jahaneimroz
Chief editor Faizullah Durrani

حبیب جالب کی بیٹی کو ریڑھی لگانے سے روک دیا گیا، طاہرہ نے بھتہ طلب کرنے کا الزام عائد کردیا

طاہرہ حبیب جالب کی ریڑھی ہٹانے کا معاملہ، سندھ کے وزیر ثقافت ذوالفقار علی شاہ کا نوٹس، تعاون کی یقین دہانی

لاہور(شوبز نیوز)نامور مرحوم شاعر حبیب جالب کی صاحبزادی طاہرہ حبیب جالب معاشی حالات سے مجبور ہو کر گھر سے کھانا بنا کر ماڈل ٹان بازار کے قریب ایک ریڑھی پر فروخت کرنے لگیں، تاہم انہیں کام سے روک دیا گیا۔

پسے ،مستحق طبقات کی مدد محض وقتی نہیں مستقل بنیادوں پر ہونی چاہیے’ ریشم

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے طاہرہ نے بتایا کہ پہلے میونسپل کارپوریشن کے افراد نے ان کے کام کو آ کر سراہا بھی تھا، لیکن پہلے ہی دن انہیں یہ کام کرنے سے روک دیا گیا۔طاہرہ حبیب کے مطابق میونسپل کارپوریشن کے افراد نے کہا کہ آپ حبیب جالب کی بیٹی ہیں اور ریڑھی لگا کر مزدوری کر رہی ہیں، ہم آپ کو سلام پیش کرتے ہیں۔

میں نے انہیں جواب دیا کہ محنت میں کوئی شرم نہیں کرنی چاہئے، میں نے تو اپنے باپ سے بھی یہی سیکھا ہے، لیکن کچھ دیر بعد دوسرے افراد میری ریڑھی پر آئے اور میرے جاننے والے رکشہ ڈرائیور سے، جو اس وقت وہاں موجود تھا، کہنے لگے کہ یہ سامان سمیٹو اور کہیں اور جائو۔طاہرہ نے کہا کہ ان افراد نے خود کو میونسپل کارپوریشن کا عملہ ہی ظاہر کیا تھا۔ شور ہونے پر جب میں ریڑھی پر پہنچی تو میں نے وجہ پوچھی، جس پر مجھے جواب دیا گیا کہ آپ اپنا سامان اٹھا لیں اور یہ سب بند کریں۔ طاہرہ نے کہا کہ میں نے ہزاروں روپے خرچ کر کے یہ سامان تیار کیا تھا، میں نے کس دل سے ریڑھی سمیٹی، میں ہی جانتی ہوں۔

علی انصاری ، نادیہ خان کی حمایت میں سامنے آ گئے

طاہرہ نے اپنے ساتھ ہونے والے سلوک کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر پوسٹ کی اور سوال اٹھایا کہ نامور شاعر کی بیٹی ہونے کے باوجود جب ان کے ساتھ یہ سلوک کیا گیا ہے تو ایک عام شہری کے ساتھ کیا کیا جاتا ہوگا؟ وہ بھی ایک ایسے صوبے میں جس کا نظام خود ایک خاتون وزیر اعلیٰ کے ہاتھ میں ہو۔اس ویڈیو پر وزیر ثقافت سندھ نے بھی نوٹس لے کر طاہرہ حبیب سے رابطہ کیا تھا۔

ذوالفقار علی شاہ نے طاہرہ حبیب کو یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ ان کا رابطہ گورنر پنجاب سے کروائیں گے۔ طاہرہ نے بتایا کہ ابھی تک پنجاب حکومت میں سے کسی نے بھی ان سے رابطہ نہیں کیا ہے۔واضح رہے کہ نامور شاعر حبیب جالب کی صاحبزادی طاہرہ حبیب جالب نے ریڑھی لگانے کے لیے جون میں ڈی سی آفس لاہور میں درخواست جمع کروائی تھی۔ درخواست کے متن میں طاہرہ نے حکومت پنجاب سے ماڈل ریڑھی بازار منصوبے کے تحت ریڑھی لگانے کی درخواست کی تھی۔

طاہرہ حبیب نے بتایا کہ یہ درخواست کس وجہ سے رد کی گئی، انہیں اس کی وجہ نہیں معلوم۔ مجھے کہا گیا کہ آپ ریڑھی حاصل کرنے کے حکومتی پیمانے پر پوری نہیں اترتیں۔ مجھے حیرت ہوئی کہ اگر کوئی وجہ تھی تو مجھے وہ جاننے کا بحیثیت شہری حق ہے، اس کے باوجود مجھے کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔طاہرہ نے تصدیق کی کہ ان سے بھتہ دے کر ریڑھی لگانے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے یہ درخواست پرویز رشید کو بھی بھیجی تھی تاکہ کوئی کارروائی کی جا سکے۔طاہرہ کے مطابق، میں 2014سے پرائیویٹ کیب سروس چلا رہی ہوں، جس سے میں نے اپنی گاڑی کی قسطیں بھری ہیں۔ میں کسی کے آگے ہاتھ پھیلانا اچھا نہیں سمجھتی اور محنت مزدوری کرنے کو ترجیح دیتی ہوں۔

سوال یہ ہے کہ درخواست رد کی جا رہی ہے اور بھتے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، یہ کون سا قانون ہے؟طاہرہ نے کہا کہ میں پنجاب حکومت سے درخواست نہیں، انہیں تجویز کروں گی کہ وہ اپنے پیمانوں کو واضح اور نرم کریں تاکہ خواتین بھی اپنے روزگار کو چلا سکیں۔بعد ازاں سندھ کے صوبائی وزیر ثقافت و سیاحت، نوادرات سید ذوالفقار علی شاہ نے گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان اور طاہرہ حبیب جالب سے رابطہ کیا اور طاہرہ حبیب جالب کو روزگار میں تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

طاہرہ حبیب جالب نے صوبائی وزیر سید ذوالفقار علی شاہ سے محکمہ بلدیہ پنجاب کے رویے کی شکایت کی۔صوبائی وزیر سید ذوالفقار علی شاہ نے متعلقہ وزیر سے بات کر کے معاملے کو حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ صوبائی وزیر سید ذوالفقار علی شاہ نے گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان کو طاہرہ حبیب جالب سے ملاقات کرنے کی درخواست کی۔صوبائی وزیر سید ذوالفقار علی شاہ نے کہا کہ حبیب جالب مرحوم کے خاندان کا خیال رکھا جائے گا، پاکستان پیپلزپارٹی ان کے ساتھ ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More