jahaneimroz
Chief editor Faizullah Durrani

عوامی خدمت کا سفر۔پنجاب میں صحت کے شعبے کی نئی سمت

تجزیہ بی این پی
پنجاب میں عوامی فلاح اور بالخصوص صحت کے شعبے میں حالیہ اقدامات نے صوبائی حکومت کی ترجیحات کو نمایاں کردیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے جدید طبی سہولیات کی فراہمی، مفت علاج، ادویات، ایئر ایمبولینس، ہوم ڈائیلاسز اور امراض قلب کے پیچیدہ علاج کی سہولتوں کے اعلانات کو عوامی سطح پر اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ لاہور میں جناح انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا افتتاح بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جہاں جدید طبی آلات، ہائبرڈ کیتھ لیب اور امراض قلب کے علاج کی دیگر سہولیات فراہم کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جناح انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی ان کے خوابوں میں سے ایک ہے اور ملک میں امراض قلب کے بڑھتے ہوئے مسائل کے پیش نظر ایسے اداروں کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کے عوام کو دل کے امراض کا مفت علاج فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جبکہ ہارٹ ٹرانسپلانٹ کے لیے بھی فنڈ قائم کیا جائے گا۔
**تجزیہ بی این پی کے مطابق** صحت کسی بھی فلاحی ریاست کی بنیادی ترجیح ہوتی ہے۔ عام آدمی کے لیے بیماری صرف طبی مسئلہ نہیں بلکہ اکثر ایک بڑا مالی بحران بھی بن جاتی ہے۔ بالخصوص دل، گردوں، فالج اور دیگر پیچیدہ امراض کا علاج متوسط اور کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے بھاری اخراجات کا باعث بنتا ہے۔ ایسے میں سرکاری سطح پر جدید علاج کی سہولت اور مالی معاونت کی فراہمی یقیناً ایک مثبت حکومتی اقدام ہے۔
جناح انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں جدید ہائبرڈ کیتھ لیب، عالمی معیار کے وارڈز، جدید مشینری اور تربیت یافتہ طبی عملے کی فراہمی کے حوالے سے سامنے آنے والی تفصیلات بھی قابلِ توجہ ہیں۔ اگر یہ سہولیات مطلوبہ معیار کے مطابق مسلسل فعال رہتی ہیں تو لاہور سمیت پنجاب بھر کے مریضوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ خاص طور پر ایسے مریض جنہیں پیچیدہ امراض کے علاج کے لیے بیرونِ شہر یا بیرونِ ملک جانا پڑتا ہے، ان کے لیے صوبے میں ہی بہتر سہولت دستیاب ہونا ایک اہم پیش رفت ہوگی۔
پنجاب حکومت کی جانب سے صوبے میں 16 کیتھ لیبز کے فعال ہونے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ امراض قلب کے علاج کے لیے کیتھ لیبز کی اہمیت کسی سے پوشیدہ نہیں۔ دل کے مریضوں کو بروقت تشخیص اور علاج کی ضرورت ہوتی ہے اور اس معاملے میں وقت کا معمولی سا فرق بھی سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔ اگر کیتھ لیبز ضلعی سطح تک مؤثر انداز میں کام کریں تو مریضوں کو بڑے شہروں کے ہسپتالوں پر انحصار کم کرنا پڑ سکتا ہے۔
صحت کے شعبے میں پنجاب حکومت کی جانب سے ایئر ایمبولینس سروس کا آغاز بھی ایک نمایاں اقدام سمجھا جا سکتا ہے۔ دور دراز علاقوں میں حادثات یا سنگین بیماریوں کی صورت میں مریض کو بروقت بڑے طبی مرکز تک پہنچانا ایک مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔ ایئر ایمبولینس اس مشکل کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ تاہم اس سہولت کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ اس کا استعمال واضح قواعد، میرٹ اور حقیقی ہنگامی ضرورت کی بنیاد پر ہو۔
اسی طرح ہوم ڈائیلاسز منصوبہ بھی گردوں کے مریضوں کے لیے اہم ثابت ہوسکتا ہے۔ ڈائیلاسز کے لیے مریضوں کو ہفتے میں متعدد مرتبہ طبی مرکز کا رخ کرنا پڑتا ہے، جس سے نہ صرف مریض بلکہ اس کا پورا خاندان متاثر ہوتا ہے۔ اگر گھر پر محفوظ اور معیاری ڈائیلاسز کی سہولت مناسب طبی نگرانی کے ساتھ فراہم کی جاتی ہے تو اس سے مریضوں کی مشکلات میں نمایاں کمی آسکتی ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے فالج کے مریضوں کے لیے مفت انجکشن کی فراہمی کا ذکر بھی اسی وسیع تر صحت پالیسی کا حصہ ہے۔ فالج کے بعض کیسز میں بروقت علاج انتہائی اہم ہوتا ہے اور چند گھنٹوں کی تاخیر مریض کی زندگی اور مستقبل کی صحت پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔ اس لیے ہنگامی علاج کی سہولت کو عام شہری تک پہنچانا صحت کے نظام کی اہم ضرورت ہے۔

پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کی مجوزہ تاریخیں، جبکہ خیبرپختونخوا میں مزید تیاریوں کی مہلت

مریم نواز شریف نے اس موقع پر اس امر پر بھی زور دیا کہ عوام کو ان کا حق نہ ملے تو حکومت کو کامیاب نہیں کہا جا سکتا۔ یہ مؤقف دراصل حکومتی کارکردگی کے ایک بنیادی اصول کی نشاندہی کرتا ہے کہ عوامی خدمت محض اعلانات تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ اس کے نتائج عام آدمی کی زندگی میں نظر آنے چاہئیں۔
پنجاب جیسے بڑے صوبے میں اس مقصد کا حصول آسان نہیں۔ صوبے کے ایک طرف جدید شہری مراکز ہیں تو دوسری طرف ایسے دور دراز علاقے بھی موجود ہیں جہاں بنیادی طبی سہولیات تک رسائی ایک مسئلہ ہے۔ اس لیے لاہور میں جدید ادارے قائم کرنے کے ساتھ ساتھ جنوبی پنجاب، پوٹھوہار، وسطی پنجاب اور دیگر دور دراز علاقوں میں صحت کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا بھی ناگزیر ہے۔
**تجزیہ بی این پی کے مطابق** کسی بھی حکومتی منصوبے کی اصل کامیابی اس وقت سامنے آتی ہے جب اس کا فائدہ معاشرے کے کمزور ترین طبقے تک پہنچے۔ اگر ایک غریب مریض کو علاج کے لیے قرض نہ لینا پڑے، اگر ایک ماں کو اپنے بچے کے علاج کے لیے دوسرے شہر کا سفر نہ کرنا پڑے اور اگر کسی ہنگامی مریض کو بروقت طبی امداد مل جائے تو یہی عوامی فلاح کی حقیقی تصویر ہوگی۔مریم نواز شریف کی جانب سے سیاسی جماعتوں کو عوامی خدمت کی طرف توجہ دینے کی اپیل بھی اسی تناظر میں دیکھی جاسکتی ہے۔ جمہوری سیاست میں اختلاف رائے فطری ہے، تاہم صحت، تعلیم اور عوامی بہبود کے معاملات ایسے شعبے ہیں جہاں سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر اجتماعی مفاد کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ سیاسی جماعتوں کے درمیان مقابلہ اگر عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کا مقابلہ بن جائے تو اس کا سب سے بڑا فائدہ عام شہری کو ہوگا۔

سید عاصم منیر. قومی دفاع اور سلامتی کے مضبوط محافظ

مسلم لیگ ن کی حکومت اپنے سیاسی بیانیے میں ترقیاتی منصوبوں اور عوامی خدمت کو نمایاں کرتی رہی ہے۔ موجودہ صوبائی حکومت کی صحت سے متعلق ترجیحات بھی اسی سیاسی تصور کا حصہ دکھائی دیتی ہیں۔ تاہم کسی بھی حکومت کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے منصوبوں کی کارکردگی کو اعدادوشمار، شفاف نظام اور عوامی شکایات کے ازالے کے ذریعے ثابت کرے۔ اس عمل سے نہ صرف حکومتی ساکھ مضبوط ہوتی ہے بلکہ عوام کا اعتماد بھی بڑھتا ہے۔
پنجاب میں صحت کے شعبے کے ساتھ ساتھ تعلیم، صاف پانی، روزگار، ماحولیات، ٹریفک اور شہری سہولیات جیسے مسائل بھی اپنی جگہ موجود ہیں۔ ایک جامع حکمت عملی ہی صوبے کو پائیدار ترقی کی طرف لے جاسکتی ہے۔ صحت کے نئے منصوبے اس بڑے ترقیاتی عمل کا اہم حصہ ضرور ہیں، مگر ان کی کامیابی کے لیے انتظامی تسلسل اور مالی استحکام بھی ضروری ہوگا۔
جناح انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا قیام اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ پاکستان میں دل کے امراض کا بوجھ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ جدید علاج کی سہولتیں اگر سرکاری شعبے میں مستحق مریضوں کے لیے دستیاب ہوں تو یہ ایک بڑا سماجی ریلیف ثابت ہوسکتا ہے۔ ہارٹ ٹرانسپلانٹ جیسے پیچیدہ علاج کے لیے فنڈ کا قیام بھی ایسے مریضوں کے لیے امید کی کرن بن سکتا ہے جو وسائل نہ ہونے کی وجہ سے علاج سے محروم رہ جاتے ہیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق صحت کے نظام کی بہتری صرف بڑے ہسپتالوں کے قیام سے ممکن نہیں۔ بنیادی مراکز صحت، تحصیل اور ضلعی ہسپتالوں کو مضبوط کرنا، ڈاکٹرز اور نرسنگ اسٹاف کی دستیابی، ادویات کی مسلسل فراہمی، صفائی کے معیار اور مریضوں کی رہنمائی کا مؤثر نظام بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ اگر صوبائی حکومت ان تمام پہلوؤں پر یکساں توجہ دیتی ہے تو صحت کے شعبے میں اصلاحات زیادہ دیرپا ثابت ہوسکتی ہیں۔
پنجاب کے لیے مریم نواز شریف کی موجودہ صحت پالیسی اس لحاظ سے نیک شگون قرار دی جاسکتی ہے کہ اس میں جدید علاج اور عوامی رسائی دونوں کو اہمیت دینے کی کوشش نظر آتی ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ منصوبوں کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے اور شہری و دیہی پنجاب کے درمیان طبی سہولیات کا فرق کم کیا جائے۔
عوامی خدمت کا اصل مقصد یہ ہے کہ ریاست اپنے شہری کے مشکل وقت میں اس کے ساتھ کھڑی نظر آئے۔ ایک غریب مریض کے لیے مفت دوا، ایک حادثے کے شکار شخص کے لیے بروقت ایمبولینس، دل کے مریض کے لیے فوری علاج اور گردوں کے مریض کے لیے قابلِ رسائی ڈائیلاسز کسی بھی سیاسی نعرے سے زیادہ اہم ہیں۔ یہی وہ سہولیات ہیں جو حکومت اور عوام کے درمیان اعتماد کی بنیاد بنتی ہیں۔
مجموعی طور پر پنجاب حکومت کی جانب سے صحت کے شعبے میں کیے جانے والے اقدامات امید افزا ہیں۔ مریم نواز شریف نے صحت کو اپنی ترجیحات میں نمایاں مقام دے کر ایک اہم سمت اختیار کی ہے۔ اگر ان منصوبوں میں میرٹ، شفافیت، معیار اور تسلسل برقرار رکھا گیا اور ان کا دائرہ صوبے کے دور دراز علاقوں تک بڑھایا گیا تو پنجاب میں صحت کے نظام کے لیے ایک مضبوط بنیاد قائم ہوسکتی ہے۔پنجاب کے عوام کو بہتر صحت، معیاری علاج اور بروقت طبی سہولت فراہم کرنا کسی بھی حکومت کی سب سے بڑی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ اس ذمہ داری کو عملی شکل دینے کی موجودہ کوششیں قابلِ تحسین ہیں۔ اب ان اقدامات کو مستقل نظام میں تبدیل کرنا وقت کی ضرورت ہے تاکہ آج کے منصوبے آنے والی نسلوں کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوں۔ یہی عمل مریم نواز شریف کی عوامی خدمت کے سفر کو محض سیاسی دعوے کے بجائے عملی کارکردگی کی صورت میں مضبوط کرے گا اور پنجاب کے لیے ایک روشن اور امید افزا مستقبل کی بنیاد بن سکتا ہے۔

پنجاب میں مریم نواز کا طرزِ حکمرانی بھی آزمایا جا سکتا ہے

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More