کوئٹہ(سٹاف رپورٹڑ )صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے بولان میڈیکل کمپلیکس (بی ایم سی) ہسپتال میں مبینہ طور پر ڈاکٹرز اور طبی عملے کی عدم موجودگی اور لاپرواہی کے باعث ایک اور نوجوان کے جاں بحق ہونے کی افسوسناک اطلاع سامنے آئی ہے۔
لواحقین کے مطابق، نوجوان کو تشویشناک حالت میں ہسپتال لایا گیا تھا مگر وہاں عملہ موجود نہ ہونے کی وجہ سے اسے بروقت طبی امداد نہ مل سکی، جس کے باعث وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جانبر نہ ہو سکا۔
ہسپتال میں موجود ایک شہری نے اس تمام واقعے اور عملے کی غیبت کی ویڈیو ریکارڈ کر کے سوشل میڈیا پر وائرل کر دی ہے اور اعلی حکام سے اس کھلی غفلت پر فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
واقعے کے بعد جاں بحق ہونے والے نوجوان کے لواحقین نے بی ایم سی ہسپتال کے انتظامی معاملات اور سروس ڈیلیوری پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے حکومتِ بلوچستان اور محکمہ صحت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کی فوری اور شفاف تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دی جائے اور غفلت ثابت ہونے پر ذمہ دار ڈاکٹرز و عملے کے خلاف سخت قانونی و تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
عوامی و سماجی حلقوں کا بھی کہنا ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں غریب مریضوں کو بروقت علاج اور بنیادی طبی سہولیات کی فراہمی ہر صورت یقینی بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے تاکہ آئندہ ایسے کسی لاپرواہ رویے کی وجہ سے کسی بھی قیمتی انسانی جان کا ضائع ہونا ممکن نہ ہو سکے۔
