دو خواتین کے ناموں کے ساتھ “Mr.” درج ہونے پر دفتری نظام اور نگرانی کے طریقہ کار پر سوالات اٹھ گئے
کوئٹہ(سٹاف رپورٹر )محکمہ تعلیم بلوچستان کی جانب سے جاری کیے گئے ایک سرکاری نوٹیفکیشن میں حیران کن اور سنگین نوعیت کی دفتری غفلت سامنے آئی ہے، جس میں دو خواتین افسران یا ملازمین کے ناموں کے ساتھ غلطی سے “Mr.” تحریر کر دیا گیا۔
اس غیر معمولی غلطی نے محکمہ کے انتظامی و دفتری نظام، دستاویزات کی جانچ پڑتال اور ذمہ دارانہ طرز عمل پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
مذکورہ نوٹیفکیشن میں خواتین کے ناموں کے ساتھ مرد حضرات کے لیے استعمال ہونے والا سابقہ “Mr.” درج کیے جانے کے بعد سوشل میڈیا اور مختلف حلقوں میں اس معاملے پر تنقید کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
صارفین اور تعلیم سے وابستہ افراد نے اس غلطی کو محض ایک ٹائپنگ ایرر قرار دینے کے بجائے محکمانہ سطح پر عدم توجہی اور مناسب نگرانی کے فقدان کی عکاسی قرار دیا ہے۔
تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ سرکاری نوٹیفکیشنز نہ صرف متعلقہ محکموں کی نمائندگی کرتے ہیں بلکہ ان کی بنیاد پر اہم انتظامی فیصلے اور سرکاری ریکارڈ مرتب کیا جاتا ہے، اس لیے ایسے دستاویزات میں معمولی نوعیت کی غلطیوں سے بھی اداروں کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ نوٹیفکیشن جاری کرنے سے قبل اس کی متعدد سطحوں پر جانچ پڑتال کی جاتی ہے، اس کے باوجود اس نوعیت کی غلطی کا سامنے آنا تشویش کا باعث ہے۔
تعلیمی حلقوں اور سول سوسائٹی کے بعض نمائندوں نے اس واقعے کو دفتری امور میں احتیاط، پیشہ ورانہ معیار اور نگرانی کے مثر نظام کی ضرورت کی ایک واضح مثال قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ سرکاری دستاویزات میں درست معلومات کی فراہمی اور مناسب تدوین ہر متعلقہ افسر اور عملے کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
ذرائع کے مطابق اس واقعے کے بعد محکمہ تعلیم بلوچستان کے اندر بھی اس معاملے پر توجہ دی جا رہی ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مذکورہ نوٹیفکیشن میں ضروری تصحیح کرتے ہوئے نیا یا ترمیم شدہ اعلامیہ جاری کیا جا سکتا ہے۔
