کوئٹہ(سٹاف رپورٹر )بلوچستان کے علاقے بوستان کچلاک سے تعلق رکھنے والی باصلاحیت نوجوان ولولہ بشیر خان کاکڑ نے امریکا کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں اعلی تعلیم حاصل کر کے نہ صرف اپنے خاندان بلکہ پورے بلوچستان کا نام دنیا بھر میں روشن کر دیا ہے۔
ولولہ بشیر کاکڑ بلوچستان کی پہلی شخصیت بن گئی ہیں جنہوں نے امریکا کے نامور ادارے “میک کارٹ اسکول آف پبلک پالیسی” (McCourtSchoolofPublicPolicy) سے ماسٹر آف انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ پالیسی کی باقاعدہ ڈگری حاصل کی ہے۔ وہ اپنے پورے خاندان کی بھی پہلی خاتون ہیں جنہوں نے امریکا سے اعلی تعلیم حاصل کی ہے۔
ان کا یہ سفر بلوچستان کے دور دراز علاقے بوستان کچلاک سے شروع ہوا جہاں انہوں نے محدود وسائل، ہاتھ سے لکھے گئے نوٹس اور روایتی تعلیمی ماحول سے نکل کر جدید ڈیجیٹل لرننگ، پالیسی ریسرچ، ڈیٹا اینالیسز اور اسٹیٹا (Stata) جیسے عالمی تعلیمی نظام میں اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
تعلیمی سفر کے دوران سال 2025 کے موسمِ گرما میں ولولہ نے جے پال انڈونیشیا (JPALIndonesia) کے ساتھ بچوں کی نشوونما کے منصوبے پر کام کیا اور وہاں کے دیہاتوں کا دورہ کر کے سروے کی تیاری میں اہم کردار ادا کیا۔
اسی سال انہوں نے ورلڈ بینک (WorldBank) کے اشتراک سے کوئٹہ میں منعقدہ ونٹر اسکول میں بھی شرکت کی، جبکہ 2025 سے 2026 کے دوران کانگو کے مشرقی علاقوں میں انسانی ضروریات اور تنازعات سے متاثرہ آبادیوں پر اہم تحقیق کا حصہ رہیں۔
انہوں نے اپنے فائنل پراجیکٹ میں امریکا میں بے گھر خاندانوں کے بچوں کی نگہداشت کی سہولیات بہتر بنانے پر تفصیلی ریسرچ اور تجاویز پیش کیں۔ان کی اس تاریخی کامیابی کا سب سے یادگار اور جذباتی لمحہ وہ تھا جب ان کے والد انجینئر بشیر خان کاکڑ خصوصی طور پر کوئٹہ سے واشنگٹن ڈی سی پہنچے تاکہ اپنی بیٹی کو گریجویشن اسٹیج پر ڈگری وصول کرتے دیکھ سکیں۔
ولولہ بشیر کاکڑ نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “یہ ڈگری صرف میری نہیں بلکہ ہر اس پہاڑوں میں رہنے والی لڑکی کی ہے جسے کبھی یہ بتایا گیا کہ اس کے خواب بہت بڑے ہیں۔
” انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ اگرچہ انہیں امریکا میں بہترین ملازمت کی پیشکش ہو چکی ہے، تاہم وہ واپس اپنے وطن آ کر بلوچستان اور پاکستان کے عوام کی بہتری کے لیے اپنی خدمات سرانجام دینا چاہتی ہیں۔
