jahaneimroz
Chief editor Faizullah Durrani

پاکستان میں معاشی استحکام کے لیے برآمدات اور سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر

تجزیہ بی این پی
پاکستان کی معیشت کو درپیش چیلنجز میں بیرونی کھاتوں کا دباؤ، براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی، برآمدات کی محدود استعداد، بلند کاروباری لاگت اور پالیسیوں میں عدم تسلسل نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے ماہ جولائی میں ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 32 کروڑ 8 لاکھ ڈالر رہا۔ یہ اعداد و شمار اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بیرونی شعبے میں بظاہر بعض مثبت پیش رفت کے باوجود پاکستان کو ابھی ایک ایسے پائیدار معاشی ماڈل کی ضرورت ہے جس میں درآمدات کے مقابلے میں برآمدات، بیرونی سرمایہ کاری اور پیداواری صلاحیت میں مسلسل اضافہ ہو۔
معیشت کے بیرونی کھاتے کا توازن کسی بھی ملک کی مالی خودمختاری اور معاشی استحکام کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان ماضی میں کئی مرتبہ کرنٹ اکاؤنٹ کے دباؤ، زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی اور بیرونی ادائیگیوں کے بحران کا سامنا کر چکا ہے۔ جب درآمدات بڑھتی ہیں اور برآمدات اسی رفتار سے آگے نہیں بڑھ پاتیں تو بیرونی کھاتے پر دباؤ پیدا ہوتا ہے۔ اس دباؤ کو وقتی طور پر ترسیلاتِ زر، بیرونی قرضوں یا دیگر مالی ذرائع سے کم کیا جا سکتا ہے، لیکن مستقل معاشی استحکام اس وقت ہی حاصل ہو سکتا ہے جب ملک اپنی پیداوار اور برآمدی آمدنی میں بنیادی اضافہ کرے۔
موجودہ صورتحال میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی بھی ایک اہم تشویش کا باعث ہے۔ رواں مالی سال کے پہلے ماہ بیرونی سرمایہ کاری 17 کروڑ 86 لاکھ ڈالر رہی جبکہ جولائی 2025ء میں یہ 22 کروڑ 35 لاکھ ڈالر تھی۔ یوں سالانہ بنیاد پر سرمایہ کاری میں تقریباً 20 فیصد کمی واقع ہوئی۔ غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی صرف زرمبادلہ کے فوری نقصان کا معاملہ نہیں بلکہ اس کے وسیع تر اثرات معیشت کی پیداواری صلاحیت، روزگار، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور صنعتی توسیع پر بھی پڑتے ہیں۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق سرمایہ کار کسی بھی ملک میں محض مراعات یا عارضی سہولتوں کی بنیاد پر طویل المدتی سرمایہ کاری نہیں کرتا۔ وہ سب سے پہلے پالیسیوں کے تسلسل، سیاسی و معاشی استحکام، ٹیکس نظام کی سادگی، توانائی کی دستیابی، قانونی تحفظ اور سرمایہ واپس لے جانے کی سہولت کو دیکھتا ہے۔ اگر کسی ملک میں کاروباری فیصلوں کے لیے غیر یقینی صورتحال برقرار رہے، قوانین بار بار تبدیل ہوں، ٹیکس کا نظام پیچیدہ ہو اور سرکاری اداروں سے معاملات طے کرنے میں غیر معمولی وقت لگے تو سرمایہ کار کے لیے دوسرے ممالک کا رخ کرنا زیادہ آسان ہو جاتا ہے۔
پاکستان کو اس حقیقت کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سرمایہ کاری محض اعداد و شمار میں اضافے کا نام نہیں۔ اصل مقصد ایسی سرمایہ کاری حاصل کرنا ہونا چاہیے جو ملک کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرے، نئی صنعتیں قائم کرے، روزگار پیدا کرے، برآمدات بڑھائے اور مقامی معیشت کو عالمی سپلائی چین سے جوڑے۔ ایسی سرمایہ کاری ہی بیرونی کھاتے کے دباؤ کو کم کرنے میں مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔اس مقصد کے لیے سب سے پہلے پالیسیوں میں تسلسل پیدا کرنا ہوگا۔ پاکستان میں سرمایہ کاروں کو کئی مرتبہ یہ شکایت رہی ہے کہ ایک حکومت کی جانب سے دی جانے والی مراعات یا پالیسی اگلی انتظامیہ میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ طویل المدتی سرمایہ کاری کے لیے یہ صورتحال نقصان دہ ہے۔ صنعتی منصوبے کئی سالوں میں اپنی لاگت پوری کرتے ہیں، اس لیے سرمایہ کار کو کم از کم اتنا یقین ضرور ہونا چاہیے کہ حکومت کے بنیادی معاشی فیصلے اچانک تبدیل نہیں ہوں گے۔
ٹیکس نظام کی سادگی بھی معاشی اصلاحات کا بنیادی تقاضا ہے۔ پیچیدہ ٹیکس نظام نہ صرف کاروباری لاگت میں اضافہ کرتا ہے بلکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے لیے مشکلات پیدا کرتا ہے۔ حکومت کو ٹیکس نیٹ وسیع کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ پہلے سے ٹیکس ادا کرنے والے کاروباری طبقے پر مسلسل اضافی بوجھ نہ ڈالا جائے۔ ٹیکس نظام جتنا سادہ، شفاف اور قابلِ پیش گوئی ہوگا، اتنا ہی سرمایہ کاری کا ماحول بہتر ہوگا۔
توانائی کی قیمت اور دستیابی پاکستان کے صنعتی شعبے کے لیے ایک اور بنیادی مسئلہ ہے۔ اگر صنعت کو مہنگی بجلی اور گیس ملے یا توانائی کی فراہمی میں مسلسل رکاوٹیں ہوں تو پاکستانی مصنوعات عالمی منڈی میں مسابقت نہیں کر سکتیں۔ اس لیے صنعتی پیداوار بڑھانے کے لیے سستی، قابلِ اعتماد اور بلاتعطل توانائی کی فراہمی ضروری ہے۔ توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے بغیر برآمدی مسابقت میں خاطر خواہ بہتری پیدا کرنا مشکل ہوگا۔
برآمدات میں اضافہ پاکستان کی معاشی پالیسی کا مرکزی ہدف ہونا چاہیے۔ ملک کی برآمدات طویل عرصے سے چند مخصوص شعبوں اور محدود منڈیوں پر انحصار کرتی رہی ہیں۔ ٹیکسٹائل اگرچہ پاکستان کی اہم برآمدی صنعت ہے، تاہم عالمی تجارت میں مسابقت بڑھنے کے باعث صرف روایتی مصنوعات پر انحصار کافی نہیں۔ پاکستان کو ویلیو ایڈڈ مصنوعات، انجینئرنگ مصنوعات، ادویات، آئی ٹی خدمات، زرعی مصنوعات، حلال خوراک، کھیلوں کا سامان اور دیگر شعبوں میں اپنی برآمدی صلاحیت بڑھانا ہوگی۔
ویلیو ایڈیشن دراصل وہ راستہ ہے جو کم قیمت خام مال کو زیادہ قدر رکھنے والی مصنوعات میں تبدیل کرتا ہے۔ اگر پاکستان اپنی زرعی پیداوار یا صنعتی خام مال کو بغیر پراسیسنگ کے برآمد کرتا رہے تو اس سے حاصل ہونے والی آمدنی محدود رہتی ہے۔ اس کے برعکس اگر یہی مصنوعات جدید ٹیکنالوجی، بہتر پیکجنگ، معیار اور برانڈنگ کے ساتھ عالمی منڈی میں پیش کی جائیں تو ان کی قیمت اور طلب دونوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
زرعی شعبہ بھی برآمدات میں اضافے کے لیے اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود کئی اہم زرعی مصنوعات کی عالمی منڈی میں وہ مقام حاصل نہیں کر سکا جس کی گنجائش موجود ہے۔ کسانوں کو سستے اور معیاری بیج، کھاد، زرعی ادویات، جدید آبپاشی اور جدید پیداواری تکنیک فراہم کرنا ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ فصلوں کی بعد از برداشت دیکھ بھال، ذخیرہ، کولڈ چین، پراسیسنگ اور پیکجنگ کا نظام بہتر بنانا ہوگا۔ اگر زرعی شعبے میں پیداوار کے ساتھ معیار اور ویلیو ایڈیشن پر توجہ دی جائے تو پاکستان کئی نئی عالمی منڈیوں تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔
پاکستان کے لیے نئی برآمدی منڈیوں کی تلاش بھی ناگزیر ہے۔ روایتی تجارتی شراکت داروں پر انحصار برقرار رکھتے ہوئے افریقہ، وسطی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور دیگر ابھرتی ہوئی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کی رسائی بڑھائی جا سکتی ہے۔ تجارتی سفارت کاری کو بھی زیادہ فعال بنانے کی ضرورت ہے۔ سفارت خانوں اور تجارتی مشنز کو محض رسمی سرگرمیوں تک محدود رکھنے کے بجائے پاکستانی مصنوعات کے لیے نئے خریدار تلاش کرنے، تجارتی معاہدوں کو عملی شکل دینے اور مقامی کاروباری اداروں کو عالمی منڈیوں سے جوڑنے کا ذریعہ بنایا جانا چاہیے۔
ترسیلاتِ زر پاکستان کے بیرونی کھاتے کے لیے انتہائی اہم سہارا ہیں، لیکن کسی بھی ملک کی طویل المدتی معاشی حکمت عملی کا انحصار صرف ترسیلاتِ زر پر نہیں ہونا چاہیے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم گھریلو معیشت اور زرمبادلہ کے ذخائر کے لیے اہم ہیں، تاہم یہ بنیادی طور پر بیرون ملک پاکستانیوں کی آمدنی کا حصہ ہیں۔ پائیدار معاشی ترقی کے لیے ملک کے اندر ایسی پیداواری سرگرمیاں بڑھانا ضروری ہے جو مستقل طور پر غیر ملکی زرمبادلہ کما سکیں۔
اسی طرح بیرونی قرضے بھی وقتی مالی ضرورت پوری کر سکتے ہیں مگر انہیں معاشی نمو کا متبادل نہیں بنایا جا سکتا۔ قرضوں کی واپسی کے لیے بھی مستقبل میں زرمبادلہ درکار ہوگا۔ اگر معیشت کی برآمدی صلاحیت نہیں بڑھتی تو قرضوں کی ادائیگی کا بوجھ مزید بڑھ سکتا ہے۔ اس لیے قرضوں سے حاصل ہونے والے وسائل کو ایسے منصوبوں میں لگانا ضروری ہے جو پیداواری صلاحیت اور برآمدی آمدنی میں اضافہ کریں۔
سرکاری اداروں کی اصلاحات بھی معاشی استحکام کی بنیادی ضرورت ہیں۔ ایسے ادارے جو مسلسل مالی بوجھ کا سبب بنتے ہیں، ان کی کارکردگی بہتر بنانے، انتظامی ڈھانچے کو مؤثر بنانے اور جہاں ضروری ہو وہاں نجی شعبے کی شمولیت بڑھانے کی ضرورت ہے۔ سرکاری اداروں میں اصلاحات سے نہ صرف قومی خزانے پر دباؤ کم ہو سکتا ہے بلکہ کاروباری ماحول میں بھی بہتری آ سکتی ہے۔
معاہدوں کا مؤثر نفاذ سرمایہ کاری کے ماحول کی بنیاد ہے۔ سرمایہ کار کو یہ اعتماد ہونا چاہیے کہ اس کے قانونی اور تجارتی حقوق محفوظ رہیں گے اور کسی تنازع کی صورت میں اسے بروقت انصاف ملے گا۔ عدالتی اور انتظامی نظام میں غیر ضروری تاخیر سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کرتی ہے۔ اس لیے کاروباری تنازعات کے فوری حل کے لیے مؤثر نظام وضع کرنا بھی معاشی اصلاحات کا اہم حصہ ہونا چاہیے۔پاکستان کو اپنی معیشت میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے کردار کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ روزگار کے وسیع مواقع پیدا کرنے، مقامی پیداوار بڑھانے اور برآمدی بنیاد وسیع کرنے میں یہ شعبہ اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ تاہم چھوٹے کاروبار کو قرضوں تک رسائی، ٹیکس سہولت، تربیت، ٹیکنالوجی اور مارکیٹ تک رسائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر یہ رکاوٹیں کم کی جائیں تو ہزاروں کاروباری ادارے نہ صرف مقامی طلب پوری کر سکتے ہیں بلکہ عالمی منڈی میں بھی داخل ہو سکتے ہیں۔
ڈیجیٹل معیشت پاکستان کے لیے ایک نسبتاً کم لاگت والا برآمدی موقع ہے۔ آئی ٹی خدمات، سافٹ ویئر، فری لانسنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور دیگر آن لائن خدمات کے ذریعے نوجوان افرادی قوت عالمی منڈی سے براہِ راست آمدنی حاصل کر سکتی ہے۔ حکومت کو اس شعبے کے لیے قابلِ اعتماد انٹرنیٹ، ادائیگیوں کے آسان نظام، تربیت اور عالمی پلیٹ فارمز تک رسائی کو مزید بہتر بنانا چاہیے۔معاشی پالیسی کا ایک اہم مقصد یہ بھی ہونا چاہیے کہ درآمدات کو غیر ضروری طور پر دبانے کے بجائے مقامی پیداوار میں اضافہ کیا جائے۔ ایسی درآمدات جو صنعت کے لیے خام مال، جدید مشینری یا پیداواری ٹیکنالوجی فراہم کرتی ہیں، ان میں رکاوٹیں پیدا کرنے سے مقامی صنعت متاثر ہو سکتی ہے۔ اس کے برعکس غیر ضروری اور پرتعیش درآمدات کے بارے میں متوازن پالیسی اختیار کی جا سکتی ہے۔ اصل توجہ اس امر پر ہونی چاہیے کہ مقامی صنعت عالمی معیار کی مصنوعات تیار کرے اور پاکستان درآمد کنندہ کے بجائے مسابقتی برآمد کنندہ بنے۔
موجودہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اس بات کا اشارہ ہے کہ بیرونی شعبے میں بنیادی اصلاحات کی ضرورت ابھی ختم نہیں ہوئی۔ اگر حکومت برآمدات بڑھانے، سرمایہ کاری بحال کرنے، توانائی کی لاگت کم کرنے، ٹیکس نظام آسان بنانے اور صنعتی پیداوار میں اضافہ کرنے کے لیے مربوط حکمت عملی اختیار کرتی ہے تو بیرونی کھاتے کو بتدریج مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس اگر وقتی مالی انتظامات پر انحصار جاری رہا تو معاشی دباؤ وقفے وقفے سے دوبارہ سامنے آتا رہے گا۔
**تجزیہ بی این پی** یہ واضح کرتا ہے کہ پاکستان کا معاشی مسئلہ صرف زرمبادلہ کے ذخائر یا ایک ماہ کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے تک محدود نہیں۔ اصل مسئلہ معیشت کے اس ڈھانچے میں ہے جس میں ملک کی درآمدی ضروریات اور برآمدی صلاحیت کے درمیان مستقل فرق موجود ہے۔ اس فرق کو ختم کرنے کے لیے پیداوار، برآمدات اور سرمایہ کاری کے تینوں شعبوں میں بیک وقت پیش رفت ضروری ہے۔ جب تک معیشت میں نئی صنعتیں، نئی منڈیاں، نئی مصنوعات اور نئی سرمایہ کاری پیدا نہیں ہوگی، بیرونی کھاتے کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل نہیں ہو سکتا۔
حکومت کے لیے سب سے بڑا امتحان یہ ہے کہ وہ معاشی پالیسی کو قلیل المدتی بحرانوں سے نکال کر طویل المدتی منصوبہ بندی کی طرف لے جائے۔ سرمایہ کار کو اعتماد، صنعت کو مسابقتی ماحول، کسان کو مناسب لاگت اور برآمد کنندہ کو عالمی منڈی تک رسائی فراہم کرنا ہوگی۔ اس کے ساتھ انسانی وسائل کی ترقی، فنی تعلیم اور جدید ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری بھی ضروری ہے، کیونکہ مستقبل کی عالمی معیشت میں صرف سستی افرادی قوت نہیں بلکہ ہنر مند افرادی قوت ہی مسابقت کا بنیادی ذریعہ ہوگی۔پاکستان کے پاس ایک بڑی آبادی، وسیع زرعی بنیاد، نوجوان افرادی قوت، جغرافیائی محل وقوع اور متعدد صنعتی شعبوں کی صورت میں اہم معاشی امکانات موجود ہیں۔ ضرورت صرف ان امکانات کو منظم اور پائیدار معاشی پالیسی میں تبدیل کرنے کی ہے۔ اگر حکومت پالیسیوں میں تسلسل برقرار رکھے، سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کرے، برآمدی صنعت کو سہولت دے اور کاروباری لاگت کم کرے تو موجودہ معاشی چیلنجز کو بتدریج مواقع میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔آخرکار معاشی استحکام کسی ایک بجٹ، ایک قرض یا ایک مالی پیکیج سے حاصل نہیں ہوتا۔ یہ مسلسل اصلاحات، پیداواری صلاحیت میں اضافے، برآمدی آمدنی کے فروغ، سرمایہ کاری کے تحفظ اور مضبوط اداروں کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔ پاکستان کو اب ایسی معاشی سمت اختیار کرنے کی ضرورت ہے جس میں قرض اور درآمدات کے بجائے پیداوار، برآمدات اور سرمایہ کاری ترقی کے بنیادی محرک بنیں۔ یہی راستہ کرنٹ اکاؤنٹ کے دباؤ کو کم کرنے، زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے اور ملک کو پائیدار معاشی استحکام کی طرف لے جانے میں مدد دے سکتا ہے۔

پاکستان میں مذاکرات ہی سیاسی استحکام اور جمہوری تسلسل کا راستہ ہیں

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More