذریعہ بنا دیا جاتا ہے۔ مردہ مرغیوں کا گوشت فروخت کرنے والا شخص یہ جانتا ہے کہ یہ گوشت انسانی استعمال کے قابل نہیں، اس کے باوجود اسے زندہ مرغی کے گوشت کے طور پر فروخت کرنا ایک انتہائی سنگین دھوکا ہے۔ اسی طرح ناقص دودھ میں ایسے اجزا شامل کرنا جو بظاہر مقدار اور معیار میں اضافہ دکھائیں، غیر معیاری تیل کو معیاری برانڈ کے نام پر فروخت کرنا، زائد المیعاد اشیا کی تاریخیں تبدیل کرنا اور صفائی کے بنیادی اصولوں کو نظرانداز کرتے ہوئے کھانے پینے کی اشیا تیار کرنا بھی ایسے جرائم ہیں جن کے اثرات براہِ راست انسانی صحت پر پڑتے ہیں۔
اس مسئلے کا ایک اہم پہلو عوامی آگاہی بھی ہے۔ بہت سے صارفین کم قیمت کے باعث ایسی اشیا خرید لیتے ہیں جن کے معیار کے بارے میں انہیں مکمل معلومات نہیں ہوتیں۔ غربت اور مہنگائی کے باعث عام آدمی کے لیے معیاری خوراک خریدنا پہلے ہی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ایسے حالات میں اگر بازار میں ناقص اور معیاری اشیا ایک ہی قیمت یا ظاہری شکل میں دستیاب ہوں تو صارف کے لیے فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس لیے حکومت کی ذمہ داری صرف دکاندار کو سزا دینا نہیں بلکہ صارف کو بھی یہ حق دینا ہے کہ اسے واضح، درست اور قابلِ اعتماد معلومات فراہم کی جائیں۔
خوراک کے معیار کو یقینی بنانے کے لیے لیبارٹری نظام کو بھی جدید اور مؤثر بنانا ہوگا۔ خوراک کے نمونے حاصل کرنے کے بعد ان کی جانچ میں غیر ضروری تاخیر مقدمات کو کمزور کر سکتی ہے۔ ضروری ہے کہ نمونوں کی وصولی، محفوظ رکھنے، لیبارٹری تک منتقلی اور رپورٹ کی تیاری کے پورے عمل کو شفاف بنایا جائے۔ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ہر نمونے کو ایک منفرد شناخت دی جا سکتی ہے تاکہ اس کے ساتھ کسی قسم کی تبدیلی یا جعل سازی کی گنجائش باقی نہ رہے۔ اسی طرح عدالتوں میں پیش کیے جانے والے شواہد کے معیار کو بھی بہتر بنانا ضروری ہے۔پولیس اور متعلقہ محکموں کے درمیان رابطے کا فقدان بھی ایسے مقدمات کے مؤثر انجام میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ اگر فوڈ اتھارٹی کارروائی کرے، پولیس مقدمہ درج کرے مگر تفتیش کے دوران ضروری شواہد جمع نہ کیے جائیں تو عدالت میں مقدمہ کمزور پڑ سکتا ہے۔ اس لیے ایسے مقدمات کے لیے تربیت یافتہ تفتیشی افسران، قانونی ماہرین اور متعلقہ فوڈ سیفٹی حکام پر مشتمل مربوط نظام قائم کیا جانا چاہیے۔ مقدمات کی نگرانی کے لیے خصوصی نظام بھی بنایا جا سکتا ہے تاکہ یہ معلوم رہے کہ کس مقدمے میں کیا پیش رفت ہوئی اور کہاں رکاوٹ پیدا ہوئی۔
اس کے ساتھ ساتھ صرف چھوٹے دکانداروں کے خلاف کارروائی کافی نہیں۔ بڑے گوداموں، غیر قانونی مذبح خانوں، جعلی برانڈز تیار کرنے والے کارخانوں اور ان عناصر تک بھی قانون کا ہاتھ پہنچنا چاہیے جو پورے نیٹ ورک کو مالی یا انتظامی مدد فراہم کرتے ہیں۔ اگر صرف آخری سطح پر موجود دکاندار کو پکڑ لیا جائے اور اصل سپلائر یا ذخیرہ اندوز محفوظ رہے تو مسئلہ جوں کا توں رہتا ہے۔ اس لیے سپلائی چین کی مکمل نگرانی ضروری ہے۔
تجزیہ بی این پی یہ واضح کرتا ہے کہ مضرِ صحت خوراک کے خلاف جنگ صرف سرکاری اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ معاشرے کے ہر فرد کا مشترکہ فرض ہے۔ صارفین کو بھی چاہیے کہ وہ مشکوک اشیا کی خریداری سے گریز کریں، غیر معیاری خوراک کی نشاندہی کریں اور متعلقہ اداروں کو اطلاع دیں۔ تاہم حکومت کو ایسی شکایات کے لیے آسان، فوری اور قابلِ اعتماد نظام فراہم کرنا ہوگا۔ اگر شکایت درج کرانے والا شہری یہ محسوس کرے کہ اس کی اطلاع پر کوئی کارروائی نہیں ہوگی تو وہ آئندہ شکایت کرنے سے گریز کرے گا۔ملاوٹ اور مضرِ صحت خوراک کے خاتمے کے لیے قوانین میں موجود سزاؤں پر بھی نظرثانی کی ضرورت ہے۔ سزا ایسی ہونی چاہیے جو جرم کی سنگینی کے مطابق ہو اور مجرم کو دوبارہ یہی کام کرنے سے روکے۔ جرمانہ بعض اوقات بڑے کاروباری عناصر کے لیے محض کاروباری اخراجات کا حصہ بن جاتا ہے۔ اگر جرمانہ ادا کرکے دوبارہ وہی کاروبار شروع کیا جا سکے تو قانون کا مقصد پورا نہیں ہوتا۔ ایسے سنگین جرائم میں بھاری جرمانوں کے ساتھ کاروباری لائسنس کی منسوخی، مستقل پابندی اور قانون کے مطابق قید جیسی سزاؤں کا مؤثر نفاذ ضروری ہے۔
تاہم سخت سزا کے ساتھ انصاف کے تقاضوں کو ملحوظ رکھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ کسی شخص کو محض الزام کی بنیاد پر سزا نہیں دی جا سکتی۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ شواہد مضبوط بنائیں، تفتیش شفاف انداز میں کریں اور عدالت میں مقدمہ مکمل قانونی تقاضوں کے ساتھ پیش کریں۔ یہی وہ راستہ ہے جس سے ایک طرف بے گناہ افراد کو تحفظ ملے گا اور دوسری طرف اصل مجرم قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکیں گے۔
حکومت کو خوراک کے معیار کے لیے قومی سطح پر ایک جامع حکمتِ عملی تشکیل دینی چاہیے۔ اس حکمتِ عملی میں شہری اور دیہی علاقوں دونوں کو شامل کیا جائے۔ صرف بڑے شہروں میں کارروائیوں سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ چھوٹے شہروں، قصبوں اور دیہی علاقوں میں بھی دودھ، گوشت، سبزیوں، مشروبات، بیکری مصنوعات اور دیگر خوراک کی باقاعدہ نگرانی ہونی چاہیے۔ اسی طرح اسکولوں، ہسپتالوں، ہوٹلوں، ریسٹورنٹس اور عوامی کھانے کے مراکز کے لیے بھی حفظانِ صحت کے اصولوں پر سختی سے عمل درآمد ضروری ہے۔
اس مسئلے کا تعلق صرف صحت سے نہیں بلکہ قومی معیشت سے بھی ہے۔ غیر معیاری خوراک سے پیدا ہونے والی بیماریاں علاج کے اخراجات میں اضافہ کرتی ہیں، خاندانوں پر مالی بوجھ بڑھاتی ہیں اور ملکی پیداوار کو بھی متاثر کرتی ہیں۔ اگر کوئی شخص ناقص خوراک کے باعث بیمار پڑتا ہے تو اس کے علاج کا خرچ صرف اس فرد تک محدود نہیں رہتا بلکہ بالآخر معاشرے اور ریاست پر بھی بوجھ بنتا ہے۔ اس لیے معیاری خوراک کی فراہمی دراصل صحت مند افرادی قوت اور مضبوط معیشت کی بنیاد ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت مضرِ صحت خوراک کے خلاف کارروائیوں کو وقتی مہم کے بجائے مستقل پالیسی کا حصہ بنائے۔ ہر ضلع میں نگرانی کا مؤثر نظام ہو، نمونے باقاعدگی سے حاصل کیے جائیں، جدید لیبارٹریوں سے ان کی جانچ ہو، کارروائیوں کا ڈیٹا محفوظ کیا جائے اور بار بار قانون توڑنے والے عناصر کی مکمل نگرانی کی جائے۔ اگر کسی کاروباری مرکز سے ایک مرتبہ مضرِ صحت خوراک برآمد ہو تو اس کے بعد اس مرکز کی خصوصی نگرانی کی جانی چاہیے تاکہ دوبارہ جرم کی گنجائش کم سے کم ہو۔اسی طرح خوراک تیار کرنے اور فروخت کرنے والے افراد کی تربیت بھی ضروری ہے۔ ہر کاروباری شخص کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ صفائی، درجہ حرارت، ذخیرہ کرنے، گوشت محفوظ رکھنے اور خوراک کی تیاری کے بنیادی اصول کیا ہیں۔ حکومت اور متعلقہ ادارے تربیتی پروگرام متعارف کرا سکتے ہیں تاکہ قانون کی خلاف ورزی صرف سزا کے خوف سے نہیں بلکہ ذمہ داری کے احساس کے تحت بھی کم ہو۔
معاشرے میں یہ شعور پیدا کرنا ہوگا کہ سستی خوراک ہمیشہ فائدہ مند نہیں ہوتی۔ اگر کوئی چیز غیر معمولی طور پر کم قیمت پر فروخت ہو رہی ہے تو صارف کو اس کے معیار کے بارے میں محتاط ہونا چاہیے۔ اسی طرح دکانداروں اور کاروباری افراد کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ چند روپے کا اضافی منافع کسی انسان کی صحت یا زندگی سے زیادہ قیمتی نہیں۔ رزق حلال کا تقاضا یہی ہے کہ کاروبار میں دیانت، صفائی اور معیار کو بنیادی حیثیت دی جائے۔
حکومت اگر اس معاملے میں سنجیدہ ہے تو اسے محض چند گرفتاریاں اور چھاپے نہیں بلکہ ایک مکمل اصلاحی نظام قائم کرنا ہوگا۔ عدالتوں میں مقدمات کی مؤثر پیروی، پولیس کی بروقت تفتیش، معیاری لیبارٹری رپورٹس، محفوظ شواہد، شفاف نگرانی اور بلاامتیاز سزا اس نظام کے بنیادی ستون ہونے چاہئیں۔ سیاسی، سماجی یا مالی اثر و رسوخ سے بالاتر ہو کر ہر اس شخص کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے جو انسانی جانوں سے کھیلنے کو کاروبار سمجھتا ہے۔
آخرکار یہ بات پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ خوراک میں ملاوٹ یا مردہ جانور کا گوشت فروخت کرنا محض ایک تجارتی بے ضابطگی نہیں بلکہ انسانی زندگی کے بنیادی حق پر حملہ ہے۔ جو شخص مضرِ صحت خوراک فروخت کرتا ہے وہ اپنے گاہک کو صرف ایک ناقص چیز نہیں دے رہا ہوتا بلکہ اسے بیماری اور ممکنہ نقصان کے خطرے میں ڈال رہا ہوتا ہے۔ ایسے عناصر کے خلاف ریاست کو واضح، مضبوط اور مسلسل مؤقف اختیار کرنا ہوگا۔پاکستان میں معیاری اور خالص خوراک کی فراہمی ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ حکومت، عدلیہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں، فوڈ سیفٹی محکموں، کاروباری طبقے اور عوام کو مل کر اس حق کا تحفظ کرنا ہوگا۔ اگر قانون کی گرفت مضبوط، تفتیش مؤثر، عدالتوں میں مقدمات کی پیروی سنجیدہ اور سزاؤں کا نفاذ یقینی بنا دیا جائے تو مضرِ صحت خوراک کے اس مکروہ دھندے کو بڑی حد تک روکا جا سکتا ہے۔ انسانی جانوں سے کھیلنے والوں کو محض گرفتار کرنا کافی نہیں، انہیں قانون کے مطابق ایسی سزا تک پہنچانا ضروری ہے جو معاشرے میں واضح پیغام دے کہ چند سکوں کے لیے عوام کی صحت کو خطرے میں ڈالنے کی اجازت کسی صورت نہیں دی جا سکتی۔ یہی ایک صحت مند، محفوظ اور ذمہ دار معاشرے کی بنیاد ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More