تجزیہ بی این پی
پاکستان کی دفاعی تاریخ میں ایسے سپہ سالار ہمیشہ نمایاں مقام رکھتے ہیں جو محض عسکری ذمہ داریوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ قومی سلامتی، ملکی استحکام اور وطن کے مستقبل کے تحفظ کو اپنی ذمہ داری کا بنیادی حصہ سمجھتے ہیں۔ چیف آف دی ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی اسی جذب? حب الوطنی، پیشہ ورانہ عزم اور غیر متزلزل قیادت کے ساتھ ملک کے دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے ہمہ تن گوش اور شب و روز مصروفِ عمل ہیں۔ ان کی حالیہ سرگرمیاں اس امر کی واضح عکاس ہیں کہ پاکستان کی دفاعی ترجیحات میں پیشہ ورانہ استعداد کے ساتھ ساتھ سفارتی اور دفاعی تعاون کو بھی غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔
پاکستان اور جمہوریہ کانگو کے درمیان دفاعی و سکیورٹی تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط اسی سلسلے کی ایک اہم پیش رفت ہے۔ کانگو کے چیف آف ڈیفنس لیفٹیننٹ جنرل بانزا مویلَمبو جولز کا جی ایچ کیو راولپنڈی کا دورہ اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات اس امر کی علامت ہے کہ پاکستان کی دفاعی صلاحیت اور پیشہ ورانہ تجربے کو عالمی سطح پر قدر کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ کانگو کے اعلیٰ دفاعی وفد کی جانب سے پاک فوج کی آپریشنل استعداد، پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور مقامی پیداوار کے ذریعے خود انحصاری کی پیش رفت کو سراہنا پاکستان کی دفاعی قوت کے لیے ایک مثبت اعتراف ہے۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق دفاعی تعاون کی یہ پیش رفت پاکستان کے لیے اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ موجودہ عالمی اور علاقائی حالات میں کسی بھی ملک کی سلامتی صرف اس کی اپنی عسکری قوت سے نہیں بلکہ دوست ممالک کے ساتھ مضبوط دفاعی روابط، تجربات کے تبادلے اور مشترکہ سکیورٹی تعاون سے بھی وابستہ ہے۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک طویل اور مشکل جنگ لڑی ہے اور اس تجربے نے اس کی افواج کو غیر معمولی عملی صلاحیت فراہم کی ہے۔ یہی تجربہ دوست ممالک کے ساتھ شیئر کرنا عالمی امن اور علاقائی استحکام کے لیے بھی مفید ثابت ہو سکتا ہے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں دفاعی روابط کے دائرے کو وسیع کرنے کے ساتھ ساتھ شام کے ساتھ بھی دفاعی اور سکیورٹی تعاون بڑھانے پر اتفاق اس بات کا مظہر ہے کہ پاکستان اپنی خارجہ اور دفاعی پالیسی میں باہمی تعاون کو ایک اہم ذریعہ سمجھتا ہے۔ شام کے وزیر خارجہ اسعد حسن الشیبانی سے ملاقات میں مشترکہ سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے، علاقائی امن اور استحکام کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ یہ رابطے پاکستان کے اس اصولی مؤقف کی عکاسی کرتے ہیں کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے تعاون، مکالمے اور باہمی احترام کو فروغ دینا ضروری ہے۔
سید عاصم منیر کی قیادت کا ایک اہم پہلو بلوچستان کے حوالے سے ان کا واضح اور دوٹوک مؤقف بھی ہے۔ بلوچستان پاکستان کا اہم ترین صوبہ ہے، جس کی جغرافیائی اہمیت، قدرتی وسائل اور معاشی امکانات ملک کے مستقبل سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ بلوچستان کے سیاسی رہنماؤں اور اہم شخصیات سے ملاقات کے دوران یہ کہنا کہ بلوچستان اور پاکستان کا حال اور مستقبل ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے، قومی یکجہتی کے حوالے سے ایک واضح پیغام ہے۔
بلوچستان کے نوجوان پاکستان کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ ان میں موجود صلاحیتوں کو مواقع، تعلیم، روزگار اور ترقی کے راستے فراہم کرکے ہی صوبے کو مزید مضبوط اور خوشحال بنایا جا سکتا ہے۔ ریاستی سطح پر یہ احساس ضروری ہے کہ نوجوانوں کی صلاحیتوں کو مثبت سمت دینا قومی سلامتی ہی کا حصہ ہے۔ ایک مضبوط، تعلیم یافتہ اور بااختیار نوجوان نسل ملک کے دفاع، معیشت اور ترقی میں بنیادی کردار ادا کر سکتی ہے۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق بلوچستان کے مسائل کا دیرپا حل صرف طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ سیاسی، معاشی اور سماجی سطح پر اعتماد سازی، مکالمے، ترقی اور انصاف کے مؤثر امتزاج میں پوشیدہ ہے۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے جائز مسائل سنے، انہیں ترقی کے مساوی مواقع فراہم کرے اور قومی دھارے میں ان کی بھرپور شرکت یقینی بنائے۔ اسی طرح ملک دشمن عناصر اور بیرونی سرپرستی میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششوں کے خلاف ریاستی اداروں کا متحد اور فیصلہ کن کردار بھی ناگزیر ہے۔
سید عاصم منیر کی موجودہ دفاعی حکمت عملی کا مثبت پہلو یہ ہے کہ اس میں ملکی دفاع کے ساتھ قومی اتحاد اور خود انحصاری کو بھی اہمیت حاصل ہے۔ دفاعی پیداوار میں مقامی صلاحیتوں کا فروغ کسی بھی ملک کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ جدید جنگی تقاضوں کے دور میں وہی قومیں زیادہ محفوظ رہتی ہیں جو اپنی دفاعی ضروریات پوری کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ داخلی صلاحیت پیدا کرتی ہیں۔ پاکستان نے دفاعی ٹیکنالوجی، مقامی پیداوار اور خود انحصاری کے میدان میں جو پیش رفت کی ہے، وہ ملک کے دفاعی مستقبل کے لیے حوصلہ افزا ہے۔
پاکستان کی مسلح افواج نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ افواج پاکستان کے جوانوں اور افسروں نے اپنے خون سے ملک کے امن کی قیمت ادا کی ہے۔ اس پس منظر میں ایک سپہ سالار کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ نہ صرف فوج کی جنگی تیاری برقرار رکھے بلکہ ملک کے بدلتے ہوئے سکیورٹی تقاضوں کو سمجھتے ہوئے جدید حکمت عملی اختیار کرے۔ سید عاصم منیر کی دفاعی سرگرمیوں سے یہی تاثر ملتا ہے کہ وہ قومی سلامتی کے تقاضوں کو وسیع تناظر میں دیکھتے ہیں۔
ایک سولجر کے طور پر ان کی بنیادی ذمہ داری وطن کی حفاظت ہے، مگر ایک اعلیٰ عسکری قیادت کے طور پر ان کی ذمہ داریوں کا دائرہ اس سے کہیں وسیع ہو جاتا ہے۔ قومی سلامتی، دفاعی تیاری، دوست ممالک سے تعلقات، علاقائی امن، دہشت گردی کا مقابلہ اور ملکی استحکام، یہ سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے معاملات ہیں۔ ان تمام شعبوں میں مربوط حکمت عملی ہی پاکستان کو مضبوط اور محفوظ بنا سکتی ہے۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق موجودہ دور میں پاکستان کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے کا تقاضا یہی ہے کہ عسکری طاقت کے ساتھ قومی اتحاد، معاشی استحکام، جدید ٹیکنالوجی، مضبوط سفارت کاری اور داخلی امن کو بھی ترجیح دی جائے۔ دفاع صرف سرحدوں پر نہیں ہوتا بلکہ معیشت، تعلیم، ٹیکنالوجی، اداروں اور قومی یکجہتی کی مضبوطی بھی دفاع ہی کی مختلف شکلیں ہیں۔فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب سے مختلف ممالک کے اعلیٰ دفاعی حکام اور سیاسی شخصیات کے ساتھ رابطے اسی وسیع تر دفاعی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔ پاکستان کے دوست ممالک کے ساتھ دفاعی تعاون میں اضافہ نہ صرف باہمی تعلقات کو مضبوط بناتا ہے بلکہ پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں، تجربات اور پیشہ ورانہ مہارت کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کا ذریعہ بھی بنتا ہے۔
یہ امر قابلِ تحسین ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج نے ہمیشہ قومی سلامتی کے ساتھ ساتھ عالمی اور علاقائی امن میں بھی اپنا کردار ادا کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے امن مشنز سے لے کر دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں تک پاکستانی فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا اعتراف مختلف عالمی حلقوں میں کیا گیا ہے۔ اسی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے دفاعی تعاون کو فروغ دینا پاکستان کے مثبت عالمی کردار کو مزید مستحکم کر سکتا ہے۔
سید عاصم منیر کی قیادت میں یہ بات واضح دکھائی دیتی ہے کہ پاکستان اپنے دفاع کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ اپنی دفاعی خود انحصاری کو بھی آگے بڑھانا چاہتا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی، مقامی دفاعی پیداوار، تربیت، انٹیلی جنس صلاحیت اور بین الاقوامی تعاون آنے والے دور میں قومی دفاع کے اہم ستون ہوں گے۔ ان شعبوں میں مسلسل پیش رفت پاکستان کو مستقبل کے چیلنجز سے بہتر انداز میں نمٹنے کے قابل بنا سکتی ہے۔
آخرکار ایک مضبوط پاکستان صرف مضبوط فوج سے نہیں بلکہ مضبوط قوم سے تشکیل پاتا ہے۔ افواج پاکستان ملک کی دفاعی حصار ہیں، جبکہ عوام اس حصار کی اصل قوت ہیں۔ عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان اعتماد، قومی یکجہتی اور مشترکہ مقصد کا احساس ہی پاکستان کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ بلوچستان سمیت ملک کے تمام علاقوں کے عوام کو ترقی کے یکساں مواقع فراہم کرنا اور نوجوان نسل کو آگے بڑھنے کے راستے دینا اسی قومی قوت کو مزید مضبوط کرے گا۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایک ایسے سولجر کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں جس کے پیشِ نظر وطن کا دفاع، قومی سلامتی اور پاکستان کی خود مختاری بنیادی ترجیحات ہیں۔ ان کی قیادت میں دفاعی روابط کا فروغ، دوست ممالک کے ساتھ تعاون، مقامی دفاعی صلاحیتوں کی حوصلہ افزائی اور دہشت گردی کے خلاف واضح عزم قابلِ تحسین اقدامات ہیں۔
پاکستان کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے کے لیے جو قیادت مسلسل چوکنا، متحرک اور پرعزم رہے، اس کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جانا چاہیے۔ وطن کے محافظوں کا اصل سرمایہ عوام کا اعتماد اور ملک کے لیے ان کی بے لوث خدمت ہے۔ سید عاصم منیر کی عسکری خدمات بھی اسی جذب? حب الوطنی کی آئینہ دار ہیں۔ قوم کو یقین ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج اپنی پیشہ ورانہ صلاحیت، قربانی اور عزم کے ساتھ وطن کی سلامتی اور خود مختاری کا ہر محاذ پر دفاع کرتی رہیں گی۔
متعلقہ پوسٹیں