تجزیہ بی این پی
پاکستان جیسے زرعی ملک میں اگر عام آدمی کو دو وقت کی روٹی بھی مہنگے داموں ملے تو یہ محض مہنگائی کا مسئلہ نہیں بلکہ انتظامی کمزوری، پالیسی کے فقدان اور سپلائی نظام کی ناکامی کا واضح اظہار ہے۔ پنجاب میں تنور مالکان کی جانب سے روٹی کی قیمت میں ازخود اضافہ کرکے اسے 25 روپے تک پہنچا دینا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ سرکاری نرخ مقرر کرنے کے باوجود ان پر عمل درآمد کرانے کا مؤثر نظام موجود نہیں۔ صوبائی حکومت نے روٹی کا نرخ 14 روپے مقرر کر رکھا ہے، مگر عملی صورت حال یہ ہے کہ بیشتر علاقوں میں شہریوں کو یہی روٹی 20 سے 25 روپے میں خریدنا پڑ رہی ہے۔ اس طرح سرکاری نرخ اور بازار کی قیمت کے درمیان نمایاں فرق پیدا ہو چکا ہے جس کا براہ راست بوجھ عام صارف برداشت کر رہا ہے۔
یہ صورتحال ایسے وقت میں پیدا ہوئی ہے جب ملک کا عام شہری پہلے ہی مہنگائی، محدود آمدنی، بے روزگاری اور روزمرہ اخراجات میں مسلسل اضافے کے باعث شدید مالی دباؤ کا شکار ہے۔ خوراک بنیادی انسانی ضرورت ہے اور روٹی پاکستانی معاشرے میں غریب اور متوسط طبقے کی خوراک کا بنیادی حصہ سمجھی جاتی ہے۔ جب اس بنیادی ضرورت کی قیمت میں بھی مسلسل اضافہ ہونے لگے تو اس کے اثرات صرف گھریلو بجٹ تک محدود نہیں رہتے بلکہ معاشرتی بے چینی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ کم آمدنی والے خاندان اپنے اخراجات میں سب سے پہلے خوراک، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں سمجھوتہ کرنے پر مجبور ہوتے ہیں، جو طویل مدت میں انسانی ترقی کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔
تجزیہ بی پی کے مطابق روٹی کی قیمت میں موجودہ اضافہ صرف تنور مالکان کو مورد الزام ٹھہرا کر حل نہیں کیا جا سکتا۔ مسئلے کی جڑ گندم، آٹے، ایندھن، بجلی، مزدوری، کرایوں اور سپلائی چین کے پورے نظام میں موجود ہے۔ اگر حکومت صرف روٹی کا سرکاری نرخ مقرر کر دے لیکن تنور تک پہنچنے والے آٹے اور ایندھن کی قیمتیں قابو میں نہ رکھ سکے تو مقررہ نرخ پر روٹی کی فراہمی ایک مشکل ہدف بن جاتی ہے۔ اس لیے حکومت کو قیمت کے آخری مرحلے کے بجائے پورے نظام کا جائزہ لینا ہوگا۔
اس معاملے کا سب سے اہم پہلو گندم کی دستیابی اور حکومتی خریداری سے متعلق ہے۔ اگر ملک میں گندم کی پیداوار اچھی ہوئی ہے تو اصولی طور پر اس کا فائدہ عوام کو آٹے اور روٹی کی نسبتاً مستحکم قیمت کی صورت میں ملنا چاہیے۔ لیکن اگر حکومتی خریداری میں تاخیر ہو، پالیسی بار بار تبدیل ہو یا مارکیٹ کو غیر یقینی صورت حال کا سامنا ہو تو ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی قلت کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں پیداوار کی بہتری کا فائدہ براہ راست صارف تک منتقل نہیں ہوتا بلکہ سپلائی چین کے مختلف مراحل میں قیمت بڑھتی چلی جاتی ہے۔
گندم کی قیمت اور آٹے کے نرخ کو مستحکم رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ حکومت فصل کی پیداوار، سرکاری خریداری، نجی شعبے کی خرید، ذخیرہ گاہوں، فلور ملوں، آٹا ڈیلروں اور تنوروں تک پہنچنے والے خام مال کے درمیان مربوط نظام قائم کرے۔ محض اعلانات اور نرخ نامے جاری کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ انتظامیہ کو یہ دیکھنا ہوگا کہ گندم کہاں موجود ہے، کس قیمت پر خریدی جا رہی ہے، آٹا کس نرخ پر تیار ہو رہا ہے اور تنور تک پہنچتے پہنچتے اس کی قیمت میں کتنا اضافہ ہو رہا ہے۔
ذخیرہ اندوزی بھی موجودہ بحران کا ایک اہم پہلو ہے۔ اگر کسی بنیادی خوراک کی وافر پیداوار کے باوجود اس کی قیمت میں اضافہ ہو جائے تو اس کے اسباب کا سنجیدگی سے جائزہ لینا ضروری ہے۔ حکومت کو ایسے عناصر کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے جو مصنوعی قلت پیدا کرکے عوام کی مجبوری سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ تاہم کارروائی صرف چھوٹے دکاندار یا تنور مالک تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ پوری سپلائی چین میں جہاں کہیں غیر قانونی ذخیرہ اندوزی، ناجائز منافع خوری یا مصنوعی قلت کا ثبوت ملے وہاں بلاامتیاز کارروائی ہونی چاہیے۔
دوسری طرف تنور مالکان کے مسائل کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ کاروباری طبقے کے لیے آٹا، گیس، بجلی، پانی، مزدوری، دکان کا کرایہ اور دیگر اخراجات بنیادی پیداواری لاگت کا حصہ ہیں۔ اگر ان اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو جائے تو صرف ایک پرانے سرکاری نرخ پر کاروبار جاری رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔ حکومت کو تنور مالکان سے مذاکرات کرکے ان کے حقیقی اخراجات کا جائزہ لینا چاہیے اور ایسا نرخ مقرر کرنا چاہیے جو صارف اور کاروباری طبقے دونوں کے لیے قابل عمل ہو۔
خصوصاً ایل پی جی کی قیمت اس معاملے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اگر بیشتر تنور ایل پی جی استعمال کرتے ہیں اور انہیں یہ گیس سرکاری نرخ سے کہیں زیادہ قیمت پر خریدنا پڑتی ہے تو روٹی کی قیمت پر اس کا اثر لازمی پڑے گا۔ حکومت اگر عوام کو سستی روٹی فراہم کرنا چاہتی ہے تو اسے تنوروں کے لیے ایندھن کی دستیابی اور قیمت کا مسئلہ بھی حل کرنا ہوگا۔ صرف تنور مالکان کو نرخ کم رکھنے کا حکم دینا اس وقت تک مؤثر نہیں ہو سکتا جب تک ان کے بنیادی اخراجات کو حقیقت پسندانہ انداز میں مدنظر نہ رکھا جائے۔
تجزیہ بی پی یہ واضح کرتا ہے کہ سستی روٹی کے لیے سبسڈی یا مصنوعی نرخ مقرر کرنے کے بجائے ایک جامع اور شفاف قیمتوں کا نظام زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔ حکومت کو گندم سے آٹے اور آٹے سے روٹی تک قیمتوں کی نگرانی کے لیے جدید نظام وضع کرنا چاہیے۔ ضلعی انتظامیہ کو صرف چھاپوں اور جرمانوں تک محدود رکھنے کے بجائے روزانہ کی بنیاد پر آٹے اور گندم کے نرخ، دستیابی اور تنوروں کی قیمتوں کا ڈیٹا مرتب کرنا چاہیے۔ اس سے کسی بھی غیر معمولی اضافے کا بروقت سراغ لگایا جا سکتا ہے۔
روٹی کی قیمت میں اضافے کا ایک پہلو شہری انتظامیہ کی کارکردگی سے بھی جڑا ہوا ہے۔ اگر حکومت نے ایک نرخ مقرر کیا ہے تو اس نرخ پر عمل درآمد بھی اسی کی ذمہ داری ہے۔ مارکیٹ میں 20 سے 25 روپے کی روٹی فروخت ہو رہی ہو اور سرکاری نرخ 14 روپے ہو تو اس کا مطلب ہے کہ نگرانی کا نظام مؤثر نہیں۔ صرف نرخ نامے آویزاں کرنے سے صارف کو ریلیف نہیں ملتا۔ ضروری ہے کہ ضلعی انتظامیہ بازاروں کی مؤثر نگرانی کرے، خلاف ورزی کی صورت میں کارروائی کرے اور عوام کو شکایت درج کرانے کا آسان اور قابل اعتماد طریقہ فراہم کرے۔
تاہم کارروائی میں توازن بھی ضروری ہے۔ اگر حکومت ہر اضافے کو صرف ناجائز منافع خوری قرار دے کر تنور مالکان کے خلاف کارروائی کرے گی تو مسئلہ مستقل طور پر حل نہیں ہوگا۔ اس کے نتیجے میں بعض تنور بند بھی ہو سکتے ہیں، جس سے شہریوں کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس لیے قیمت کے تعین میں حقیقی لاگت، صارف کی قوت خرید اور کاروباری ضرورتوں تینوں کو سامنے رکھنا چاہیے۔ ایک ایسا نرخ مقرر ہونا چاہیے جو عوام کے لیے قابل برداشت اور تنور مالکان کے لیے معاشی طور پر قابل عمل ہو۔
پاکستان میں غذائی تحفظ کا مسئلہ بھی اسی بحث کا اہم حصہ ہے۔ زرعی ملک ہونے کے باوجود اگر شہریوں کو بنیادی غذائی اشیا کے لیے زیادہ قیمت ادا کرنا پڑے تو اس کا مطلب ہے کہ پیداوار اور صارف کے درمیان موجود نظام میں کہیں بنیادی خرابی موجود ہے۔ کسان کو مناسب معاوضہ نہ ملے، صارف کو مہنگی خوراک خریدنی پڑے اور درمیان کے مختلف مراحل میں قیمت بڑھتی رہے تو پورا نظام غیر متوازن ہو جاتا ہے۔ حکومت کو زرعی پالیسی کو صرف پیداوار بڑھانے تک محدود نہیں رکھنا چاہیے بلکہ فصل سے لے کر صارف تک مکمل ویلیو چین کو بہتر بنانا چاہیے۔
گندم کے معاملے میں مستقل پالیسی ناگزیر ہے۔ کسان کو پہلے سے معلوم ہونا چاہیے کہ حکومت کب اور کس طریقہ کار کے تحت گندم خریدے گی، نجی شعبے کا کردار کیا ہوگا اور درآمد و برآمد کی پالیسی کیا ہوگی۔ اچانک فیصلے اور بار بار پالیسی تبدیلیاں مارکیٹ میں غیر یقینی پیدا کرتی ہیں۔ اس غیر یقینی کا فائدہ وہ عناصر اٹھاتے ہیں جو ذخیرہ اندوزی یا قیاس آرائی کے ذریعے قیمتوں میں مصنوعی اتار چڑھاؤ پیدا کرتے ہیں۔
اسی طرح آٹے کی ملوں اور ڈیلروں کی نگرانی بھی ضروری ہے۔ اگر حکومت تنور کی قیمت دیکھتی رہے لیکن آٹے کی قیمت اور معیار کی نگرانی نہ کرے تو مکمل نظام قابو میں نہیں آ سکتا۔ آٹے کی فراہمی میں رکاوٹ یا قیمت میں غیر معمولی اضافہ بالآخر روٹی کے نرخ پر اثر انداز ہوگا۔ اس لیے ایک مربوط نگرانی کا نظام قائم کیا جانا چاہیے جس میں صوبائی حکومت، ضلعی انتظامیہ، محکمہ خوراک، فلور ملز اور تنور مالکان سب شامل ہوں۔
عام شہری کے لیے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اسے سستی اور معیاری روٹی کب دستیاب ہوگی۔ اس سوال کا جواب کسی ایک محکمے کے پاس نہیں بلکہ پورے حکومتی نظام کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ حکومت اگر عوام کو حقیقی ریلیف دینا چاہتی ہے تو اسے محض وقتی اقدامات کے بجائے مستقل بنیادوں پر خوراک کی قیمتوں کو مستحکم کرنے کی پالیسی بنانا ہوگی۔ اس کے لیے گندم کی خریداری، ذخیرہ، آٹے کی تیاری، ایندھن کی فراہمی اور روٹی کی قیمت تک پورے سلسلے کو ایک ہی پالیسی فریم ورک میں لانا ضروری ہے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ قیمتوں کے تعین میں شفافیت پیدا کی جائے۔ حکومت کو واضح طور پر بتایا چاہیے کہ روٹی کے مقررہ نرخ میں آٹے، ایندھن، مزدوری اور دیگر اخراجات کا کتنا حصہ شامل ہے۔ اگر لاگت میں تبدیلی آتی ہے تو نرخ کے ازسرنو تعین کے لیے باقاعدہ طریقہ کار موجود ہونا چاہیے۔ اس سے نہ صرف تنور مالکان کو کاروباری یقین ملے گا بلکہ عوام کو بھی معلوم ہوگا کہ قیمت کس بنیاد پر مقرر کی گئی ہے۔
روٹی عوام کی بنیادی ضرورت ہے، اس لیے اس کی قیمت میں غیر معمولی اضافہ کسی بھی صورت معمولی معاملہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ حکومت کو فوری طور پر صوبے بھر میں روٹی کے نرخ، آٹے کی دستیابی، گندم کے ذخائر اور ایل پی جی کی قیمتوں کا جائزہ لینا چاہیے۔ جہاں مصنوعی مہنگائی یا ذخیرہ اندوزی ثابت ہو وہاں سخت کارروائی کی جائے، جبکہ جائز کاروباری اخراجات کو بھی قیمت کے تعین میں شامل کیا جائے۔
آخرکار مسئلہ صرف 14، 20 یا 25 روپے کی روٹی کا نہیں بلکہ ریاستی نظم و نسق اور عوامی فلاح کے تصور کا ہے۔ اگر ایک زرعی ملک میں عام شہری بنیادی خوراک کی قیمت ادا کرنے سے قاصر ہونے لگے تو حکومتی ترجیحات پر سوال اٹھنا فطری ہے۔ عوام کو ریلیف دینے کے لیے حکومت کو گندم سے تنور تک پوری سپلائی چین کو شفاف، مؤثر اور قابل نگرانی بنانا ہوگا۔ ذخیرہ اندوزی کے خاتمے، آٹے کی مناسب فراہمی، ایندھن کے نرخ میں استحکام اور انتظامی نگرانی کے ذریعے ہی روٹی کی قیمت کو پائیدار بنیادوں پر قابو میں لایا جا سکتا ہے۔ سستی روٹی کسی وقتی سیاسی اعلان کا نام نہیں بلکہ مؤثر حکمرانی، درست معاشی پالیسی اور عوامی ترجیحات کا عملی امتحان ہے۔