تجزیہ بی این پی
بلوچستان پاکستان کا صرف رقبے کے اعتبار سے سب سے بڑا صوبہ نہیں بلکہ اپنی جغرافیائی اہمیت، قدرتی وسائل، ساحلی پٹی، گوادر کی بندرگاہ اور علاقائی تجارت کے وسیع امکانات کے باعث ملکی معیشت، دفاع اور قومی سلامتی میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بلوچستان کا امن، استحکام اور ترقی دراصل پورے پاکستان کے امن، استحکام اور خوشحالی سے جڑی ہوئی ہے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب سے بلوچستان کی ترقی، امن، قومی یکجہتی اور عوامی اعتماد کو خصوصی اہمیت دینا اس امر کا واضح اظہار ہے کہ ریاست اب بلوچستان کے معاملے کو محض ایک انتظامی یا سکیورٹی مسئلے کے طور پر نہیں بلکہ قومی ترقی کے جامع ایجنڈے کے طور پر دیکھ رہی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بلوچستان نیشنل ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے صوبے کے مسائل کے حل کے لئے گرینڈ ڈائیلاگ کی دعوت دی اور واضح کیا کہ ماضی میں جو کچھ ہوا اسے ایک طرف رکھتے ہوئے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ بندوق اٹھانا قابل قبول نہیں، تاہم جو لوگ اپنا راستہ درست کرنے کے لئے تیار ہیں انہیں خوش آمدید کہا جانا چاہیے، موجودہ حالات میں ایک متوازن اور دوراندیش قومی پالیسی کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس پالیسی کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ سیاسی اختلافات کا حل مکالمے، مشاورت اور آئینی و جمہوری طریقوں سے نکالا جائے، جبکہ ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں سے قانون کے مطابق نمٹا جائے۔
وزیراعظم نے یہ حقیقت بھی واضح کی کہ بلوچستان کو ترقی اور خوشحالی کی دوڑ میں شامل کئے بغیر پاکستان آگے نہیں بڑھ سکتا۔ یہ محض ایک سیاسی بیان نہیں بلکہ ملکی ترقی کی بنیادی حقیقت ہے۔ اگر پاکستان اپنے تمام صوبوں کو مساوی مواقع، وسائل اور ترقی کے ثمرات فراہم کرنے میں کامیاب ہو جائے تو قومی معیشت زیادہ مضبوط، مستحکم اور پائیدار بنیادوں پر استوار ہوسکتی ہے۔ بلوچستان میں معدنیات، توانائی، ساحلی تجارت، ماہی گیری، سیاحت، زراعت اور دیگر شعبوں میں ترقی کے وسیع امکانات موجود ہیں، مگر ان امکانات کو حقیقت میں تبدیل کرنے کے لئے امن، سیاسی استحکام، بہتر انفراسٹرکچر اور مقامی آبادی کی شمولیت بنیادی شرط ہے۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق وزیراعظم کی جانب سے گرینڈ ڈائیلاگ کی دعوت کو بلوچستان کے تناظر میں ایک وسیع تر قومی مکالمے کی ابتدا سمجھا جانا چاہیے۔ صوبے کے سیاسی رہنماؤں، قبائلی عمائدین، نوجوانوں، دانشوروں، کاروباری طبقے اور سول سوسائٹی کو اعتماد میں لے کر ایسی حکمت عملی تشکیل دینا ضروری ہے جس میں ترقی کے منصوبوں کے ساتھ عوام کے جائز تحفظات اور شکایات کا ازالہ بھی شامل ہو۔ محض سڑکیں، عمارتیں یا بڑے منصوبے کسی خطے کو ترقی یافتہ نہیں بناتے، بلکہ اصل ترقی اس وقت ممکن ہوتی ہے جب عام شہری کو تعلیم، صحت، روزگار، صاف پانی، بجلی، مواصلات اور انصاف کی سہولت میسر ہو اور اسے یہ احساس ہو کہ ریاست اس کے مستقبل کی ضامن ہے۔دوسری جانب فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی بلوچستان کی اہم شخصیات اور سیاسی قیادت سے ملاقات بھی اسی قومی حکمت عملی کا اہم پہلو ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان اور پاکستان کا حال اور مستقبل ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے اور ہمیشہ جڑا رہے گا۔ یہ موقف اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ بلوچستان کو قومی دھارے سے الگ کرکے پاکستان کی مجموعی ترقی کا تصور مکمل نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے بلوچستان کے عوام کو باصلاحیت، ثابت قدم، محب وطن اور باوقار قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ صوبے کے نوجوانوں میں صلاحیت اور مواقع کی کوئی کمی نہیں۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جانب سے بیرونی سرپرستی میں کام کرنے والے پراکسی عناصر کے حوالے سے اظہارِ خیال بھی موجودہ سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں اہم ہے۔ بلوچستان میں بدامنی پیدا کرنے، ترقی کے عمل کو متاثر کرنے اور ریاست و عوام کے درمیان خلیج پیدا کرنے کی کوششیں کسی صورت نظرانداز نہیں کی جاسکتیں۔ تاہم اس چیلنج سے نمٹنے کے لئے سکیورٹی اقدامات کے ساتھ ساتھ عوامی اعتماد کی بحالی بھی ناگزیر ہے۔ دشمن عناصر ہمیشہ انہی کمزوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں جہاں ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے پیدا ہوں۔ چنانچہ ان فاصلوں کو ختم کرنا بھی قومی سلامتی کی حکمت عملی کا لازمی حصہ ہونا چاہیے۔
حالیہ انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں میں بلوچستان کے مختلف علاقوں مستونگ، مچھ، خضدار اور پنجگور میں دہشت گرد عناصر کے خلاف کامیاب کارروائی اور خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں دہشت گردوں کی ہلاکت اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست دہشت گردی کے چیلنج سے نمٹنے کے لئے پوری قوت اور عزم کے ساتھ کارروائی کر رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز اور پولیس کی قربانیاں قومی سلامتی کے تحفظ میں بنیادی کردار ادا کر رہی ہیں۔ صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرنا بھی اس قومی احساس کی ترجمانی ہے کہ ملک کے دفاع اور شہریوں کی حفاظت کے لئے قربانیاں دینے والے اہلکار پوری قوم کے محسن ہیں۔
تاہم یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف بندوق کے ذریعے نہیں جیتی جاسکتی۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے سکیورٹی آپریشنز ضروری ہیں لیکن مستقل امن کے لئے اس کے ساتھ تعلیم، روزگار، معاشی ترقی، سیاسی شمولیت اور انصاف کا نظام بھی مضبوط بنانا ہوگا۔ اگر ایک نوجوان کو تعلیم، ہنر اور روزگار کے مواقع دستیاب ہوں، اسے اپنے مستقبل کے بارے میں امید نظر آئے اور وہ ریاستی نظام میں اپنا کردار محسوس کرے تو انتہاپسند عناصر کے لئے اس نوجوان کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔بلوچستان کے حوالے سے سب سے اہم مسئلہ عوامی محرومیوں کا ازالہ ہے۔ طویل عرصے سے صوبے کے مختلف علاقوں میں بنیادی سہولتوں کی کمی، روزگار کے محدود مواقع، تعلیمی پسماندگی اور صحت کی ناکافی سہولتوں جیسے مسائل موجود رہے ہیں۔ ان مسائل کو نظرانداز کرکے پائیدار امن حاصل کرنا مشکل ہوگا۔ ریاست کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ بلوچستان کے عوام کو ملک کے دوسرے حصوں کے شہریوں کے برابر مواقع حاصل ہوں۔ ترقیاتی منصوبوں میں مقامی آبادی کی شمولیت، نوجوانوں کے لئے ہنرمندی کے پروگرام، بہتر جامعات اور تکنیکی اداروں کا قیام، صحت کے مراکز کی توسیع اور دیہی علاقوں میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی فوری ترجیحات ہونی چاہئیں۔
قدرتی وسائل کے معاملے میں بھی شفافیت اور منصفانہ تقسیم بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ بلوچستان معدنی وسائل سے مالا مال ہے، مگر ان وسائل سے پیدا ہونے والی معاشی سرگرمیوں میں مقامی لوگوں کی مؤثر شمولیت ضروری ہے۔ اگر مقامی آبادی کو یہ یقین ہو کہ ان کے وسائل ان کے بچوں کے بہتر مستقبل، ان کے علاقوں کی ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں استعمال ہورہے ہیں تو ریاست کے ساتھ اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔ وسائل کی منصفانہ تقسیم اور شفاف حکمرانی بلوچستان کی ترقی کی بنیاد بن سکتی ہے۔
گوادر بھی بلوچستان اور پاکستان کے مستقبل میں مرکزی کردار ادا کرسکتا ہے۔ بحیرہ عرب کے ساحل پر واقع گوادر پاکستان کو علاقائی تجارت کے ایک اہم مرکز میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ وسطی ایشیا، چین، مشرق وسطیٰ اور دیگر خطوں کے ساتھ تجارتی روابط بڑھانے میں بلوچستان کی جغرافیائی حیثیت غیر معمولی فائدہ فراہم کرتی ہے۔ تاہم گوادر اور دیگر بڑے منصوبوں کی کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب مقامی آبادی کو ان منصوبوں کے ثمرات میں مناسب حصہ ملے اور ترقی کے ساتھ بنیادی شہری سہولتیں بھی فراہم کی جائیں۔
**تجزیہ بی این پی کے مطابق** بلوچستان کی ترقی کے لئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مضبوط رابطہ، سیاسی قیادت کی شمولیت اور سکیورٹی اداروں کی مربوط حکمت عملی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی جانب سے بلوچستان کو دی جانے والی اہمیت اس وقت حقیقی نتائج میں تبدیل ہوسکتی ہے جب اعلانات کے ساتھ واضح اہداف، مقررہ مدت، شفاف نگرانی اور مسلسل عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ بلوچستان کے نوجوانوں کو یہ احساس دلانا ہوگا کہ ان کا مستقبل پاکستان کے مستقبل سے وابستہ ہے اور ان کی صلاحیتوں کو قومی ترقی میں بھرپور طور پر استعمال کیا جائے گا۔
یہ بھی ضروری ہے کہ بلوچستان کے سیاسی اختلافات کو دہشت گردی سے الگ رکھا جائے۔ کسی بھی جمہوری معاشرے میں سیاسی اختلاف رائے ایک فطری عمل ہے۔ جو لوگ آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے سیاسی مطالبات پیش کرتے ہیں، ان کے ساتھ مکالمہ ریاست کی ذمہ داری ہے۔ وزیراعظم کی گرینڈ ڈائیلاگ کی دعوت اسی سوچ کی عکاسی کرتی ہے۔ دوسری طرف جو عناصر ہتھیار اٹھا کر شہریوں، سکیورٹی اہلکاروں یا قومی تنصیبات کو نشانہ بناتے ہیں، ان سے قانون کے مطابق سختی سے نمٹنا بھی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ سیاسی مکالمہ اور دہشت گردی کے خلاف کارروائی ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک جامع قومی پالیسی کے دو الگ پہلو ہیں۔
بلوچستان کی ترقی کے لئے قومی سطح پر ایک طویل المدتی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ حکومت کو تعلیم، صحت، زراعت، معدنیات، صنعت، سیاحت، انفراسٹرکچر اور روزگار کے شعبوں میں واضح ترجیحات مقرر کرنی چاہئیں۔ بالخصوص نوجوانوں کے لئے ٹیکنیکل تعلیم اور ہنرمندی کے مواقع بڑھانا ضروری ہے تاکہ وہ مقامی اور عالمی معیشت میں مؤثر کردار ادا کرسکیں۔ اسی طرح خواتین کی تعلیم اور معاشی سرگرمیوں میں شمولیت بڑھانے سے بلوچستان کی سماجی اور اقتصادی ترقی کو نئی رفتار دی جاسکتی ہے۔
قومی یکجہتی کے حوالے سے بھی بلوچستان ایک بنیادی آزمائش ہے۔ پاکستان اس وقت دہشت گردی، معاشی مشکلات، سیاسی اختلافات اور علاقائی کشیدگی جیسے متعدد چیلنجز سے دوچار ہے۔ ایسے حالات میں قومی سیاسی قیادت کو اختلافات کے باوجود قومی سلامتی اور ملکی مفاد کے بنیادی معاملات پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہوگا۔ بلوچستان کے معاملے میں بھی حکومت، اپوزیشن، پارلیمنٹ، سیاسی جماعتوں، ریاستی اداروں، قبائلی و سماجی قیادت اور دانشوروں کو مشترکہ طور پر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔پاکستان کے دشمنوں کی یہ کوشش ہوسکتی ہے کہ صوبائی، لسانی یا علاقائی اختلافات کو بڑھا کر قومی وحدت کو کمزور کیا جائے۔ اس کا مؤثر جواب محض بیانات نہیں بلکہ عملی حکمرانی ہے۔ جب شہریوں کو انصاف ملے گا، نوجوانوں کو روزگار ملے گا، علاقوں میں ترقیاتی منصوبے پہنچیں گے اور وسائل کی تقسیم میں شفافیت ہوگی تو دشمن کا پروپیگنڈا اپنی تاثیر کھو دے گا۔ ریاست اور عوام کے درمیان مضبوط اعتماد ہی ہر قسم کی بیرونی مداخلت اور داخلی انتشار کے خلاف سب سے مضبوط حصار ہے۔
بلاشبہ بلوچستان کا مسئلہ صرف بلوچستان کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے پاکستان کے مستقبل کا سوال ہے۔ بلوچستان کا امن کراچی کی معیشت، گوادر کی بندرگاہ، قومی تجارت، توانائی کے منصوبوں اور ملکی دفاع سے براہ راست جڑا ہوا ہے۔ اسی طرح بلوچستان میں ہونے والی ترقی کے اثرات پورے ملک کی معیشت پر مرتب ہوسکتے ہیں۔ اس لئے بلوچستان کو قومی ترقی کے مرکزی دھارے میں شامل کرنا کسی صوبے پر احسان نہیں بلکہ پاکستان کی اجتماعی ضرورت ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے ترقی، مشاورت اور گرینڈ ڈائیلاگ پر زور جبکہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب سے بلوچستان کے پاکستان کے ساتھ مضبوط تعلق اور دہشت گردی کے خلاف ریاستی عزم کا اظہار اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ سیاسی اور عسکری قیادت بلوچستان کے مسئلے کے مختلف پہلوؤں کو اہمیت دے رہی ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اس عزم کو ایک مربوط، مسلسل اور قابلِ پیمائش قومی منصوبے میں تبدیل کیا جائے۔آخرکار یہ حقیقت کسی وضاحت کی محتاج نہیں کہ بلوچستان کی ترقی پاکستان کی ترقی ہے، بلوچستان کا امن پاکستان کا امن ہے اور بلوچستان کے نوجوانوں کا روشن مستقبل پاکستان کے مضبوط مستقبل کی ضمانت ہے۔ بندوق کے مقابلے میں ریاستی قوت کا استعمال ناگزیر ہوسکتا ہے، مگر دیرپا فتح اسی وقت حاصل ہوگی جب اس قوت کے ساتھ ترقی، انصاف، روزگار، تعلیم، صحت، سیاسی شمولیت اور عوامی اعتماد کی قوت بھی موجود ہو۔ پاکستان کو بلوچستان کے عوام کے ساتھ کھڑے ہوکر یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ریاست اپنے ہر شہری اور ہر صوبے کو برابر اہمیت دیتی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر بلوچستان کی محرومیوں کو خوشحالی میں، بے یقینی کو اعتماد میں اور بدامنی کو پائیدار امن میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ مضبوط بلوچستان ہی مضبوط پاکستان کی بنیاد ہے اور آج کی سب سے بڑی قومی ضرورت یہی ہے کہ اس بنیاد کو اتحاد، انصاف، ترقی اور اجتماعی عزم سے مزید مضبوط کیا جائے۔
Trending
- صاف چمن، بہتر زندگی: وزیر اعلیٰ بلوچستان کا بروقت اقدام
- بلوچستان:بندوق سے آگے ایک راستہ اور بھی ہے!
- بلوچستان کی ترقی، امن اور قومی یکجہتی؛ مضبوط پاکستان کی بنیاد
- پاکستان میں انتظامی اصلاحات ہی بہتر حکمرانی اور روشن مستقبل کی بنیاد
- فلسطینی علاقے غزہ کا انسانی بحران اور عالمی برادری کی ذمہ داری
- پاکستان صوبے پنجاب میں صحت کے شعبے کی کارکردگی. دعوے، اقدامات اور عوامی توقعات
- بلوچستان کی ترقی، مکالمہ اور قومی یکجہتی کا راستہ
- پاکستان میں معاشی استحکام کے لیے برآمدات اور سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر
- پاکستان میں مذاکرات ہی سیاسی استحکام اور جمہوری تسلسل کا راستہ ہیں
- افواجِ پاکستان کی مشترکہ کمان، دفاعی نظام کی نئی سمت