کوئٹہ(کرائم رپورٹر )صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے علاقے غلزئی روڈ پر پیش آنے والے فائرنگ کے ایک ہولناک واقعے میں پانچ افراد شدید زخمی ہو گئے ہیں، جبکہ فائرنگ کے بعد مسلح ملزم ایک قریبی پلازے میں جا کر چھپ گیا ہے جس پر پولیس نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے کر کارروائی شروع کر دی ہے۔
یہ افسوسناک واقعہ تھانہ قائد آباد کی حدود میں پیش آیا، جہاں اچانک ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور شہریوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔
پولیس ذرائع کے مطابق فائرنگ کے نتیجے میں زخمی ہونے والوں کی شناخت احمد اللہ ولد نصراللہ (قوم کاکڑ، سکنہ کاکڑ کالونی)، رحیم اللہ ولد عبدالحکیم (قوم نورزئی، سکنہ پشتون آباد)، محمد صدام ولد نور محمد شاہ (قوم سید، سکنہ غلزئی روڈ)، بلال ولد اللہ محمد (قوم سید، سکنہ پشتون آباد) اور مولوی شاعر ولد نامعلوم (قوم درانی، سکنہ پشتون آباد) کے ناموں سے ہوئی ہے۔
تمام زخمیوں کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں انہیں علاج معالجہ فراہم کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعے میں نامزد ملزم کی شناخت رحیم خان ولد فضل (قوم تاجک، سکنہ غلزئی روڈ نزد نیچاری روڈ) کے نام سے ہوئی ہے، جو فائرنگ کے بعد موقع سے فرار ہونے کے بجائے غلزئی روڈ پر واقع ایک پلازے میں جا کر روپوش ہو گیا ہے اور اس کے پاس اسلحہ بھی موجود ہے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر پلازے کے اطراف ناکہ بندی کر دی ہے۔
پولیس حکام کے مطابق مسلح ملزم کو زندہ گرفتار کرنے کے لیے آپریشن جاری ہے اور شہریوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ فائرنگ کے اصل محرکات کا پتہ لگانے کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
