غلاف کی تبدیلی کے عمل میں کسوہ فیکٹری کے 250 ماہرین اور حرمین انتظامیہ کے کارکنان نے حصہ لیا،سعودی حکام
مکہ مکرمہ(انٹرنیشنل نیوز) سعودی عرب میں نئے اسلامی سال کے آغاز کے ساتھ ہی خانہ کعبہ کے غلاف (کسوہ)کی تبدیلی کی پروقار اور روح پرور تقریب منعقد کی گئی، جس میں حرمین شریفین کے امور کی نگرانی کرنے والے اداروں کے اہلکاروں اور کسوہ فیکٹری کے ماہرین نے شرکت کی۔
سعودی حکام کے مطابق مسجد الحرام میں غلافِ کعبہ کی تبدیلی کا عمل انتہائی منظم انداز میں مکمل کیا گیا۔
اس مقصد کے لیے مکہ مکرمہ میں قائم کسوہ فیکٹری سے نیا غلاف خصوصی انتظامات کے تحت مسجد الحرام منتقل کیا گیا، جہاں ماہرین نے خانہ کعبہ پر نیا غلاف چڑھانے کی سعادت حاصل کی۔
حکام کا کہنا تھا کہ غلاف کی تبدیلی کے عمل میں کسوہ فیکٹری کے 250 ماہرین اور حرمین انتظامیہ کے کارکنان نے حصہ لیا۔
اس دوران پرانے غلاف کو احتیاط سے اتارا گیا اور اس کی جگہ نیا غلاف نصب کیا گیا۔ غلاف کی تبدیلی کا یہ مکمل مرحلہ تقریبا چار گھنٹوں میں پای تکمیل تک پہنچا۔
غلافِ کعبہ خالص ریشم سے تیار کیا جاتا ہے جس پر سونے اور چاندی کے دھاگوں سے قرآنی آیات اور اسلامی نقوش کشیدہ کیے جاتے ہیں۔
اس کی تیاری میں مہینوں کی محنت اور اعلی درجے کی مہارت شامل ہوتی ہے جبکہ اس مقصد کے لیے خصوصی طور پر قائم کسوہ فیکٹری میں ماہر کاریگر اپنی خدمات انجام دیتے ہیں۔
واضح رہے کہ سن 2022 سے غلافِ کعبہ کی تبدیلی کی سالانہ تقریب یکم محرم الحرام کو منعقد کی جا رہی ہے تاکہ نئے ہجری سال کا آغاز اس مبارک روایت کے ساتھ کیا جا سکے۔
اس سے قبل کئی دہائیوں تک غلافِ کعبہ ہر سال 9 ذی الحجہ کی صبح تبدیل کیا جاتا تھا۔
اس وقت حجاج کرام مناسکِ حج کی ادائیگی کے لیے میدانِ عرفات روانہ ہو چکے ہوتے تھے، جس کے باعث مسجد الحرام میں زائرین کی تعداد نسبتا کم ہوتی تھی اور انتظامی امور انجام دینا آسان ہوتا تھا۔
دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے غلافِ کعبہ کی تبدیلی کا یہ منظر انتہائی عقیدت اور روحانیت کا حامل ہوتا ہے۔
ہر سال اس مبارک موقع کی تصاویر اور مناظر لاکھوں افراد کی توجہ کا مرکز بنتے ہیں اور امتِ مسلمہ کے لیے تجدیدِ ایمان اور اتحاد کی علامت تصور کیے جاتے ہیں۔
