تحریر: فاطمہ خان
کسی بھی شہر کی خوبصورتی کا اصل معیار صرف اس کی عمارتیں، سڑکیں اور بازار نہیں بلکہ اس کا صاف ستھرا اور صحت مند ماحول بھی ہوتا ہے۔ شہریوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے اور صفائی ستھرائی ان سہولیات میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ اسی تناظر میں چمن میں صفائی کی ناقص صورتحال پر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی جانب سے نوٹس لینا ایک اہم اور بروقت اقدام ہے، جس کے نتیجے میں شہر میں صفائی کی خصوصی مہم شروع کی گئی۔ چمن بلوچستان کا ایک اہم شہر ہے جو اپنی جغرافیائی، تجارتی اور سماجی اہمیت کے باعث ہمیشہ نمایاں رہا ہے۔ شہر کے مصروف بازار، رہائشی علاقے، مرکزی شاہراہیں اور روزمرہ کی تجارتی سرگرمیاں مؤثر بلدیاتی نظام اور بہتر صفائی کی متقاضی ہیں۔ ایسے شہر میں گندگی اور کچرے کا طویل عرصے تک موجود رہنا نہ صرف شہر کے حسن کو متاثر کرتا ہے بلکہ شہریوں کی صحت اور روزمرہ زندگی پر بھی منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی جانب سے صفائی کی صورتحال کا نوٹس اس اعتبار سے اہم ہے کہ اس اقدام نے ایک بنیادی شہری مسئلے کو حکومتی ترجیحات میں شامل کیا۔ اچھی طرز حکمرانی کا بنیادی تقاضا یہی ہے کہ حکومت صرف بڑے منصوبوں اور پالیسی معاملات پر توجہ نہ دے بلکہ ان مسائل کا بھی فوری ازالہ کرے جن کا براہ راست تعلق عام شہری کی روزمرہ زندگی سے ہو۔صفائی محض شہر کی ظاہری خوبصورتی کا معاملہ نہیں بلکہ اس کا براہ راست تعلق صحت عامہ سے ہے۔ سڑکوں، گلیوں اور عوامی مقامات پر کچرے کے ڈھیر نہ صرف بدبو اور آلودگی کا باعث بنتے ہیں بلکہ مختلف بیماریوں کے پھیلاؤ کے امکانات بھی بڑھاتے ہیں۔ خصوصاً بچوں، بزرگوں اور کمزور طبقات کے لیے غیر صحت مند ماحول زیادہ نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔چمن میں شروع کی جانے والی صفائی مہم کو اسی لیے محض ایک وقتی سرگرمی کے طور پر نہیں بلکہ ایک مستقل اور مؤثر بلدیاتی نظام کی بنیاد کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ کچرا اٹھانا اور سڑکیں صاف کرنا فوری ضرورت ہے، تاہم دیرپا نتائج کے لیے باقاعدہ صفائی، کچرے کو مناسب طریقے سے ٹھکانے لگانے، نگرانی اور ذمہ دار اداروں کی مؤثر کارکردگی بھی ضروری ہے۔یہاں مقامی حکومت اور متعلقہ بلدیاتی اداروں کا کردار نہایت اہم ہوجاتا ہے۔ شہریوں کا حکومت سے سب سے براہ راست رابطہ اکثر بنیادی شہری سہولیات کے ذریعے ہوتا ہے۔ صاف سڑکیں، مناسب نکاسی آب، بروقت کچرا اٹھانے کا نظام اور صاف عوامی مقامات حکومت کی کارکردگی کا وہ پہلو ہیں جنہیں شہری روزانہ کی بنیاد پر محسوس کرتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ کا نوٹس اس بات کا واضح پیغام ہے کہ بنیادی شہری سہولیات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ صفائی کے نظام کو بہتر بنائے، متعلقہ اداروں کو وسائل فراہم کرے اور کارکردگی کی باقاعدہ نگرانی یقینی بنائے تاکہ صفائی مہم کے مثبت اثرات مستقل بنیادوں پر برقرار رہیں۔تاہم کسی بھی شہر کو مستقل طور پر صاف رکھنے کے لیے صرف حکومتی اقدامات کافی نہیں ہوتے۔ شہریوں کا تعاون بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ گھروں، دکانوں اور کاروباری مراکز کا کچرا مقررہ مقامات پر ڈالنا، سڑکوں اور گلیوں میں کچرا پھینکنے سے گریز کرنا اور صفائی کے عملے کے ساتھ تعاون کرنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔چمن کے تاجر بھی اس حوالے سے اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ بازاروں اور تجارتی مراکز میں صفائی نہ صرف ماحول کو بہتر بناتی ہے بلکہ خریداروں اور کاروباری افراد کے لیے بھی ایک بہتر ماحول پیدا کرتی ہے۔ ایک صاف شہر نہ صرف رہنے کے لیے بہتر ہوتا ہے بلکہ تجارت اور معاشی سرگرمیوں کے لیے بھی زیادہ سازگار ماحول فراہم کرتا ہے۔اس مہم کی کامیابی کا اصل پیمانہ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ پہلے مرحلے میں کتنی سڑکیں صاف کی گئیں یا کتنا کچرا اٹھایا گیا۔ اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب صفائی چند روزہ مہم کے بجائے معمول کا مستقل حصہ بن جائے اور چمن کے شہری آنے والے مہینوں میں بھی اپنے شہر کو صاف ستھرا دیکھیں۔اس مقصد کے لیے باقاعدہ مانیٹرنگ، ذمہ داریوں کا واضح تعین، صفائی کے عملے کی مؤثر تعیناتی، مناسب وسائل اور شہری شکایات کے فوری ازالے کا نظام ضروری ہے۔ اگر صفائی مہم کے بعد بھی یہی تسلسل برقرار رکھا جائے تو چمن میں شہری سہولیات کے معیار میں نمایاں بہتری لائی جاسکتی ہے۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی جانب سے چمن کی صفائی کی صورتحال کا نوٹس لینا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومت عوامی مسائل کے حل کو اہمیت دے رہی ہے۔ تاہم اس اقدام کی حقیقی کامیابی اسی وقت ممکن ہوگی جب فوری کارروائی کو مستقل نظام میں تبدیل کیا جائے۔ صاف چمن صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ تمام شہریوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ حکومت صفائی کا نظام فراہم کرسکتی ہے، ادارے اس پر عمل درآمد کرسکتے ہیں، لیکن اس نظام کو کامیاب بنانے کے لیے شہریوں کا تعاون ناگزیر ہے۔بالآخر کسی بھی حکومت کی کارکردگی کا اصل مقصد عوام کی زندگی آسان بنانا ہے۔ چمن میں صفائی مہم اسی سوچ کا عملی اظہار بن سکتی ہے۔ اگر حکومتی اقدامات، ادارہ جاتی ذمہ داری اور شہری تعاون ایک دوسرے کا ساتھ دیں تو ایک صاف، صحت مند اور باوقار چمن محض ایک خواہش نہیں بلکہ ایک مستقل حقیقت بن سکتا ہے۔