ایران کا بلوچستان کی صورتحال کے باعث پاکستان کے ساتھ تجارت عارضی طور پر معطل کرنے کا فیصلہ

کوئٹہ(سٹاف رپورٹر )اسلامی جمہوریہ ایران نے پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں جاری غیر یقینی صورتحال، اہم شاہراہوں کی بندش اور پاک-ایران مشترکہ سرحدی گزرگاہوں پر نقل و حمل میں حائل شدید رکاوٹوں کے باعث پاکستان کے لیے برآمدی سامان کی لوڈنگ اور ترسیل کو عارضی طور پر معطل کرنے کا بڑا فیصلہ کر لیا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے حکومت پاکستان کو ارسال کیے گئے ایک باضابطہ اور اہم مراسلے میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان میں موجودہ ابتر حالات کے باعث بین الاقوامی ٹرانسپورٹ، تجارتی سرگرمیوں اور اشیائے ضروریہ کی ترسیل کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، جس کے نتیجے میں دونوں برادر ممالک کے درمیان تجارتی روابط بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔

سرکاری مراسلے کے مطابق، ایران کو مختلف ٹرانسپورٹ کمپنیوں، برآمد کنندگان اور لاجسٹک نیٹ ورکس کی جانب سے موصول ہونے والی رپورٹس میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ مشترکہ سرحدی راستوں پر تجارتی سامان کی نقل و حرکت کو وسیع پیمانے پر رکاوٹوں، غیر معمولی تاخیر اور بڑھتے ہوئے آپریشنل اخراجات کا سامنا ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق ان سنگین مشکلات سے نہ صرف ایرانی برآمد کنندگان بلکہ ٹرانسپورٹ کمپنیوں اور لاجسٹک اداروں کو بھی بھاری مالی نقصانات برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔

مراسلے میں خاص طور پر ایرانی ٹرکوں اور نیشنل لاجسٹک سیل (این ایل سی) کے ذریعے سامان کی محفوظ ترسیل میں درپیش مسائل کا تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے۔

وزارت خارجہ ایران نے اپنے پیغام میں واضع کیا ہے کہ موجودہ صورتحال دونوں ممالک کے درمیان تجارتی سرگرمیوں کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے اور اس کے نتیجے میں مالی خسارے کے ساتھ ساتھ اشیائے ضروریہ کی سپلائی چین بھی متاثر ہو رہی ہے، جس سے دوطرفہ تجارت اور اقتصادی روابط کو طویل مدتی نقصان پہنچنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

ایرانی حکومت نے واضح کیا ہے کہ یہ سخت اقدام محض عارضی نوعیت کا ہے اور بلوچستان میں حالات معمول پر آنے، شاہراہوں کی بحالی اور سرحدی گزرگاہوں پر نقل و حمل کی روانی بحال ہونے کے بعد تجارتی سرگرمیوں کو دوبارہ معمول کے مطابق شروع کر دیا جائے گا۔

تجارت کی اس عارضی بندش میں تافتان، گوادر اور مند کی اہم ترین شاہراہوں اور گزرگاہوں کا خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے جہاں سے مکمل تجارت بند کرنے کا اعلان ہوا ہے۔

دوسری جانب، ایران کے اس اچانک فیصلے کو دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کے تناظر میں ایک انتہائی اہم اور تشویشناک پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ ایران اور پاکستان کے درمیان سرحدی تجارت، ایندھن، خوراک اور مختلف صنعتی مصنوعات کی ترسیل دونوں ممالک کی معیشت، بالخصوص بلوچستان کے سرحدی اضلاع کے لیے خاصی اہمیت رکھتی ہے۔

مبصرین کے مطابق، اگر بلوچستان میں مواصلاتی نظام اور سرحدی راستوں کی بندش کا یہ سلسلہ طویل ہوا تو اس کے اثرات نہ صرف پاک-ایران تجارت بلکہ خطے میں مجموعی اقتصادی سرگرمیوں اور اشیائے ضروریہ کی دستیابی پر بھی انتہائی منفی انداز میں مرتب ہو سکتے ہیں، جس کے باعث دونوں ہمسایہ ممالک کو کروڑوں ڈالر کے تجارتی نقصانات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *