تجزیہ بی این پی
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی جانب سے اپوزیشن کو ایک مرتبہ پھر مذاکرات کی دعوت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک کو سیاسی کشیدگی، معاشی دباؤ، انتظامی مسائل اور خطے کی بدلتی ہوئی صورتِ حال سمیت کئی اہم چیلنجز کا سامنا ہے۔ وزیراعظم نے وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان کی معاشی ترقی اور جمہوریت کے استحکام کے لیے سیاسی معاملات کو باہمی مشاورت اور گفت و شنید کے ذریعے طے کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے جہاں ممکن ہوا حکومتی اخراجات میں بچت کی جائے گی۔ وزیراعظم کی یہ پیشکش محض سیاسی بیان نہیں ہونی چاہیے بلکہ اسے ایک ایسے موقع کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے جس کے ذریعے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے کم کیے جا سکتے ہیں۔
تجزیہ بی این پی موجودہ سیاسی حالات کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ملک میں سیاسی اختلافات اب محض پارلیمانی بحث اور انتخابی مقابلے تک محدود نہیں رہے بلکہ ان کے اثرات ریاستی نظام، معیشت، گورننس اور عوامی اعتماد تک پہنچ چکے ہیں۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مسلسل محاذ آرائی نے سیاسی ماحول کو کشیدہ رکھا ہے، جبکہ عوام کی بڑی تعداد پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری، غربت، توانائی کے مسائل اور روزمرہ اخراجات کے دباؤ میں زندگی گزار رہی ہے۔ ایسے ماحول میں سیاسی کشمکش اگر مزید شدت اختیار کرتی ہے تو اس کا سب سے زیادہ نقصان عام شہری کو ہی برداشت کرنا پڑتا ہے۔
جمہوریت میں حکومت اور اپوزیشن کا وجود ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہے۔ حکومت کا کام ریاستی امور چلانا، پالیسی بنانا اور عوام کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنا ہے، جبکہ اپوزیشن کا بنیادی آئینی کردار حکومت کی نگرانی، اس کی پالیسیوں پر تنقید اور متبادل تجاویز پیش کرنا ہے۔ اگر دونوں اپنے اپنے آئینی کردار کو سمجھتے ہوئے کام کریں تو اختلافِ رائے جمہوریت کو کمزور کرنے کے بجائے اسے مضبوط کرتا ہے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب سیاسی اختلاف ذاتی دشمنی، الزام تراشی، احتجاج برائے احتجاج اور مسلسل محاذ آرائی میں تبدیل ہو جائے۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ اس امر کی گواہ ہے کہ طویل سیاسی کشیدگی نے کبھی ملک کو استحکام نہیں دیا۔ حکومتیں تبدیل ہوتی رہیں، سیاسی جماعتیں اقتدار میں آتی اور اپوزیشن میں جاتی رہیں، لیکن سیاسی تنازعات کا مستقل حل تلاش کرنے کے بجائے اکثر ایک دوسرے کو شکست دینے کی کوشش کی گئی۔ نتیجتاً پارلیمانی نظام کی ساکھ متاثر ہوئی اور عوام کے اندر یہ تاثر پیدا ہوا کہ سیاسی قیادتیں اپنے اختلافات میں اس قدر الجھ جاتی ہیں کہ انہیں عوام کے بنیادی مسائل پر توجہ دینے کا وقت نہیں ملتا۔
وزیراعظم کی جانب سے مذاکرات کی تازہ پیشکش اس لحاظ سے اہم ہے کہ حکومت نے کم از کم سیاسی مکالمے کا دروازہ کھلا رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔ تاہم مذاکرات کی کامیابی صرف دعوت دینے سے ممکن نہیں۔ اس کے لیے حکومت کو بھی اپنے رویے میں لچک، تحمل اور وسعتِ نظر کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور اپوزیشن کو بھی اس پیشکش کو محض سیاسی کمزوری سمجھنے کے بجائے قومی مفاد کے تناظر میں دیکھنا ہوگا۔ مذاکرات کا مقصد کسی ایک فریق کی فتح یا شکست نہیں بلکہ ایسے معاملات پر اتفاقِ رائے پیدا کرنا ہونا چاہیے جن کا تعلق براہِ راست ریاست اور عوام کے مستقبل سے ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ اپوزیشن جماعتوں خصوصاً تحریک انصاف کی جانب سے گزشتہ عرصے کے دوران انتخابی معاملات، سیاسی حقوق اور حکومتی پالیسیوں کے حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ دوسری جانب حکومت کا موقف ہے کہ ملک کو سیاسی استحکام کے ذریعے معاشی بحالی کی طرف لے جانا ضروری ہے۔ دونوں فریق اپنے اپنے مؤقف کے دفاع میں دلائل رکھتے ہیں، مگر اختلاف کا مطلب یہ نہیں کہ رابطے کے تمام راستے بند کر دیے جائیں۔ جمہوری نظام کی اصل طاقت ہی یہ ہے کہ شدید اختلاف رکھنے والے فریق بھی پارلیمان اور مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر اپنے مؤقف کا اظہار کر سکتے ہیں۔
ملک کی موجودہ معاشی صورتِ حال بھی سیاسی قوتوں سے غیر معمولی سنجیدگی کا تقاضا کرتی ہے۔ عوام کو روزگار، مناسب آمدنی، سستی توانائی، بہتر تعلیم، معیاری صحت اور مہنگائی میں کمی کی ضرورت ہے۔ اگر سیاسی قیادتیں ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی میں اپنی تمام توانائیاں صرف کرتی رہیں تو عوامی مسائل پس منظر میں چلے جائیں گے۔ حکومت کو اپنی معاشی پالیسیوں کے نتائج عوام کے سامنے رکھنے چاہئیں، جبکہ اپوزیشن کو بھی تنقید کے ساتھ قابلِ عمل متبادل تجاویز دینی چاہئیں۔ صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ حکومت ناکام ہے؛ یہ بھی بتانا ضروری ہے کہ موجودہ مسائل کا بہتر حل کیا ہے اور اسے عملی طور پر کیسے نافذ کیا جا سکتا ہے۔
وزیراعظم نے عام آدمی کو ریلیف دینے کی بات بھی کی ہے۔ یہ ایک اہم وعدہ ہے، لیکن اس وعدے کو عملی اقدامات سے جوڑنا ضروری ہے۔ عوام کے لیے ریلیف صرف اعلانات سے نہیں بلکہ قیمتوں میں استحکام، روزگار کے مواقع، توانائی کے قابلِ برداشت نرخ، بہتر سرکاری خدمات اور موثر انتظامی نظام سے محسوس ہوتا ہے۔ اگر حکومت سیاسی مذاکرات کے ساتھ ساتھ گورننس بہتر بنانے پر بھی توجہ دے تو اس سے سیاسی نظام پر عوام کا اعتماد بحال کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
ملک کو درپیش علاقائی اور سلامتی کے چیلنجز بھی سیاسی استحکام کی اہمیت کو بڑھا دیتے ہیں۔ خطے میں کشیدگی کی صورتِ حال ہو یا داخلی سلامتی کے مسائل، ان سے نمٹنے کے لیے ریاستی اداروں کے درمیان ہم آہنگی اور سیاسی سطح پر کم از کم بنیادی اتفاقِ رائے ضروری ہوتا ہے۔ قومی سلامتی جیسے معاملات کو سیاسی مفادات کی کشمکش سے بالاتر رکھنے کی ضرورت ہے۔ حکومت اور اپوزیشن اگر قومی معاملات پر کم از کم مشترکہ بنیاد تلاش کرلیں تو اس سے پاکستان کا داخلی اور خارجی موقف بھی زیادہ مضبوط ہو سکتا ہے۔
اسی طرح حکومتی اتحادی جماعتوں کے درمیان پیدا ہونے والے اختلافات بھی سیاسی نظام کے لیے ایک اہم چیلنج ہیں۔ اتحادی حکومتوں میں اختلافات کوئی غیر معمولی امر نہیں، لیکن ان اختلافات کو عوامی محاذ آرائی اور مسلسل الزام تراشی میں تبدیل کرنا نظام کے لیے مشکلات پیدا کرتا ہے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان مختلف سیاسی معاملات پر سامنے آنے والے تحفظات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ حکومت کے اندر بھی مکمل ہم آہنگی موجود نہیں۔ اتحادی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ اختلافات کو میڈیا اور عوامی جلسوں کے بجائے مذاکراتی عمل کے ذریعے حل کریں تاکہ حکومتی امور متاثر نہ ہوں۔
گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے سیاسی معاملات کے دوران مختلف جماعتوں کے درمیان بڑھنے والی بیان بازی نے بھی سیاسی ماحول کو کشیدہ کیا ہے۔ انتخابی سیاست میں مقابلہ فطری امر ہے، لیکن انتخابی عمل کو مستقل سیاسی جنگ میں تبدیل کرنا کسی کے مفاد میں نہیں۔ انتخابات میں جماعتیں ایک دوسرے کے مقابل ہوتی ہیں، مگر انتخابات کے بعد ریاستی معاملات سب کی مشترکہ ذمہ داری بن جاتے ہیں۔ یہی جمہوری سیاست کی بنیادی روح ہے۔
تجزیہ بی این پی وزیراعظم کی مذاکرات کی دعوت کو اس لیے بھی سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے کہ موجودہ حالات میں کسی ایک سیاسی جماعت کی فتح سے زیادہ اہم سیاسی نظام کا استحکام ہے۔ حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ مضبوط حکومت کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ہر اختلاف کو طاقت کے ذریعے ختم کرے، بلکہ مضبوط حکومت وہ ہوتی ہے جو اختلاف رکھنے والوں کو سننے کا حوصلہ رکھتی ہو۔ اسی طرح اپوزیشن کی مضبوطی کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ہر حکومتی اقدام کی مخالفت کرے، بلکہ ایک ذمہ دار اپوزیشن وہ ہے جو قومی مفاد کے معاملات میں حکومت کے ساتھ تعاون اور غلط پالیسیوں کی صورت میں مؤثر تنقید دونوں کا حق ادا کرے۔
مذاکرات کے لیے کچھ بنیادی اصول طے کیے جا سکتے ہیں۔ سب سے پہلے حکومت اور اپوزیشن کو ایک دوسرے کے سیاسی وجود اور آئینی کردار کو تسلیم کرنا ہوگا۔ دوسرا اصول یہ ہونا چاہیے کہ مذاکرات الزام تراشی سے پاک ماحول میں ہوں۔ تیسرا یہ کہ جو معاملات عدالتوں یا آئینی اداروں کے دائرہ اختیار میں ہیں انہیں سیاسی مذاکرات کے ذریعے متنازع بنانے کے بجائے متعلقہ اداروں پر چھوڑا جائے۔ چوتھا اصول یہ ہو کہ جو امور پارلیمان کے ذریعے حل کیے جا سکتے ہیں انہیں پارلیمان میں لایا جائے۔ اس طرح مذاکرات ایک واضح اور نتیجہ خیز سمت اختیار کر سکتے ہیں۔
پارلیمان کی بالادستی بھی اسی سیاسی مفاہمت سے جڑی ہوئی ہے۔ اگر سیاسی جماعتیں پارلیمان کے اندر بیٹھ کر قانون سازی، معاشی پالیسی، انتخابی اصلاحات اور قومی معاملات پر بحث کریں گی تو جمہوری نظام مضبوط ہوگا۔ اس کے برعکس اگر ہر مسئلہ سڑکوں، جلسوں اور احتجاجی تحریکوں کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جائے گی تو پارلیمانی اداروں کی اہمیت کم ہوگی۔ احتجاج جمہوری حق ہے، لیکن احتجاج کو مذاکرات اور پارلیمانی عمل کا متبادل نہیں بنایا جا سکتا۔
اپوزیشن کے لیے بھی یہ موقع اہم ہے۔ اگر حکومت مذاکرات کی دعوت دے رہی ہے تو اپوزیشن کو اپنی شرائط اور مطالبات واضح انداز میں پیش کرنے چاہئیں۔ اگر کوئی انتخابی یا سیاسی مسئلہ ہے تو اس کے حل کے لیے قابلِ عمل تجاویز سامنے آنی چاہئیں۔ مذاکرات سے انکار صرف اس بنیاد پر نہیں ہونا چاہیے کہ حکومت مخالف سیاسی بیانیہ متاثر ہوگا۔ سیاسی جماعتیں عوامی حمایت احتجاج سے حاصل کر سکتی ہیں، لیکن قومی مسائل کا دیرپا حل بہرحال مذاکرات اور آئینی اداروں کے ذریعے ہی نکلتا ہے۔
اسی طرح حکومت کو بھی یہ توقع نہیں رکھنی چاہیے کہ اپوزیشن فوری طور پر تمام اعتراضات سے دستبردار ہو جائے گی۔ مذاکرات کا حسن یہی ہے کہ دونوں فریق کچھ مانتے ہیں اور کچھ منواتے ہیں۔ اگر حکومت صرف اپنی شرائط منوانے کے لیے مذاکرات کرے گی تو یہ حقیقی مکالمہ نہیں ہوگا۔ اسی طرح اگر اپوزیشن صرف حکومت کو ناکام ثابت کرنے کے لیے مذاکرات میں شامل ہوگی تو نتیجہ خیز پیش رفت ممکن نہیں ہوگی۔ کامیاب مذاکرات کے لیے دونوں طرف سے سیاسی پختگی درکار ہے۔
عوام کے نقط? نظر سے دیکھا جائے تو سب سے اہم سوال یہ ہے کہ سیاسی مذاکرات سے انہیں کیا حاصل ہوگا۔ اگر مذاکرات کے نتیجے میں سیاسی کشیدگی کم ہوتی ہے، پارلیمان فعال ہوتی ہے، معاشی پالیسیوں میں تسلسل آتا ہے، سرمایہ کاری کا ماحول بہتر ہوتا ہے اور حکومت عوامی مسائل پر زیادہ توجہ دیتی ہے تو اس کا فائدہ براہِ راست عوام کو پہنچے گا۔ لیکن اگر مذاکرات صرف سیاسی فوٹو سیشن یا وقتی بیان بازی تک محدود رہے تو اس سے عوام کی مایوسی مزید بڑھے گی۔
اس لیے حکومت اور اپوزیشن دونوں کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ پاکستان کسی ایک جماعت، گروہ یا حکومت کی ملکیت نہیں۔ سیاسی حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، مگر ریاست اور اس کے ادارے مستقل ہوتے ہیں۔ آج جو جماعت حکومت میں ہے، وہ کل اپوزیشن میں ہو سکتی ہے اور آج جو جماعت اپوزیشن میں ہے، وہ مستقبل میں اقتدار کا حصہ بن سکتی ہے۔ اس لیے سیاسی رویوں میں مستقل دشمنی کے بجائے اصولی اختلاف اور جمہوری برداشت کو فروغ دینا ہی دانش مندی ہے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ سیاسی قیادتیں عوام کے حقیقی مسائل کو اپنے مذاکراتی ایجنڈے کا حصہ بنائیں۔ مہنگائی، بے روزگاری، بجلی اور گیس کے مسائل، تعلیم، صحت، زراعت، صنعت، نوجوانوں کے لیے روزگار اور کاروباری مواقع ایسے معاملات ہیں جن پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اتفاقِ رائے پیدا ہونا مشکل نہیں ہونا چاہیے۔ سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن عوامی فلاح کے معاملات کو سیاسی تقسیم سے بالاتر رکھا جا سکتا ہے۔
آخرکار وزیراعظم کی مذاکرات کی دعوت کو ایک مثبت سیاسی قدم کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، تاہم اس کی کامیابی کا انحصار دونوں جانب کی سنجیدگی پر ہے۔ حکومت کو مذاکرات کے لیے ایسا ماحول فراہم کرنا ہوگا جس میں اپوزیشن اپنے تحفظات بلاخوف پیش کر سکے، جبکہ اپوزیشن کو بھی سیاسی مفاد سے بالاتر ہو کر قومی ضرورت کو سامنے رکھنا ہوگا۔ اختلافِ رائے جمہوریت کی علامت ہے، لیکن مستقل محاذ آرائی جمہوریت کی طاقت نہیں بلکہ کمزوری بن سکتی ہے۔
پاکستان کو اس وقت سیاسی استحکام، معاشی تسلسل اور بہتر گورننس کی ضرورت ہے۔ یہ تینوں تقاضے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ سیاسی عدم استحکام معیشت کو متاثر کرتا ہے، کمزور معیشت عوامی بے چینی بڑھاتی ہے اور عوامی بے چینی سیاسی کشیدگی کو مزید ہوا دیتی ہے۔ اس دائرے کو توڑنے کے لیے سیاسی مکالمہ ناگزیر ہے۔ حکومت اگر مذاکرات کا دروازہ کھولتی ہے تو اسے کھلا رکھنے، اپوزیشن اگر میز پر آتی ہے تو سنجیدگی کے ساتھ بیٹھنے اور دونوں فریق اگر اتفاقِ رائے کی طرف بڑھتے ہیں تو اسے عملی پالیسیوں میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔
جمہوریت میں کامیابی صرف انتخابات جیتنے کا نام نہیں بلکہ اختلاف کے باوجود نظام کو چلانے کی صلاحیت کا نام بھی ہے۔ حکومت اور اپوزیشن اگر ایک دوسرے کو ختم کرنے کے بجائے ایک دوسرے کے آئینی کردار کو تسلیم کریں، پارلیمان کو مؤثر بنائیں، آئین کی پاسداری کریں، اچھی حکمرانی کو ترجیح دیں اور عوامی مسائل کو سیاسی ترجیحات میں سب سے اوپر رکھیں تو ملک میں اعتماد کی نئی فضا پیدا ہو سکتی ہے۔ وزیراعظم کی تازہ مذاکراتی پیشکش اسی وسیع تر قومی ضرورت کے تناظر میں ایک موقع فراہم کرتی ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس موقع کو سیاسی ضد، انا اور وقتی مفادات کی نذر نہ کیا جائے۔
تالی یقیناً دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے۔ حکومت اگر واقعی سیاسی استحکام چاہتی ہے تو اسے مذاکرات میں کشادہ دلی دکھانا ہوگی، جبکہ اپوزیشن کو بھی یہ ثابت کرنا ہوگا کہ اس کی سیاست کا آخری مقصد اقتدار کا حصول نہیں بلکہ ملک کے جمہوری، آئینی اور عوامی نظام کو مضبوط بنانا ہے۔ سیاسی اختلافات ختم نہیں ہوں گے اور نہ ہی ان کا ختم ہونا ضروری ہے، لیکن ان اختلافات کو مہذب، آئینی اور جمہوری حدود میں ضرور رکھا جا سکتا ہے۔ یہی راستہ پاکستان کو سیاسی کشیدگی کے موجودہ دائرے سے نکال کر استحکام، معاشی ترقی اور بہتر طرزِ حکمرانی کی طرف لے جا سکتا ہے۔
متعلقہ پوسٹیں
[…] پاکستان میں مذاکرات ہی سیاسی استحکام اور جمہوری تسلسل … […]