تجزیہ بی این پی
وزیراعظم شہباز شریف کا یہ کہنا کہ بلوچستان کو درپیش مسائل کا حل ڈائیلاگ کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے اور صوبے کے وسائل پر پہلا حق بلوچستان کے عوام کا ہے، ایک اہم سیاسی اور قومی اصول کی نشاندہی کرتا ہے۔ بلوچستان کے مسئلے کو محض امن و امان یا انتظامی مسئلے کے طور پر دیکھنے کے بجائے سیاسی، معاشی، سماجی اور انسانی پہلوؤں کے ساتھ سمجھنے کی ضرورت ہے۔ کسی بھی صوبے کے عوام کو اگر یہ احساس ہو کہ ان کے وسائل، حقوق اور شناخت سے متعلق فیصلوں میں ان کی رائے کو مناسب اہمیت نہیں دی جا رہی تو وقت گزرنے کے ساتھ یہ احساس محرومی میں تبدیل ہوسکتا ہے۔ اس لیے بلوچستان کے حوالے سے ریاستی پالیسی میں طاقت کے ساتھ ساتھ مکالمے، انصاف، شفافیت اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کو بنیادی حیثیت دینا ناگزیر ہے۔
وزیراعظم نے بلوچستان نیشنل ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ ڈائیلاگ کا مقصد بلوچستان کے عوام کی بات سننا ہے۔ یہ بات اپنی جگہ انتہائی اہم ہے کہ مکالمہ صرف بولنے کا نام نہیں بلکہ دوسرے فریق کو سننے، اس کے مؤقف کو سمجھنے اور جائز مطالبات پر عملی پیش رفت کرنے کا عمل ہے۔ بلوچستان کے معاملے میں یہی طرزِ عمل زیادہ نتیجہ خیز ثابت ہوسکتا ہے، کیونکہ طویل عرصے سے جاری مختلف نوعیت کے مسائل محض اعلانات سے حل نہیں ہوں گے۔ ان کے لیے مسلسل سیاسی رابطہ، اعتماد سازی اور قابلِ عمل اقدامات درکار ہیں۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق بلوچستان کے مسئلے کا پائیدار حل کسی ایک ادارے یا حکومت کے اقدامات سے ممکن نہیں۔ وفاق، صوبائی حکومت، سیاسی جماعتوں، قبائلی عمائدین، نوجوانوں، دانشوروں، کاروباری طبقے اور سول سوسائٹی سمیت تمام متعلقہ حلقوں کو اس عمل میں شریک کرنا ہوگا۔ اگر مکالمے کا دائرہ وسیع ہو اور بلوچستان کے مختلف علاقوں اور طبقات کی آواز کو جگہ دی جائے تو غلط فہمیوں اور فاصلے کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ سب سے بڑھ کر ضروری یہ ہے کہ مکالمے کو وقتی سیاسی ضرورت کے بجائے مستقل قومی پالیسی کا حصہ بنایا جائے۔
بلوچستان پاکستان کا رقبے کے اعتبار سے سب سے بڑا صوبہ ہے اور قدرتی وسائل کے اعتبار سے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ معدنیات، گیس، ساحلی وسائل اور جغرافیائی محلِ وقوع بلوچستان کو ملک کی معاشی ترقی میں مرکزی کردار ادا کرنے کی صلاحیت دیتے ہیں۔ گوادر کی بندرگاہ اور چین پاکستان اقتصادی تعاون کے تناظر میں صوبے کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ وزیراعظم نے بھی گوادر کی بندرگاہ کی صلاحیت کا ذکر کرتے ہوئے اسے چین کی جانب سے ایک عظیم دوست کا تحفہ قرار دیا۔ تاہم بلوچستان کی معاشی اہمیت اسی وقت حقیقی قومی قوت میں تبدیل ہوسکتی ہے جب اس ترقی کا براہِ راست فائدہ مقامی آبادی کو بھی پہنچے۔
قدرتی وسائل کی موجودگی اور عوام کی معاشی حالت کے درمیان واضح فرق کسی بھی معاشرے میں سوالات کو جنم دیتا ہے۔ اگر ایک خطے کے پاس معدنی دولت موجود ہو لیکن وہاں کے عام شہری کو تعلیم، صحت، روزگار، پینے کے صاف پانی، بجلی اور بنیادی سہولتوں کے لیے مشکلات کا سامنا ہو تو ترقی کے دعوے اپنی معنویت کھو دیتے ہیں۔ اسی لیے وزیراعظم کا وسائل پر بلوچستان کے عوام کے پہلے حق کا اعتراف اہم ہے۔ اس اصول کو عملی شکل دینے کے لیے ضروری ہے کہ وسائل سے حاصل ہونے والی آمدنی، رائلٹی، ترقیاتی منصوبوں اور روزگار کے مواقع کے حوالے سے مکمل شفافیت اختیار کی جائے۔
بلوچستان کے عوام کو یہ یقین دلانا ضروری ہے کہ ان کے صوبے کے وسائل ان کی محرومیوں میں اضافے کا ذریعہ نہیں بلکہ ان کی خوشحالی کا وسیلہ بنیں گے۔ معدنی منصوبوں میں مقامی افراد کے لیے روزگار، ہنر کی تربیت، کاروباری مواقع اور سماجی ترقی کے منصوبے شامل کیے جائیں تو عوام اور سرمایہ کاری کے درمیان اعتماد پیدا ہوسکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے مقامی آبادی کو منصوبوں کی منصوبہ بندی اور نگرانی میں بھی مناسب نمائندگی دی جانی چاہیے۔
وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ وسائل کی منصفانہ تقسیم ہی مسائل کے حل کا مؤثر طریقہ ہے۔ یہ اصول صرف بلوچستان تک محدود نہیں بلکہ پورے وفاق کے استحکام کے لیے ضروری ہے۔ پاکستان اس وقت حقیقی معنوں میں ترقی نہیں کرسکتا جب تک اس کے تمام صوبے ترقی کے عمل میں برابر کے شریک نہ ہوں۔ بلوچستان ہو یا خیبر پختونخوا، سندھ ہو یا پنجاب، قومی ترقی کا تصور اسی وقت مکمل ہوسکتا ہے جب ہر صوبے کے عوام کو یہ احساس ہو کہ ریاست ان کے مسائل کو یکساں اہمیت دیتی ہے۔
بلوچستان میں بجلی، تعلیم، صحت اور روزگار جیسے بنیادی مسائل کو ترجیح دینا بھی ضروری ہے۔ وزیراعظم نے کسانوں کو سولر سسٹم فراہم کرنے اور بجلی کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے اقدامات کا ذکر کیا، جبکہ پنجاب کی جانب سے بلوچستان کے لیے گیارہ ارب روپے دینے کا بھی حوالہ دیا۔ ایسے اقدامات اگر تسلسل، شفافیت اور مناسب نگرانی کے ساتھ جاری رہیں تو ان کے مثبت نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ تاہم بلوچستان کی ضروریات کا حجم بہت بڑا ہے، اس لیے وقتی منصوبوں کے بجائے طویل المدتی ترقیاتی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔
بلوچستان میں نوجوان آبادی کی بڑی تعداد موجود ہے۔ اگر نوجوانوں کو تعلیم، فنی تربیت، جدید ٹیکنالوجی، کاروبار اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں تو یہی نوجوان صوبے کی ترقی کا سب سے بڑا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ محرومی کے احساس کو ختم کرنے کا مؤثر طریقہ نوجوانوں کو امید، عزت اور مستقبل کا واضح راستہ دینا ہے۔ ریاست اگر نوجوانوں کو یہ یقین دلانے میں کامیاب ہوجائے کہ ان کا مستقبل پاکستان کے اندر محفوظ اور روشن ہے تو قومی یکجہتی مزید مضبوط ہوسکتی ہے۔امن و امان کے مسئلے کو بھی بلوچستان کے وسیع تر سیاسی اور معاشی تناظر سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ وزیراعظم نے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے پیچھے دشمن ممالک کے ہاتھ کی بات کی اور واضح کیا کہ مسائل کی آڑ میں کوئی محب وطن بندوق نہیں اٹھا سکتا۔ دہشت گردی اور تشدد کے خلاف ریاست کا مؤقف واضح اور مضبوط ہونا چاہیے، کیونکہ کسی بھی شہری کی جان لینا، چاہے وہ مزدور ہو یا کسی دوسرے صوبے سے روزگار کے لیے آنے والا شخص، کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
اسی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی اور سیاسی مکالمے کے درمیان فرق واضح رکھا جائے۔ جو عناصر تشدد اور دہشت گردی میں ملوث ہیں، ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ریاست کی ذمہ داری ہے، لیکن جو شہری اپنے جائز آئینی، سیاسی یا معاشی حقوق کی بات کرتے ہیں، ان کے لیے مکالمے کے دروازے کھلے رہنے چاہییں۔ یہی وہ توازن ہے جو ریاستی پالیسی کو زیادہ مؤثر، قابلِ اعتماد اور نتیجہ خیز بنا سکتا ہے۔
شناخت کی بنیاد پر قتل کا رجحان بھی انتہائی خطرناک ہے۔ بلوچستان میں مزدوری یا کاروبار کے لیے دوسرے علاقوں سے جانے والے پاکستانی شہری بھی اسی ملک کے باشندے ہیں اور ان کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اسی طرح بلوچستان کے شہریوں کو بھی پورے پاکستان میں برابر کے شہری حقوق حاصل ہونے چاہییں۔ قومی یکجہتی اس وقت مضبوط ہوتی ہے جب شہری کی شناخت اس کے صوبے، زبان یا علاقے کے بجائے پاکستانی ہونے سے متعین ہو۔
وزیراعظم نے ریاست کو ماں کا درجہ دیتے ہوئے کہا کہ ماں کبھی نہیں چاہتی کہ اس کے بچوں کو تکلیف پہنچے۔ یہ ایک مؤثر سیاسی استعارہ ہے، لیکن اس تصور کی اصل آزمائش عملی اقدامات میں ہوگی۔ ریاست کی شفقت صرف الفاظ سے نہیں بلکہ انصاف، مساوی مواقع، تحفظ اور بنیادی حقوق کی فراہمی سے محسوس ہوتی ہے۔ بلوچستان کے عوام کے جائز شکووں کو سننے کے ساتھ ساتھ ان کے ازالے کے لیے واضح نظام وضع کرنا ہوگا تاکہ شکایات بار بار سامنے آنے کے بجائے مستقل طور پر حل ہوسکیں۔
**تجزیہ بی این پی** یہ سمجھتا ہے کہ بلوچستان کے لیے گرینڈ ڈائیلاگ کی تجویز کو سنجیدگی سے آگے بڑھانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس مکالمے کا مقصد کسی ایک فریق کی فتح یا دوسرے کی شکست نہیں ہونا چاہیے بلکہ اعتماد کی بحالی ہونا چاہیے۔ وفاق اور بلوچستان کے درمیان اعتماد مضبوط ہوگا تو ترقیاتی منصوبے بھی زیادہ مؤثر ہوں گے، سرمایہ کاری بھی بڑھے گی اور عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد بھی بحال ہوگا۔
اس سلسلے میں ضروری ہے کہ ماضی کے تجربات سے سبق سیکھا جائے۔ اگر کسی مکالمے کے بعد کیے گئے وعدے عملی شکل اختیار نہ کریں تو عوام میں مایوسی بڑھتی ہے اور آئندہ مذاکرات کی افادیت بھی متاثر ہوتی ہے۔ اس لیے آئندہ کسی بھی گرینڈ ڈائیلاگ کے ساتھ واضح اہداف، مقررہ مدت، ذمہ دار ادارے اور پیش رفت کی نگرانی کا طریقہ بھی طے کیا جانا چاہیے۔ بات چیت کے ساتھ عملدرآمد ہی اعتماد سازی کا حقیقی ذریعہ بن سکتا ہے۔
بلوچستان کی ترقی کو صرف سڑکوں، بندرگاہوں یا بڑے منصوبوں تک محدود نہیں کرنا چاہیے۔ ترقی کا اصل پیمانہ عام شہری کی زندگی میں بہتری ہے۔ اگر ایک دور افتادہ علاقے کے بچے کو معیاری تعلیم مل رہی ہو، مریض کو بروقت علاج دستیاب ہو، کسان کو بجلی اور پانی کی سہولت حاصل ہو، نوجوان کو روزگار ملے اور عام خاندان کو اپنے مستقبل کے بارے میں امید نظر آئے تو یہی حقیقی ترقی ہے۔
گوادر اور دیگر بڑے منصوبے بلوچستان کے لیے معاشی امکانات ضرور پیدا کرسکتے ہیں، لیکن ان امکانات کو مقامی سطح پر روزگار اور خوشحالی میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔ مقامی لوگوں کو نظرانداز کرکے ہونے والی ترقی دیرپا نہیں ہوسکتی۔ اس لیے سرمایہ کاری اور ترقیاتی منصوبوں میں مقامی آبادی کی شمولیت، ہنرمندی کی تربیت اور کاروباری مواقع کو لازمی جزو بنایا جانا چاہیے۔بلوچستان کے مسئلے کا ایک اہم پہلو سیاسی نمائندگی بھی ہے۔ عوام کو اپنے سیاسی مستقبل کے فیصلوں میں مؤثر آواز ملنی چاہیے۔ جمہوری اداروں کو مضبوط کرکے، بلدیاتی نظام کو فعال بناکر اور عوامی نمائندوں کو وسائل و اختیارات فراہم کرکے ریاست اور شہری کے درمیان فاصلے کم کیے جاسکتے ہیں۔ مقامی سطح پر مضبوط حکومتیں عوام کے مسائل کو زیادہ تیزی سے سمجھ اور حل کرسکتی ہیں۔
پاکستان کا مستقبل مضبوط وفاق، بااختیار صوبوں اور مطمئن شہریوں سے وابستہ ہے۔ بلوچستان کو قومی ترقی کے دھارے میں شامل کرنا صرف صوبے کی ضرورت نہیں بلکہ پورے ملک کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم کا یہ مؤقف کہ بلوچستان کی ترقی کے بغیر پاکستان ترقی نہیں کرسکتا، قومی پالیسی کی بنیاد بننا چاہیے۔ اسی طرح ملک کے دیگر صوبوں کی محرومیوں کو بھی اسی سنجیدگی سے دور کرنا ہوگا۔
آخرکار بلوچستان کے مسئلے کا پائیدار حل نہ صرف بندوق سے ممکن ہے اور نہ صرف نعروں سے۔ امن کے لیے مؤثر سکیورٹی اقدامات ضروری ہیں، لیکن امن کو پائیدار بنانے کے لیے انصاف، ترقی، سیاسی شمولیت، روزگار اور وسائل کی منصفانہ تقسیم بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ ریاست کو دہشت گردی کے خلاف مضبوط رہتے ہوئے مکالمے کے لیے اپنے دروازے کھلے رکھنے ہوں گے۔ بلوچستان کے نوجوانوں اور عوام کو یہ احساس دلانا ہوگا کہ ان کی آواز سنی جا رہی ہے اور ان کا مستقبل پاکستان کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق وزیراعظم کی جانب سے بلوچستان کے وسائل پر پہلے حق کو تسلیم کرنا اور گرینڈ ڈائیلاگ کی ضرورت پر زور دینا ایک مثبت سمت کی نشاندہی کرتا ہے۔ اب اصل امتحان اس سیاسی ارادے کو عملی پالیسی میں تبدیل کرنے کا ہے۔ اگر بات چیت کو نتیجہ خیز بنایا جائے، وسائل کی تقسیم میں شفافیت لائی جائے، مقامی آبادی کو ترقی کے ثمرات میں حقیقی حصہ دیا جائے اور جائز شکایات کا بروقت ازالہ کیا جائے تو بلوچستان میں اعتماد کی فضا بحال ہوسکتی ہے۔
پاکستان کو بلوچستان کے ساتھ صرف وسائل، جغرافیہ یا سکیورٹی کے زاویے سے نہیں بلکہ اپنے ہی ایک اہم اور برابر کے وفاقی حصے کے طور پر دیکھنا ہوگا۔ بلوچستان کے عوام کا اعتماد جیتنا قومی یکجہتی کی مضبوط بنیاد بن سکتا ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ خون کی سڑک کو واقعی امن کی سڑک میں تبدیل کرنے کے لیے مکالمے، انصاف اور ترقی کے تینوں راستوں پر بیک وقت پیش رفت کی جائے۔ یہی بلوچستان کے لیے بھی بہتر راستہ ہے اور پاکستان کے مضبوط، مستحکم اور خوشحال مستقبل کے لیے بھی۔
عمران خان کو ہٹانے کی اصل وجہ: پیٹرو ڈالر، روس سے تیل کا معاہدہ اور امریکی سازش