تجزیہ راجا محمد الیاس کیانی
قومی اسمبلی اور سینیٹ سے پاکستان دفاعی افواج ایکٹ 2026ء اور نیشنل کمانڈ اتھارٹی ترمیمی بل 2010ء کی منظوری پاکستان کے دفاعی اور عسکری نظم و نسق میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ یہ قانون سازی محض چند عہدوں یا دفاتر کی تنظیم نو تک محدود نہیں بلکہ اس کے ذریعے بری، بحری اور فضائی افواج کے درمیان مشترکہ کمان، مربوط فیصلہ سازی اور دفاعی معاملات میں مؤثر ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی حالات، جدید جنگی تقاضوں اور ہائبرڈ وارفیئر کے بڑھتے ہوئے خطرات کے تناظر میں دفاعی نظام میں وقتاً فوقتاً ضروری اصلاحات ناگزیر ہوتی ہیں۔ کسی بھی ریاست کی دفاعی قوت اسی وقت مؤثر ثابت ہوتی ہے جب اس کے مختلف عسکری شعبے ایک واضح اور مربوط حکمتِ عملی کے تحت کام کریں۔
پاکستان کا نیا دفاعی ڈھانچہ: ڈیفنس فورسز ایکٹ 2026 کا جائزہ
نئے قانون کے تحت ڈیفنس فورسز ہیڈ کوارٹر قائم کیا جائے گا جو مسلح افواج کے مشترکہ ہیڈ کوارٹر کے طور پر کام کرے گا۔ اس ادارے کی نگرانی چیف آف ڈیفنس فورسز کے پاس ہو گی، جنہیں تینوں سروسز کی آپریشنل کمانڈ، کنٹرول اور مرکزی رابطہ کاری کا اختیار حاصل ہو گا۔ اس نظام کا بنیادی مقصد یہی معلوم ہوتا ہے کہ دفاعی معاملات میں بری، بحری اور فضائی افواج کے درمیان الگ الگ منصوبہ بندی کے بجائے مشترکہ حکمت عملی اختیار کی جائے تاکہ کسی بھی جنگی یا قومی سلامتی کے بحران میں فیصلہ سازی زیادہ تیز، مربوط اور مؤثر ہو سکے۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق جدید دور میں جنگ کا تصور بنیادی طور پر تبدیل ہو چکا ہے۔ ماضی میں جنگ کا فیصلہ زیادہ تر زمینی محاذ پر فوجی طاقت کے ذریعے ہوتا تھا، لیکن اب سائبر حملے، ڈرون ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، اطلاعاتی جنگ، معاشی دباؤ، دہشت گردی اور ہائبرڈ وارفیئر بھی قومی سلامتی کے بنیادی چیلنجز بن چکے ہیں۔ ایک ہی وقت میں مختلف محاذوں سے پیدا ہونے والے خطرات کا مقابلہ اسی صورت میں مؤثر طور پر کیا جا سکتا ہے جب تمام دفاعی اداروں کے درمیان معلومات، وسائل اور کارروائیوں کا مربوط نظام موجود ہو۔
اسی ضرورت کے پیش نظر چیف آف ڈیفنس فورسز کے عہدے کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔ بری، بحری اور فضائی افواج اپنی اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے ایک مشترکہ دفاعی حکمتِ عملی کے تحت کام کریں گی۔ اس طرح کسی بھی بڑے خطرے کی صورت میں مختلف سروسز کے درمیان رابطے اور فیصلوں میں غیرضروری تاخیر کے امکانات کم ہوں گے۔ جنگی حالات میں چند منٹوں کی تاخیر بھی بڑے نتائج پیدا کر سکتی ہے، اس لیے جدید عسکری نظام میں تیز رفتار فیصلہ سازی اور مرکزی رابطہ کاری کی اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔
عمران خان کو ہٹانے کی اصل وجہ: پیٹرو ڈالر، روس سے تیل کا معاہدہ اور امریکی سازش
نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ میں کی جانے والی ترامیم بھی اسی نئے انتظامی تصور کا حصہ ہیں۔ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے عہدے کے خاتمے اور چیف آف ڈیفنس فورسز کو نئے نظام میں مرکزی حیثیت دینے سے دفاعی کمانڈ کے ڈھانچے کو ازسرنو ترتیب دیا گیا ہے۔ حکومتی مؤقف کے مطابق یہ تبدیلیاں 27ویں آئینی ترمیم کے بعد پیدا ہونے والی انتظامی ضرورت کے تحت کی گئی ہیں تاکہ آئینی اور قانونی سطح پر پیدا ہونے والی نئی ذمہ داریوں کو واضح کیا جا سکے۔قومی اسمبلی میں ان بلوں کی منظوری کے دوران اپوزیشن کی جانب سے طریقہ کار پر اعتراضات بھی سامنے آئے۔ اپوزیشن ارکان نے مؤقف اختیار کیا کہ اہم نوعیت کی قانون سازی کو ضمنی ایجنڈے کے ذریعے پیش کرنا مناسب نہیں اور ارکان کو بلوں کا مطالعہ کرنے اور بحث کے لیے زیادہ وقت ملنا چاہیے تھا۔ احتجاجاً اپوزیشن نے ووٹنگ کا بائیکاٹ کیا اور ایوان سے واک آؤٹ بھی کیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے قانون سازی کی حمایت کے باوجود حکومت کی طرف سے اتحادیوں اور اپوزیشن کو اعتماد میں نہ لینے پر تحفظات کا اظہار کیا گیا۔
یہ اعتراض اپنی جگہ اہم ہے کیونکہ قومی سلامتی سے متعلق قوانین صرف حکومت یا کسی ایک سیاسی جماعت کے معاملات نہیں ہوتے بلکہ ان کا تعلق پورے ملک کے دفاع اور مستقبل سے ہوتا ہے۔ اس لیے بہتر طرزِ حکمرانی کا تقاضا یہی ہے کہ ایسی قانون سازی پر پارلیمان میں زیادہ سے زیادہ مشاورت ہو۔ اختلافِ رائے جمہوری نظام کا لازمی حصہ ہے اور قومی سلامتی کے معاملات میں بھی سیاسی جماعتوں کو اپنی رائے دینے کا مکمل حق حاصل ہونا چاہیے۔ تاہم قانون سازی کے مقصد اور اس کے عملی فوائد کو بھی محض سیاسی اختلافات کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔
حکومت کی طرف سے اس قانون سازی کا بنیادی جواز افواج کے درمیان زیادہ مؤثر تعاون کو قرار دیا گیا ہے۔ وزیر قانون نے پارلیمان میں واضح کیا کہ تینوں مسلح افواج نے حالیہ معرکہ حق کے دوران باہمی تعاون اور مشترکہ حکمت عملی کے ساتھ دفاعی کارروائیاں کیں اور اسی اشتراکِ عمل کو مستقبل کے لیے ادارہ جاتی شکل دینے کی ضرورت محسوس کی گئی۔ اگر کسی جنگ یا قومی بحران کے دوران بری، بحری اور فضائی قوتیں ایک دوسرے کے ساتھ مکمل ہم آہنگی سے کام کریں تو مجموعی دفاعی صلاحیت کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔
تاریخی طور پر بھی بڑی عسکری قوتوں نے مشترکہ کمان کے تصور کو مختلف شکلوں میں اختیار کیا ہے۔ جدید فوجی حکمت عملی میں مشترکہ آپریشنز کو بنیادی اہمیت حاصل ہے کیونکہ کوئی ایک سروس تنہا ہر قسم کے خطرے کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ زمینی کارروائی کے لیے فضائی مدد درکار ہوتی ہے، فضائی کارروائی کے لیے مؤثر انٹیلی جنس اور نگرانی ضروری ہوتی ہے جبکہ سمندری حدود کے تحفظ کے لیے بحری طاقت کے ساتھ فضائی اور زمینی اداروں کا تعاون بھی ناگزیر ہوتا ہے۔ اس لیے مشترکہ کمان کا تصور محض انتظامی ضرورت نہیں بلکہ جدید جنگی تقاضوں کا حصہ ہے۔پاکستان کی جغرافیائی صورتحال بھی ایک ایسے مربوط دفاعی نظام کی متقاضی ہے۔ ملک کو ایک طرف روایتی فوجی خطرات کا سامنا رہتا ہے تو دوسری طرف دہشت گردی، سرحدی کشیدگی، غیر روایتی خطرات اور ہائبرڈ جنگ کے امکانات بھی موجود رہتے ہیں۔ ایسے ماحول میں دفاعی اداروں کے درمیان مضبوط رابطہ قومی سلامتی کے لیے بنیادی ضرورت بن جاتا ہے۔ مشترکہ کمان کا نظام اگر درست انداز میں نافذ کیا جائے تو مختلف محاذوں پر موجود خطرات کے خلاف ایک جامع اور مربوط حکمت عملی تشکیل دی جا سکتی ہے۔نئے قانون میں چیف آف ڈیفنس فورسز کو بعض انتظامی اور سروس سے متعلق اختیارات بھی دیے گئے ہیں۔ ان میں بعض افراد کو ریٹائر، سبکدوش یا برطرف کرنے کے اختیارات کے علاوہ استعفے منظور یا مسترد کرنے اور مخصوص حالات میں ملازمت کی مدت یا ریٹائرمنٹ کی عمر میں تبدیلی کے اختیارات شامل ہیں۔ تاہم آئین کے آرٹیکل 243 کے تحت مقرر ہونے والے عہدیدار اس دائرہ اختیار سے مستثنیٰ ہوں گے۔ اس طرح ایک طرف اختیارات کو مرکزی سطح پر مجتمع کرنے کی کوشش کی گئی ہے تو دوسری طرف آئینی حدود کو بھی برقرار رکھا گیا ہے۔
اختیارات کے اس ارتکاز کے ساتھ ادارہ جاتی توازن اور نگرانی کا سوال بھی اہم ہے۔ مضبوط کمانڈ کا مطلب یہ نہیں کہ مشاورت کی اہمیت کم ہو جائے۔ جدید عسکری نظام میں مرکزی فیصلہ سازی کے ساتھ مختلف سروسز کے ماہرین، کمانڈروں اور متعلقہ اداروں کی پیشہ ورانہ رائے بھی ضروری ہوتی ہے۔ کامیاب نظام وہی ہو گا جس میں فیصلہ سازی تیز ہو لیکن اس کے ساتھ ذمہ داری بھی واضح ہو، احتساب کا مؤثر نظام موجود ہو اور تمام متعلقہ ادارے اپنی اپنی پیشہ ورانہ مہارت کے مطابق کردار ادا کریں۔
اسی تناظر میں وزارت دفاع کے کردار کا ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت بھی محسوس ہوتی ہے۔ اگر دفاعی افواج کے لیے ایک نیا مشترکہ ہیڈ کوارٹر اور مرکزی عسکری کمانڈ قائم کی جا رہی ہے تو وزارت دفاع، وفاقی حکومت اور عسکری قیادت کے درمیان ذمہ داریوں کی حدود بھی واضح ہونی چاہئیں۔ دفاعی پالیسی، انتظامی معاملات، مالی امور، پارلیمانی نگرانی اور عسکری آپریشنل کمانڈ کے دائرہ? کار میں واضح تفریق ضروری ہے۔ اس سے نہ صرف اداروں کے درمیان ممکنہ ٹکراؤ سے بچا جا سکے گا بلکہ فیصلہ سازی بھی زیادہ مؤثر ہو گی۔
تجزیہ بی این پی یہ واضح کرتا ہے کہ کسی بھی دفاعی قانون کی کامیابی کا اصل پیمانہ اس کی منظوری نہیں بلکہ اس کا عملی نفاذ ہوتا ہے۔ اگر نیا نظام صرف عہدوں اور دفاتر کی تبدیلی تک محدود رہتا ہے تو اس کے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوں گے۔ اصل کامیابی اس وقت ہو گی جب تینوں افواج کی مشترکہ تربیت، منصوبہ بندی، انٹیلی جنس شیئرنگ، ٹیکنالوجی کے استعمال اور آپریشنل صلاحیت میں حقیقی بہتری آئے گی۔ مشترکہ کمان کا فائدہ اسی وقت سامنے آئے گا جب بری، بحری اور فضائی افواج اپنی انفرادی صلاحیتوں کو ایک مشترکہ قومی دفاعی قوت میں تبدیل کریں گی۔
پاکستان کو موجودہ دور میں روایتی جنگ کے ساتھ ساتھ غیر روایتی اور ہائبرڈ خطرات کا بھی سامنا ہے۔ سائبر سکیورٹی، ڈرونز، مصنوعی ذہانت اور جدید نگرانی کے نظام مستقبل کی جنگ کا لازمی حصہ بن چکے ہیں۔ اس لیے دفاعی نظام میں بھی روایتی طریقوں کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی کو مرکزی حیثیت دینا ہو گی۔ مشترکہ کمان کے ذریعے اگر ٹیکنالوجی، انٹیلی جنس اور آپریشنل وسائل کو بہتر انداز میں مربوط کیا جاتا ہے تو پاکستان کی دفاعی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ افواجِ پاکستان نے مختلف ادوار میں اپنی پیشہ ورانہ صلاحیت، نظم و ضبط اور قربانیوں کے ذریعے ملک کے دفاع میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ نئے کمانڈ نظام کی کامیابی بھی اسی پیشہ ورانہ روایت کو مزید مضبوط بنانے میں ہے۔ افواج کی طاقت صرف جدید ہتھیاروں یا فوجی تعداد سے نہیں بلکہ تربیت، نظم، قیادت، ٹیکنالوجی اور بروقت فیصلوں سے پیدا ہوتی ہے۔ اگر مشترکہ کمانڈ ان تمام عوامل کو ایک مربوط نظام میں جمع کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ ملکی دفاع کے لیے ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔تاہم قومی دفاع کی مضبوطی کے لیے سیاسی استحکام بھی ضروری ہے۔ دفاعی ادارے اپنی ذمہ داریاں اسی وقت زیادہ مؤثر انداز میں ادا کر سکتے ہیں جب ریاست کے تمام ادارے اپنے آئینی دائرہ? کار میں رہتے ہوئے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں۔ پارلیمان قانون سازی کرے، حکومت پالیسی مرتب کرے، وزارت دفاع انتظامی امور کو مؤثر بنائے اور عسکری قیادت اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے مطابق دفاعی امور کو منظم کرے۔ اداروں کے درمیان واضح حدود اور باہمی احترام ہی مضبوط ریاستی نظام کی بنیاد بنتے ہیں۔
مجموعی طور پر پاکستان دفاعی افواج ایکٹ 2026ء اور نیشنل کمانڈ اتھارٹی میں ترامیم کو ملکی دفاعی نظام کی تنظیم نو کے ایک اہم مرحلے کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد تینوں مسلح افواج کے درمیان بہتر رابطہ، مرکزی کمانڈ اور مشترکہ کارروائیوں کو مضبوط بنانا ہے۔ بدلتے ہوئے جنگی تقاضوں کے پیش نظر یہ ضرورت قابلِ فہم ہے، تاہم اس نظام کی کامیابی کا انحصار شفاف عملدرآمد، واضح ذمہ داریوں، پیشہ ورانہ مشاورت، آئینی حدود اور مؤثر ادارہ جاتی نگرانی پر ہو گا۔پاکستان کو مستقبل میں ایسے دفاعی نظام کی ضرورت ہے جو صرف آج کے خطرات کا مقابلہ کرنے کے قابل نہ ہو بلکہ آنے والے برسوں کے چیلنجز کا بھی سامنا کر سکے۔ مشترکہ کمانڈ کا تصور اسی سمت میں ایک قدم بن سکتا ہے۔ اگر اسے قومی مفاد، پیشہ ورانہ اصولوں اور آئینی تقاضوں کے مطابق عملی شکل دی گئی تو اس سے دفاعی فیصلہ سازی میں سرعت، عسکری اداروں میں ہم آہنگی اور قومی سلامتی کے مجموعی نظام میں بہتری پیدا ہونے کی توقع کی جا سکتی ہے۔ یہی اس قانون سازی کا اصل امتحان بھی ہو گا اور اس کی کامیابی کا حقیقی معیار بھی۔
[…] افواجِ پاکستان کی مشترکہ کمان، دفاعی نظام کی نئی سمت […]