jahaneimroz
Chief editor Faizullah Durrani

پاکستانی عوامی ریلیف اور معاشی استحکام کے لیے حکومتی کوششیں

تجزیہ بی این پی
پاکستان کو اس وقت مہنگائی، غربت، روزگار، توانائی، زرعی پیداوار اور عام آدمی کی قوتِ خرید جیسے کئی اہم معاشی مسائل کا سامنا ہے۔ یہ مسائل ایک دن میں پیدا نہیں ہوئے اور نہ ہی ان کا حل چند ہفتوں یا چند ماہ میں ممکن ہے، تاہم موجودہ حالات میں یہ امر حوصلہ افزا ہے کہ حکومت نے عوامی مشکلات کو کم کرنے اور معیشت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے مختلف شعبوں میں اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ حکومت کی ذمہ داری صرف معاشی اشاریوں کو بہتر بنانا نہیں بلکہ اس معاشی بہتری کے ثمرات عام شہری تک پہنچانا بھی ہے، اور یہی وہ سمت ہے جس پر مسلسل توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
ملکی معیشت میں استحکام کے لیے درآمدات، برآمدات، تجارتی خسارے، توانائی کی قیمتوں اور پیداواری صلاحیت جیسے عوامل کو ایک ساتھ دیکھنا ضروری ہے۔ رواں مالی سال کے پہلے ماہ میں درآمدات میں اضافے کے نتیجے میں تجارتی خسارہ بڑھا ہے، لیکن اس صورتحال کو صرف منفی پہلو سے دیکھنے کے بجائے اس بات پر بھی غور کرنا چاہیے کہ ملک میں صنعتی، زرعی اور پیداواری سرگرمیوں کو کس طرح بڑھایا جا سکتا ہے تاکہ درآمدی ضروریات کم ہوں اور برآمدات میں اضافہ ہو۔ حکومت کے سامنے یہی بڑا چیلنج ہے کہ معاشی سرگرمیوں کو اس انداز میں فروغ دیا جائے کہ ملک کی اپنی پیداوار بڑھے، روزگار کے مواقع پیدا ہوں اور عوام کی آمدن میں اضافہ ہو۔
غذائی اشیائ کی درآمد کا معاملہ بھی اسی تناظر میں اہم ہے۔ اگر پاکستان اپنی زرعی پیداوار میں اضافہ کر لے، جدید ٹیکنالوجی کو فروغ دے، معیاری بیج عام کرے اور کسان کو مناسب سہولیات فراہم کرے تو نہ صرف خوراک کی درآمد پر انحصار کم ہو سکتا ہے بلکہ زرعی شعبہ ملکی معیشت کے لیے مزید مضبوط ستون بن سکتا ہے۔ اس سلسلے میں وزیراعظم کی زیر صدارت زرعی اصلاحات کے حوالے سے ہونے والا اجلاس ایک مثبت پیش رفت ہے۔ گندم کی طلب، کاشت کے رقبے اور آئندہ فصل کی پیداوار کا جائزہ، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کسانوں کی معاونت، معیاری بیج کی فراہمی اور زرعی تحقیق کے اداروں کو فعال بنانے کی ہدایات اس بات کا اظہار ہیں کہ حکومت زرعی شعبے کو محض روایتی انداز میں نہیں بلکہ جدید تقاضوں کے مطابق آگے بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔
وزیراعظم کی جانب سے فی ایکڑ پیداوار بڑھانے پر زور دینا خاص طور پر اہم ہے۔ پاکستان کے پاس زرعی زمین، محنت کش افرادی قوت اور کئی فصلوں کے لیے موزوں ماحول موجود ہے، مگر فی ایکڑ پیداوار کے میدان میں ابھی بہتری کی گنجائش ہے۔ اگر کسان کو جدید تحقیق، بہتر بیج، پانی کے مؤثر استعمال، زرعی مشینری، تربیت اور منڈی تک آسان رسائی فراہم کی جائے تو پیداوار میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔ اسی طرح چین میں زرعی تربیت حاصل کرنے والے طلبہ کے تجربات سے استفادہ کرنے کی ہدایت بھی مستقبل کی زرعی پالیسی کے لیے مفید ثابت ہو سکتی ہے۔ نوجوانوں کو جدید زرعی علوم سے جوڑ کر پاکستان کے زرعی نظام میں نئی سوچ اور نئی ٹیکنالوجی لائی جا سکتی ہے۔
نیشنل ایگریکلچر ریسرچ سنٹر کی اصلاحات کی منظوری بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔ زرعی تحقیق کو عالمی معیار سے ہم آہنگ کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ دنیا بھر میں زراعت تیزی سے ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، جدید آبپاشی، موسمیاتی پیش گوئی اور سائنسی تحقیق سے جڑ رہی ہے۔ پاکستان اگر ان شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھاتا ہے تو مستقبل میں نہ صرف غذائی ضروریات پوری کرنے میں آسانی ہوگی بلکہ زرعی برآمدات کے ذریعے قیمتی زرمبادلہ بھی حاصل کیا جا سکے گا۔ اس لیے حکومت کی جانب سے زرعی تحقیق اور قومی پیداوار کے جامع تخمینوں پر توجہ ایک درست سمت کی نشاندہی کرتی ہے۔
اسی طرح قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں مختلف ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ بھی اس امر کا عکاس ہے کہ حکومت ملک کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے پر توجہ دے رہی ہے۔ خوازہ خیلہ، بشام ایکسپریس وے کی تعمیر، بجلی کی تقسیم کے نظام کی استعداد کار میں بہتری اور تربیلا ڈیم کے پانچویں توسیعی پن بجلی منصوبے جیسے منصوبے براہِ راست یا بالواسطہ طور پر عام آدمی کی زندگی پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔ بہتر سڑکیں کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دیتی ہیں، بجلی کا مؤثر نظام صنعتی پیداوار میں مدد دیتا ہے جبکہ پن بجلی کے منصوبے مستقبل میں توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
جنوبی پنجاب میں غربت میں کمی کے منصوبے کو بھی اسی وسیع تر حکومتی حکمت عملی کا حصہ سمجھنا چاہیے۔ پاکستان کے مختلف علاقوں میں ترقی کی رفتار یکساں نہیں رہی، اس لیے پسماندہ علاقوں کے لیے خصوصی منصوبے ضروری ہیں۔ جنوبی پنجاب کے ساتھ ساتھ بلوچستان، خیبر پختونخوا، سندھ اور دیگر کم ترقی یافتہ علاقوں میں بھی تعلیم، صحت، روزگار، انفراسٹرکچر اور بنیادی سہولیات کے منصوبوں کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ علاقائی توازن کے بغیر پائیدار قومی ترقی کا تصور مکمل نہیں ہو سکتا۔
مہنگائی ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا اثر براہِ راست ہر گھر پر پڑتا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات، بجلی، گیس، خوراک اور روزمرہ استعمال کی اشیائ کی قیمتیں بڑھنے سے سب سے زیادہ متاثر کم اور متوسط آمدن والے طبقات ہوتے ہیں۔ اس لیے حکومت کے معاشی اقدامات کا اصل امتحان یہی ہے کہ وہ عام آدمی کے اخراجات کم کرنے اور آمدن بڑھانے میں کس حد تک کامیاب ہوتی ہے۔ اس مقصد کے لیے صرف سبسڈی یا عارضی ریلیف کافی نہیں بلکہ ایسی معاشی پالیسی کی ضرورت ہے جس سے روزگار کے مواقع بڑھیں، صنعت کا پہیہ تیز ہو، چھوٹے کاروبار مضبوط ہوں اور زرعی آمدن میں اضافہ ہو۔
حکومت کو عوامی شکایات کو سنجیدگی سے سننا اور سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر ان کا حل تلاش کرنا چاہیے۔ جماعت اسلامی سمیت مختلف سیاسی و سماجی حلقے مہنگائی اور بنیادی سہولیات کے مسائل کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ ان آوازوں کو محض سیاسی مخالفت سمجھنے کے بجائے عوامی احساسات کی ترجمانی کے طور پر بھی دیکھنا چاہیے۔ جمہوری نظام اسی وقت مضبوط ہوتا ہے جب حکومت تنقید کو برداشت کرے، مثبت تجاویز کو قبول کرے اور عوام کے مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کرے۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق حکومت کے لیے موجودہ حالات میں سب سے اہم ضرورت یہ ہے کہ معاشی استحکام کے اعداد و شمار کو عوامی زندگی میں حقیقی بہتری سے جوڑا جائے۔ اگر مہنگائی میں کمی، روزگار میں اضافہ، بجلی کی قیمتوں میں قابلِ برداشت سطح، اشیائے خورونوش کی مناسب قیمتیں اور عام شہری کی قوتِ خرید بہتر ہوتی ہے تو معاشی پالیسیوں پر عوام کا اعتماد بھی بڑھے گا۔ حکومت کی جانب سے ترقیاتی منصوبوں، زرعی اصلاحات اور توانائی کے شعبے میں اقدامات اسی وقت زیادہ مؤثر ثابت ہوں گے جب ان کا براہِ راست فائدہ عام شہری تک پہنچے۔
پاکستان کی معاشی مشکلات کا حل کسی ایک ادارے یا ایک حکومت کے پاس نہیں۔ اس کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نجی شعبے، صنعت کاروں، کسانوں، ماہرینِ معیشت، تعلیمی اداروں اور عوام کے درمیان تعاون ضروری ہے۔ سیاسی استحکام بھی معاشی ترقی کے لیے بنیادی شرط ہے۔ سرمایہ کار اسی ماحول میں سرمایہ کاری کرتا ہے جہاں پالیسیوں میں تسلسل، قانون کی بالادستی اور کاروباری تحفظ موجود ہو۔ حکومت اگر معاشی اصلاحات کو سیاسی اتفاقِ رائے کے ساتھ آگے بڑھائے تو ان کے نتائج زیادہ دیرپا ہو سکتے ہیں۔
عوام کو ریلیف دینے کے لیے حکومت کو قیمتوں کی نگرانی کا مؤثر نظام بھی مضبوط کرنا ہوگا۔ بعض اوقات عالمی سطح پر قیمتوں میں کمی کے باوجود مقامی منڈی میں اس کا فائدہ صارف تک نہیں پہنچتا۔ ذخیرہ اندوزی، ناجائز منافع خوری اور مصنوعی قلت جیسے مسائل عام آدمی کے لیے مشکلات پیدا کرتے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کو فعال بنا کر اشیائے ضروریہ کی دستیابی اور قیمتوں پر مؤثر نگرانی کی جائے تو مہنگائی کے دباؤ کو کسی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ مقامی پیداوار بڑھانا ہی مستقل حل ہے۔
حکومت کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ عوامی فلاح کے منصوبوں کی تشہیر سے زیادہ ان کے نتائج پر توجہ دی جائے۔ سڑک، پل، بجلی، زرعی تحقیق یا کسی بھی ترقیاتی منصوبے کی اصل کامیابی تب ہوتی ہے جب شہری اس کا فائدہ اپنی روزمرہ زندگی میں محسوس کرے۔ اسی طرح غربت میں کمی کے منصوبوں کو صرف مالی امداد تک محدود رکھنے کے بجائے تعلیم، ہنر، روزگار اور کاروباری مواقع سے جوڑا جانا چاہیے تاکہ مستحق خاندان مستقل طور پر اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکیں۔
پاکستان کی نوجوان آبادی بھی ایک بہت بڑا اثاثہ ہے۔ اگر نوجوانوں کو معیاری تعلیم، فنی تربیت، جدید ٹیکنالوجی اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں تو یہی نسل ملک کی معاشی تبدیلی کا سب سے بڑا ذریعہ بن سکتی ہے۔ چین سمیت دیگر ممالک کے ساتھ تربیتی اور تعلیمی تعاون کو اسی مقصد کے لیے مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ زرعی شعبے میں تربیت، آئی ٹی، انجینئرنگ، صنعت اور کاروبار کے شعبوں میں نوجوانوں کو مواقع دینا معاشی ترقی کو نئی رفتار دے سکتا ہے۔
مجموعی طور پر موجودہ معاشی صورتحال یقیناً چیلنجنگ ہے، لیکن اسے ناامیدی کی نظر سے دیکھنے کے بجائے اصلاحات اور بہتری کے مواقع کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ حکومت کی جانب سے زرعی اصلاحات، ترقیاتی منصوبوں، توانائی کے شعبے میں بہتری، غربت میں کمی اور انسانی وسائل کی تربیت کے حوالے سے اقدامات اس بات کی علامت ہیں کہ مسائل کے حل کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کوششوں میں تسلسل پیدا کیا جائے، ان کی شفاف نگرانی ہو اور ان کے نتائج براہِ راست عوام تک پہنچائے جائیں۔
حکومت اگر عام آدمی کی مشکلات کو اپنی پالیسیوں کا مرکزی نقطہ بنائے، مہنگائی پر قابو پانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے، کسان اور مزدور کی آمدن بڑھائے، چھوٹے کاروبار کو سہارا دے اور بنیادی سہولیات کی فراہمی بہتر بنائے تو موجودہ مشکلات کو بتدریج کم کیا جا سکتا ہے۔ معاشی ترقی کا اصل مقصد محض قومی خزانے کے اعداد و شمار بہتر کرنا نہیں بلکہ ہر گھر میں معاشی آسودگی، روزگار، تعلیم، صحت اور مستقبل کا اعتماد پیدا کرنا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو پائیدار ترقی، مضبوط معیشت اور خوشحال معاشرے کی طرف لے جا سکتا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More