jahaneimroz
Chief editor Faizullah Durrani

بلوچستان:بندوق سے آگے ایک راستہ اور بھی ہے!

تحریر:شاکر فانی

جیکب آباد

بلوچستان پاکستان کے لیے محض ایک صوبے کا نام نہیں، بلکہ یہ ملک کی جغرافیائی سلامتی، گوادر بندرگاہ، معدنی وسائل، ایران اور افغانستان کے ساتھ سرحدوں اور مستقبل کے معاشی منصوبوں کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل خطہ ہے،

موجودہ صورتحال میں بلوچستان ایک بار پھر پاکستان کے قومی بحث و مباحثے کا مرکز بن گیا ہے،ایک طرف صوبے میں دہشت گردی اور مسلح حملوں کا سلسلہ جاری ہے تو دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے ’’گرینڈ ڈائیلاگ‘‘ کی تجویز پیش کی ہے جب چاروں جانب انتشار کا عالم ہو ایسے وقت میں اس طرح کا اعلان یقیناً خوش آئند ہے کیونکہ جب ’’مست توکلی‘‘ کی سرزمین میں بندوقوں کی آواز بلند ہو رہی ہو تو مذاکرات کا دروازہ کھٹکھٹانا ذمہ داری کے اظہار کے ساتھ ساتھ سیاسی جرأت بھی ہے،

بلوچستان سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق گزشتہ دنوں بھی صوبے میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری رہیں،پاک فوج کے ترجمان کے مطابق بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں مختلف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران 49 شدت پسند مارے گئے جن میں سے 37 کا تعلق بلوچستان میں ہونے والی کارروائیوں سے تھا،اسی طرح بلوچستان میں تشدد کی شدت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق جولائی کے دوران صوبے میں تشدد اور سیکیورٹی آپریشنز کے نتیجے میں کم از کم 372 افراد ہلاک ہوئے،

یہ اعداد و شمار محض اعداد و شمار نہیں ذرا غور کیا جائے تو ان کے پیچھے فوجی جوانوں،پولیس اہلکاروں،عام شہریوں اور ان خاندانوں کی زندگیاں ہیں جو برسوں سے خوف اور بے یقینی کے ماحول میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں،

دہشت گردی کا مقابلہ کرنا یقیناً ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے،کسی بھی مسلح گروہ کو عام شہریوں کو نشانہ بنانے،سڑکوں،ریلوے، گیس پائپ لائنوں یا سرکاری اداروں پر حملے کرنے کا حق نہیں دیا جا سکتا،بلوچستان میں امن کے لیے مضبوط سکیورٹی نظام ناگزیر ہے،

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف سیکیورٹی آپریشنز طویل المدتی امن لا سکتے ہیں؟

دنیا کے مختلف تنازعات کا تجربہ ہمیں بتاتا ہے کہ بندوق شدت پسندوں کو شکست دے سکتی ہے،لیکن ہر مسئلے کی جڑ ختم کرنے کے لیے سیاسی،معاشی اور سماجی اقدامات بھی ضروری ہوتے ہیں،

ایسے منظرنامے میں وزیراعظم کا ’’گرینڈ ڈائیلاگ‘‘ کا تصور اہمیت اختیار کر جاتا ہے، تاکہ بلوچستان کی جائز شکایات کو مذاکرات اور باہمی مشاورت کے ذریعے حل کیا جا سکے، یہاں ایک بات بنیادی طور پر درست سمت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اپنی جگہ، لیکن جائز سیاسی شکایات کو سیاسی طریقے سے حل کرنا بھی انتہائی اہم ہے،بلوچستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہے،گیس،معدنیات،سونا،تانبا اور دیگر قدرتی وسائل کے حوالے سے یہ صوبہ پاکستان کے معاشی مستقبل کے لیے انتہائی اہم حیثیت رکھتا ہے،

اسی پس منظر میں وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’’بلوچستان کے معدنی وسائل سب سے پہلے وہاں کے لوگوں کے ہیں‘‘

اگر یہ جملہ محض تقریر کا حصہ بن کر نہ رہ جائے بلکہ عملی پالیسی کا روپ دھار لے تو بلوچستان کی صورتحال میں بہت بڑا فرق پیدا ہو سکتا ہے،

کوہلو،کاہان اور تربت کا نوجوان اگر یہ محسوس کرے کہ اس کے صوبے کے وسائل اس کے اپنے مستقبل، تعلیم، روزگار،صحت اور ترقی کے لیے استعمال ہو رہے ہیں تو ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ مضبوط ہو سکتا ہے،

لیکن اگر معدنی دولت،گیس اور دیگر وسائل نکلتے رہیں اور مقامی آبادی غربت،بے روزگاری،تعلیم کی کمی اور بنیادی سہولیات کے مسائل میں گھری رہے تو سوالات کا جنم لینا فطری بات ہے،

کیونکہ بلوچستان کا اصل سوال صرف ’’سیکیورٹی‘‘ کا سوال نہیں،بلکہ یہ وسائل، نمائندگی،روزگار،تعلیم،انصاف اور اعتماد کا سوال بھی ہے،

گرینڈ ڈائیلاگ کا دائرہ کتنا وسیع ہوگا؟

وزیراعظم صاحب کے ’’گرینڈ ڈائیلاگ‘‘ کے اعلان کے بعد اب سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اس مکالمے کا دائرہ کتنا وسیع ہوگا؟

اگر بات چیت صرف حکومت، پارلیمنٹ اور ان سیاسی جماعتوں تک محدود رہی جو پہلے ہی اقتدار کے نظام کا حصہ ہیں تو اس کے نتائج محدود ہو سکتے ہیں،

ضرورت اس امر کی ہے کہ بلوچستان کی حقیقی سیاسی،سماجی،قبائلی،علمی اور نوجوانوں کی نمائندگی کرنے والی مختلف آوازوں کو بھی مذاکرات کے عمل میں جگہ دی جائے،

لیکن اس کے ساتھ ایک بات بالکل واضح ہونی چاہیے کہ مذاکرات کا مطلب ریاست کی خودمختاری یا آئین سے باہر جانا ہرگز نہیں،پاکستان کے آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے ہر جائز شکایت پر بات چیت کی جاسکتی ہے،

بندوق اٹھانے اور جائز حقوق کے لیے سیاسی جدوجہد کرنے میں فرق رکھنا ہوگا،

بلوچستان میں امن صرف بلوچستان کی ضرورت نہیں بلکہ پورے پاکستان کی ضرورت ہے،

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ بلوچستان کو صرف ’’سیکیورٹی‘‘ کی عینک سے نہ دیکھا جائے اسی طرح بلوچستان کی قیادت اور عوام کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ دہشت گردی،عام شہریوں کا قتل اور سرکاری یا عوامی املاک کو نقصان پہنچانا کسی بھی جائز سیاسی مقصد کو مضبوط نہیں کرتا، بلکہ اسے کمزور کرتا ہے،

ریاست کو طاقت استعمال کرنے کا حق حاصل ہے،لیکن طاقت کے ساتھ انصاف بھی نظر آنا چاہیے،حکومت کو ترقیاتی منصوبے بنانے چاہئیں، لیکن ان کے ثمرات عام بلوچ تک بھی پہنچنے چاہئیں، سیاسی قیادت کو مذاکرات کا دروازہ کھولنا چاہیے لیکن اس دروازے میں داخل ہونے کے لیے ہتھیار کے بجائے دلیل اور آئین کا راستہ اختیار کرنا ہوگا،

بلوچستان کا مستقبل شاید اب ایک اہم انتخاب کے سامنے کھڑا ہے،

اب شاید ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا ہم بندوق کی آواز کو مزید بلند ہونے دیں گے یا مذاکرات کی آواز کو؟

شاید اسی سوال کا جواب نہ صرف بلوچستان بلکہ پاکستان کے آنے والی دہائیوں کے سیاسی اور معاشی مستقبل کا تعین کرے گا،

اور شاید وقت آ گیا ہے کہ بلوچستان کو صرف ایک ’’مسئلہ‘‘ سمجھنے کے بجائے اسے پاکستان کے مستقبل کا ایک اہم حصہ سمجھا جائے اور امن،انصاف،ترقی اور مذاکرات کے مشترکہ راستے پر آگے بڑھا جائے،

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More