jahaneimroz
Chief editor Faizullah Durrani

مکہ معاہدہ اور پاکستان کی بڑھتی ہوئی علاقائی اہمیت

تجزیہ بی این پی
مکہ باہمی دفاعی معاہدہ بدلتے ہوئے عالمی اور علاقائی حالات میں پاکستان کے لیے ایک اہم سفارتی اور دفاعی پیش رفت کے طور پر سامنے آیا ہے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان قائم ہونے والا یہ نیا دفاعی فریم ورک محض تین ممالک کے باہمی تعاون کا معاملہ نہیں بلکہ اس کے اثرات مشرقِ وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور عالمِ اسلام کی سیاست تک پھیل سکتے ہیں۔ امریکی جریدے ایف پی آئی ایف کی جانب سے بھی اس معاہدے کو پاکستان کی بڑھتی ہوئی علاقائی اہمیت، اس کے سفارتی اثر و رسوخ اور تزویراتی وسعت کے تناظر میں دیکھا گیا ہے۔ اس پیش رفت نے ایک مرتبہ پھر یہ سوال اہم بنا دیا ہے کہ بدلتی ہوئی عالمی سیاست میں پاکستان اپنے جغرافیائی محلِ وقوع، دفاعی صلاحیت، سفارتی روابط اور اسلامی دنیا میں اپنے مقام کو کس طرح قومی مفاد کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔
**تجزیہ بی این پی** کے مطابق پاکستان کے لیے مکہ معاہدے کی سب سے اہم جہت یہ ہے کہ اس نے اسے ایک ایسے علاقائی دفاعی تصور کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے جہاں سعودی عرب کی مالی و سیاسی طاقت، ترکیہ کی جدید دفاعی و عسکری صلاحیت اور پاکستان کی جنگی مہارت، تجربے اور دفاعی استعداد ایک دوسرے سے جڑ رہی ہیں۔ تینوں ممالک کی اپنی اپنی اہمیت ہے، لیکن جب یہ قوتیں مشترکہ حکمتِ عملی کے تحت جمع ہوتی ہیں تو ان کا مجموعی اثر کہیں زیادہ وسیع ہو سکتا ہے۔ یہی وہ پہلو ہے جس کی وجہ سے پاکستان کی علاقائی اہمیت میں اضافے کی بات کی جا رہی ہے۔
مکہ معاہدے کی بنیادی روح جارحیت نہیں بلکہ باہمی دفاع اور علاقائی استحکام ہے۔ کسی ایک رکن ملک کے خلاف مسلح حملے کو تمام ارکان کے خلاف حملہ تصور کرنے کا اصول اس معاہدے کو ایک واضح دفاعی شناخت فراہم کرتا ہے۔ اس طرح کا انتظام رکن ممالک کو یہ احساس دلاتا ہے کہ کسی ممکنہ بحران یا بیرونی جارحیت کی صورت میں انہیں تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔ تاہم اس نوعیت کے معاہدوں کی اصل کامیابی صرف معاہدے پر دستخط سے نہیں بلکہ ان کی عملی، سیاسی، سفارتی اور دفاعی سطح پر مؤثر تکمیل سے وابستہ ہوتی ہے۔
یہاں پاکستان کے لیے اصل امتحان بھی شروع ہوتا ہے۔ کسی دفاعی معاہدے کا حصہ بننا ایک اہم کامیابی ضرور ہے، مگر اس سے کہیں زیادہ اہم یہ ہے کہ پاکستان اس موقع کو اپنی معیشت، سفارت کاری، دفاعی صنعت، ٹیکنالوجی اور قومی سلامتی کے وسیع تر مفادات سے کیسے جوڑتا ہے۔ اگر پاکستان صرف دفاعی تعاون تک محدود رہا تو اس معاہدے کے امکانات کا ایک بڑا حصہ استعمال نہیں ہو سکے گا۔ لیکن اگر اسے اقتصادی شراکت داری، سرمایہ کاری، دفاعی پیداوار، توانائی، ٹیکنالوجی اور سفارتی تعاون کے ساتھ مربوط کیا جائے تو اس کے اثرات پاکستان کی مجموعی قومی طاقت میں نمایاں اضافہ کر سکتے ہیں۔
مکہ معاہدے کے حوالے سے امریکی رویے کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ عالمی سطح پر یہ تاثر پیدا ہوا تھا کہ شاید یہ نیا دفاعی انتظام اسرائیل کے خلاف کسی مشترکہ حکمتِ عملی کی بنیاد بن سکتا ہے اور اسی وجہ سے امریکہ کی جانب سے اس پر تحفظات سامنے آ سکتے ہیں۔ تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت اس تاثر کو کسی حد تک مختلف رخ دیتی ہے۔ اس حمایت کو پاکستان کے لیے ایک سفارتی کامیابی کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن اب بھی پاکستان کو خطے کی اہم طاقت اور ایک قابلِ ذکر سفارتی شراکت دار کے طور پر دیکھتا ہے۔
پاکستان کو اس موقع پر جذبات کے بجائے تدبر سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ عالمی سیاست میں مستقل دوست یا مستقل دشمن کے بجائے مستقل قومی مفادات اہم ہوتے ہیں۔ پاکستان کو امریکہ، چین، سعودی عرب، ترکیہ، ایران، وسطی ایشیائی ریاستوں اور دیگر ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو قومی مفاد کے اصول پر متوازن رکھنا ہوگا۔ کسی ایک بلاک کا حصہ بننے کے بجائے پاکستان کو ایسی آزاد، متوازن اور فعال خارجہ پالیسی اختیار کرنی چاہیے جس میں اس کی خودمختاری اور قومی مفادات بنیادی حیثیت رکھتے ہوں۔
بھارت اور اسرائیل کی جانب سے مکہ معاہدے پر تحفظات کا اظہار بھی متوقع تھا۔ خطے میں طاقت کے کسی نئے توازن کے قیام سے بعض ممالک کو اپنے تزویراتی مفادات متاثر ہونے کا خدشہ ہوسکتا ہے۔ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس معاہدے کی دفاعی نوعیت کو واضح طور پر اجاگر کرے اور عالمی برادری کو یہ پیغام دے کہ اس کا مقصد کسی ملک کے خلاف محاذ آرائی نہیں بلکہ رکن ممالک کی سلامتی اور خطے کے استحکام کو مضبوط بنانا ہے۔ پاکستان اگر اس معاملے پر جارحانہ بیانات کے بجائے سنجیدہ سفارتی زبان استعمال کرے تو اسے زیادہ وسیع عالمی حمایت حاصل ہوسکتی ہے۔
مکہ معاہدے کی ایک اور اہم خصوصیت یہ ہے کہ دیگر ممالک کے لیے بھی اس میں شمولیت کا راستہ کھلا رکھا گیا ہے۔ اگر آنے والے دنوں میں مزید مسلم ممالک اس دفاعی فریم ورک کا حصہ بنتے ہیں تو یہ معاہدہ تین ممالک کے محدود تعاون سے بڑھ کر ایک وسیع علاقائی تعاون کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ تاہم یہاں بھی احتیاط ضروری ہے۔ کسی بھی دفاعی اتحاد کی وسعت اس کی طاقت بڑھانے کے ساتھ ساتھ اس کے اندر موجود اختلافات، مختلف قومی مفادات اور سیاسی ترجیحات کو بھی بڑھا سکتی ہے۔ اس لیے ممکنہ توسیع کے ساتھ مؤثر مشاورتی نظام، واضح قواعد اور باہمی اعتماد ناگزیر ہوگا۔
پاکستان کے لیے اس معاہدے کا سب سے بڑا فائدہ شاید یہی ہے کہ اسے مشرقِ وسطیٰ اور عالمِ اسلام کے معاملات میں ایک فعال کردار ادا کرنے کا نیا موقع مل سکتا ہے۔ پاکستان کی سعودی عرب کے ساتھ دیرینہ برادرانہ تعلقات ہیں، جبکہ ترکیہ کے ساتھ بھی سیاسی، دفاعی اور عوامی سطح پر گہرے روابط موجود ہیں۔ اگر ان تعلقات کو ایک منظم علاقائی تعاون میں تبدیل کیا جائے تو پاکستان اپنی سفارتی قوت کو معاشی مواقع میں بھی بدل سکتا ہے۔
اس سلسلے میں دفاعی صنعت ایک اہم شعبہ بن سکتی ہے۔ پاکستان طویل عرصے سے دفاعی سازوسامان کی تیاری اور عسکری تجربے کا حامل ملک ہے۔ ترکیہ نے ڈرون ٹیکنالوجی، دفاعی الیکٹرانکس اور جدید عسکری صنعت میں نمایاں ترقی کی ہے، جبکہ سعودی عرب اپنی دفاعی ضروریات اور سرمایہ کاری کی استعداد کے باعث ایک اہم شراکت دار ہے۔ تینوں ممالک اگر مشترکہ دفاعی تحقیق، پیداوار، تربیت اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے منصوبے شروع کریں تو اس کے نتیجے میں ایک مضبوط علاقائی دفاعی صنعتی تعاون وجود میں آسکتا ہے۔
لیکن پاکستان کی عوام کے لیے اس تمام پیش رفت کا اصل سوال یہ ہے کہ اس معاہدے کا فائدہ عام آدمی تک کب اور کیسے پہنچے گا؟ محض عالمی سطح پر پاکستان کی اہمیت بڑھنے سے اس وقت تک عوام کی زندگی نہیں بدلے گی جب تک ملک میں روزگار، مہنگائی، تعلیم، صحت، بجلی، گیس، پانی اور بنیادی سہولتوں کے مسائل حل نہیں ہوتے۔ خارجہ پالیسی کی کامیابی کا حقیقی پیمانہ بھی یہی ہے کہ اس کے نتیجے میں قومی معیشت مضبوط ہو، سرمایہ کاری آئے، روزگار کے مواقع پیدا ہوں اور عام شہری کے معیارِ زندگی میں بہتری آئے۔
تجزیہ بی این پی اس امر کی طرف عوامی توجہ مبذول کرانا ضروری سمجھتا ہے کہ پاکستان کی جغرافیائی اور دفاعی اہمیت بلاشبہ ایک قومی اثاثہ ہے، مگر اس اثاثے کو معاشی طاقت میں تبدیل کرنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ ایک مضبوط فوج، فعال سفارت کاری اور اہم علاقائی شراکت دار اپنی جگہ ضروری ہیں، لیکن پائیدار قومی طاقت کے لیے مضبوط معیشت، تعلیم یافتہ نوجوان، جدید ٹیکنالوجی، صنعتی ترقی اور قانون کی بالادستی بھی ناگزیر ہیں۔ اگر اندرونی کمزوریاں برقرار رہیں تو بیرونی سفارتی کامیابیاں محدود اثرات ہی پیدا کر سکیں گی۔

پاکستانی عوام کو بھی اس نئے علاقائی منظرنامے کو محض جذباتی نعروں کے بجائے شعور اور ذمہ داری کے ساتھ دیکھنا ہوگا۔ دنیا تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ بڑی طاقتیں اپنے مفادات کے لیے نئی صف بندیاں کر رہی ہیں، علاقائی ممالک اپنی دفاعی اور معاشی شراکت داری بڑھا رہے ہیں اور سفارت کاری اب صرف سیاسی بیانات تک محدود نہیں رہی۔ معیشت، ٹیکنالوجی، دفاع، توانائی، تجارت اور انسانی وسائل سب خارجہ پالیسی کی طاقت بن چکے ہیں۔ پاکستان کو بھی اسی جامع تصور کے تحت آگے بڑھنا ہوگا۔
مکہ معاہدہ پاکستان کو یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ اپنی علاقائی حیثیت کو مزید مضبوط کرے، لیکن یہ موقع خود بخود کامیابی میں تبدیل نہیں ہوگا۔ اس کے لیے قومی اتفاقِ رائے، سیاسی استحکام، معاشی نظم و ضبط، مؤثر سفارت کاری اور ادارہ جاتی تسلسل ضروری ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس معاہدے کی تفصیلات اور پاکستان کے لیے اس کے ممکنہ فوائد و ذمہ داریوں سے پارلیمان اور عوام کو آگاہ کرے تاکہ قومی سطح پر اس حوالے سے ایک واضح اور سنجیدہ رائے پیدا ہو۔
پاکستان کو اپنے دفاعی مفادات کے ساتھ ساتھ امن کی سفارت کاری کو بھی ترجیح دینی چاہیے۔ اگر مکہ معاہدہ خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے، جارحیت کی روک تھام اور تنازعات کے پرامن حل میں کردار ادا کرتا ہے تو یہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے مثبت پیش رفت ثابت ہوسکتا ہے۔ پاکستان ماضی میں بھی مختلف عالمی اور علاقائی بحرانوں میں ثالثی اور مذاکرات کے ذریعے کردار ادا کرتا رہا ہے۔ مستقبل میں بھی اسے جنگوں کا فریق بننے کے بجائے امن کا مؤثر سفیر بننے کی کوشش کرنی چاہیے۔
یہ حقیقت بھی سامنے رہنی چاہیے کہ دفاعی طاقت کا مقصد جنگ مسلط کرنا نہیں بلکہ جنگ کو روکنے کی صلاحیت پیدا کرنا ہے۔ اگر مکہ معاہدہ اپنے رکن ممالک کو محفوظ بنانے کے ساتھ ساتھ مخالف قوتوں کو بھی جارحیت سے باز رکھنے میں کامیاب ہوتا ہے تو یہ ایک مؤثر دفاعی حکمتِ عملی قرار پائے گا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ معاہدے کے تحت تعاون شفاف، واضح اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہو۔
پاکستان کے نوجوانوں کو بھی اس بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں اپنا کردار سمجھنا ہوگا۔ آنے والے دور میں ملک کی اصل طاقت صرف میزائل، طیارے اور دفاعی نظام نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت، سائبر ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، طب، تعلیم، تحقیق، صنعت اور کاروباری صلاحیت بھی ہوگی۔ اگر پاکستان مکہ معاہدے کے ذریعے حاصل ہونے والی علاقائی اہمیت کو جدید معیشت کے ساتھ جوڑ لیتا ہے تو یہ معاہدہ قومی ترقی کے لیے ایک وسیع تر دروازہ کھول سکتا ہے۔
بالآخر مکہ باہمی دفاعی معاہدہ پاکستان کے لیے ایک اہم موقع ہے، مگر ہر موقع کے ساتھ ذمہ داری بھی آتی ہے۔ پاکستان کو اپنی دفاعی قوت، سفارتی حیثیت اور علاقائی اہمیت کو قومی ترقی، معاشی استحکام اور عوامی فلاح کے ساتھ جوڑنا ہوگا۔ سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ تعاون کو محض عسکری تعلقات تک محدود رکھنے کے بجائے تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، ٹیکنالوجی، تعلیم اور صنعتی ترقی تک پھیلانا ہوگا۔ اگر ایسا کیا گیا تو پاکستان خطے میں صرف ایک دفاعی شراکت دار نہیں بلکہ ایک مؤثر معاشی، سیاسی اور سفارتی قوت کے طور پر بھی ابھر سکتا ہے۔
**تجزیہ بی این پی** کے نزدیک مکہ معاہدے کی اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب پاکستان اپنی بڑھتی ہوئی علاقائی اہمیت کو قومی طاقت میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہو۔ عوام کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ملک کی عزت اور طاقت صرف بیرونی معاہدوں سے نہیں بلکہ اندرونی اتحاد، معاشی خود کفالت، قانون کی حکمرانی، تعلیم، محنت اور قومی ذمہ داری سے پیدا ہوتی ہے۔ آج پاکستان کے سامنے ایک نیا موقع موجود ہے؛ ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاستی ادارے، سیاسی قیادت، کاروباری طبقہ، دانشور اور عوام مل کر اس موقع کو قومی مفاد میں استعمال کریں۔ اگر پاکستان نے اس مرحلے پر درست فیصلے کیے تو مکہ معاہدہ اس کی علاقائی اہمیت میں اضافے کے ساتھ ساتھ ایک زیادہ مضبوط، باوقار اور خودمختار پاکستان کی بنیاد بھی بن سکتا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More