کوئٹہ(سٹاف رپورٹر )بلوچستان کے سرحدی شہر تفتان میں امن و امان کی صورتحال اور شاہراہوں، خصوصا کوئٹہ-تفتان این 40 پر عدم تحفظ اور حالیہ سیکیورٹی خدشات کے باعث کئی روز سے رکے ہوئے سینکڑوں ایل پی جی بوزر گاڑیوں کو خصوصی سیکیورٹی میں روانہ کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق ابتدائی مرحلے میں تقریبا 400 ایل پی جی بوزر گاڑیوں کو پاک فوج کی نگرانی اور سیکیورٹی میں قافلوں کی صورت میں کل سے تفتان سے کوئٹہ اور بعد ازاں ملک کے دیگر حصوں کی جانب روانہ کیا جائے گا۔
اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ اور سیکیورٹی اداروں کی جانب سے کلیئرنس کا عمل تیز کر دیا گیا ہے اور تمام ٹرانسپورٹرز و ڈرائیوروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی گاڑیوں اور دستاویزات کو مکمل تیار رکھیں تاکہ روانگی میں کسی قسم کی تاخیر نہ ہو۔
ذرائع کے مطابق تفتان بارڈر پر ایران سے آنے والی ایل پی جی سے بھری سینکڑوں گاڑیاں رک جانے کے نتیجے میں پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے مختلف شہروں میں ایل پی جی کی سپلائی شدید متاثر ہوئی ہے، جس سے متعدد شہروں میں گیس کی قلت پیدا ہونے لگی ہے اور قیمتوں میں اضافے کا رجحان سامنے آیا ہے۔
گیس کی سپلائی متاثر ہونے سے صنعتی شعبہ بھی مشکلات کا شکار ہے اور کئی فیکٹریوں میں پیداواری سرگرمیاں متاثر ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
بلوچستان ایل پی جی ڈیلر ایسوسی ایشن کے صدر کا کہنا ہے کہ اگر تفتان سے پھنسے ہوئے بوزرز کی بروقت روانگی ممکن نہ بنائی جاتی تو ملک میں ایل پی جی کا بحران مزید شدت اختیار کر سکتا تھا، جس سے صنعتی و تجارتی سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب ہوتے۔
متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ تمام ادارے باہمی رابطے میں ہیں اور ان قافلوں کو راستے کے حساس مقامات پر اضافی حفاظتی اقدامات کے ساتھ مکمل سیکیورٹی دی جائے گی، جبکہ ضرورت پڑنے پر مزید قافلے بھی تشکیل دیے جائیں گے تاکہ تفتان بارڈر پر موجود تمام پھنسے ہوئے بوزرز کو مرحلہ وار محفوظ طریقے سے نکالا جا سکے۔
