jahaneimroz
Chief editor Faizullah Durrani

پاکستان کا پہلا ڈائیورسفائیڈ پیمنٹ رائٹس پروگرام

اسلام آباد(بیورو رپورٹ)پاکستان کی بیرونی فنانسنگ کے شعبے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں پاکستان کے پہلے ڈائیورسفائیڈ پیمنٹ رائٹس پروگرام کے لیے انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (آئی ایف سی)اور بینک الفلاح لمیٹڈ کے درمیان پراجیکٹ معاہدے پر دستخط کر دیے گئے۔

وزارت خزانہ سے جاری بیان کے مطابق معاہدے کی تقریب وزارتِ خزانہ اسلام آباد میں ہوئی جس میں وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے شرکت کی۔ معاہدے پر آئی ایف سی کی ریجنل انڈسٹری ڈائریکٹر فنانشل انسٹی ٹیوشنز گروپ مشرق وسطی و وسطی ایشیا مومنہ اعجاز الدین اور بینک الفلاح کے صدر و چیف ایگزیکٹو آفیسر عاطف اے باجوہ نے دستخط کیے۔

وزیراعظم کی ہدایت پر شروع کیا جانے والا ڈائیورسفائیڈ پیمنٹ رائٹس پروگرام مستقبل میں حاصل ہونے والے اہل غیر ملکی کرنسی کے ادائیگیوں کے بہا کو بنیاد بنا کر طویل مدتی غیر ملکی کرنسی فنانسنگ متحرک کرنے کا ایک جدید طریقہ فراہم کرے گا۔ اس اقدام کا مقصد پاکستان کے بیرونی فنانسنگ کے ذرائع کو متنوع بنانا اور عالمی کیپٹل مارکیٹس تک رسائی کو مزید بہتر بنانا ہے۔پروگرام کے تحت ابتدائی ٹرانزیکشن میں 10 کروڑ امریکی ڈالر تک کی فنانسنگ حاصل کرنے کی تجویز ہے۔

ابتدائی ٹرانزیکشن کی کامیابی اور مارکیٹ کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے مستقبل میں مزید فنانسنگ اور بین الاقوامی ادارہ جاتی و نجی سرمایہ کاروں کی وسیع تر شرکت کے لیے بھی پلیٹ فارم دستیاب ہوسکتا ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے وزارتِ خزانہ، سٹیٹ بینک پاکستان، آئی ایف سی اور بینک الفلاح کے درمیان قریبی تعاون کو سراہا۔

انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کی تیاری میں اہم ریگولیٹری، پالیسی اور تکنیکی امور پر کام کیا گیا جبکہ اس پروگرام میں پیش رفت اہم پہلا قدم ہے جو مستقبل میں اسی نوعیت کے مزید مارکیٹ بیسڈ فنانسنگ ڈھانچوں کی راہ ہموار کرسکتا ہے۔وزیر خزانہ نے پاکستان کے لیے غیر ملکی کرنسی فنانسنگ کے ذرائع میں تنوع پیدا کرنے اور سرمایہ کاری و پیداواری معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے جدید فنانسنگ میکانزم تیار کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ اس فنانسنگ چینل کو موثر انداز میں استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ ایسے اہل منصوبوں کی پائپ لائن بھی تیار کرنا ضروری ہے جنہیں غیر ملکی کرنسی میں فنانسنگ درکار ہو۔آئی ایف سی کے نمائندوں نے حکومت پاکستان اور سٹیٹ بینک کی جانب سے تعاون اور رابطہ کاری کو سراہتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کی کوششوں کا اعتراف کیا۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ ڈی پی آر ڈھانچہ پاکستان کیلئے طویل مدتی بین الاقوامی فنانسنگ کا اضافی ذریعہ بننے کے ساتھ ملک کی کیپٹل مارکیٹس کی مزید ترقی میں بھی معاون ثابت ہوگا۔بینک الفلاح نے حکومت، سٹیٹ بینک اور آئی ایف سی کے تعاون کو سراہتے ہوئے اس ٹرانزیکشن کو اہم قرار دیا۔

بینک نے کہا کہ وہ پاکستان کا پہلا بینک ہے جو ڈی پی آر ٹرانزیکشن کر رہا ہے اور اس ڈھانچے کو اہل غیر ملکی کرنسی کی ضروریات اور پیداواری سرمایہ کاری کی معاونت کے لیے استعمال کرے گا۔

یہ ٹرانزیکشن پاکستان کی ڈیٹ کیپٹل مارکیٹ اور بیرونی فنانسنگ کے نظام کی ترقی میں ایک اہم سنگِ میل قرار دی جا رہی ہے، اس سے مستقبل میں دیگر پاکستانی بینکوں کی جانب سے بھی ڈی پی آر ٹرانزیکشنز کے لیے ایک مثال قائم ہوسکتی ہے، تاہم یہ سب مارکیٹ کے حالات اور ابتدائی پروگرام کی کارکردگی سے مشروط ہوگا۔

تقریب میں سیکرٹری خزانہ امداد اللہ بوسال، آئی ایف سی کے ڈویژن ڈائریکٹر برائے پاکستان، افغانستان، کرغز جمہوریہ، تاجکستان اور ترکمانستان سائمن اینڈریوز سمیت وزارتِ خزانہ، آئی ایف سی، بینک الفلاح اور سٹیٹ بینک پاکستان کے اعلی حکام نے شرکت کی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More